پوپ نے امن مذاکرات پر زور دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینیڈکٹ نے امریکی صدر جارج بُش سے کہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کا ایک ’علاقائی اور مذاکرات پر مبنی‘ حل دیکھنا پسند کریں گے۔ ویٹیکن کے بیان کے مطابق پوپ نے عراق میں جنگ اور وہاں عیسائیوں کی حالت کے معاملات بھی اٹھائے اور لاطینی امریکہ پر بھی ’تبادلہ خیال‘ کیا۔ دونوں کے درمیان تخلیے میں ہونے والی ملاقات نصف گھنٹہ جاری رہی اور بیان کے مطابق یہ ’اچھی‘ رہی۔ سنیچر کے روز روم میں عراق پر حملے کے خلاف ہزاروں افراد کے مظاہرے کی خبر کے پس منظر میں صدر بُش نے اطالوی وزیر اعظم رومانو پروڈی کے ساتھ ملاقات بھی کی۔ علیحدگی میں ملاقات سے قبل جب دونوں نے مصافحہ کیا تو صدر بش نے پوپ سے کہا کہ جی ایٹ اجلاس کامیاب رہا۔ اس پر پوپ نے پوچھا کہ روسی صدر ولادمیر پوتن سے بات چیت ’بھی اچھی رہی‘۔ صدر بش نے جواب میں کہا ’ اس کے بارے میں میں ایک منٹ میں بتاتا ہوں‘ جس کے بعد دونوں اندر چلے گئے۔ ویٹیکن کے بیان کے مطابق دونوں نے اسرائیل فلسطین تنازعہ، لبنان کی صورتحال کے علاوہ ’اخلاقی اور مذہبی‘ موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا جن میں ’انسانی حقوق، مذہبی آزادی، زندگی کا تحفظ اور فروغ، شادی اور خاندان، نئی نسل کی تعلیم اور دیرپا ترقی‘ شامل تھے۔ پوپ سے ملاقات کے بعد امریکی صدر نے ویٹیکن کے وزیر خارجہ سے بھی چند منٹ بات چیت کی جس کے بعد وہ دن کا کھانا وزیراعظم پروڈی کے ساتھ کھانے کے لیے چلے گئے۔ روم میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ وِلی کا کہنا ہے کہ صدر بش نے پوپ کو افریقہ کے لیے امریکی امداد کے، خصوصاً ایڈز کے خلاف مہم میں معاونت، بارے میں بھی بتایا۔ ملاقات سے پہلے بھی توقع تھی کہ امریکی صدر کے ساتھ بات چیت میں پوپ عراق میں جنگ اور وہاں عیسائیوں کی حالت کے علاوہ اسقاط حمل اور ہم جنس شادیوں کے موضوعات اٹھائیں گے۔ جرمنی میں جی ایٹ کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے بعد صدر بش اٹلی پہنچنے سے پہلے پولینڈ بھی گئے تھے۔ توقع ہے کہ ان کے اٹلی کے ایک روزہ دورے کے دوران ہزاروں افراد عراق پر حملے کے خلاف احتجاج بھی کریں گے۔ پوپ نے عراق پر حملے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے ایسٹر کے خطاب میں کہا تھا کہ ’عراق سے کچھ بھی مثبت نہیں نکلا اور مسلسل جاری قتل و غارت سے ملک پارہ پارہ ہو چکا ہے اور عام شہری وہاں سے فرار ہو رہے ہیں۔‘
خیال کیا جا رہا تھا کہ پوپ خاص طور پر ان لاکھوں عیسائیوں کا معاملہ بھی اٹھائیں گے جو جنگ کے دوران عراق چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر جان بولٹن نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ صدر بش پوپ بینیڈکٹ کو عراق کے بارے میں اپنی پالیسی کی مفصل وضاحت پیش کریں گے۔ تاہم جان بولٹن نے مزید کہا ’سوال پالیسی کی وضاحت کرنے کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ عراق کے بارے میں پالیسی میں ترمیم کیوں نہیں کی گئی۔‘ اطالوی خبر رساں ادارے انسا نے بتایا ہے کہ دونوں کے درمیان ملاقات روم کے نواح میں ایک مقام پر ہونا تھی لیکن حفاظتی وجوہات کی وجہ سے ملاقات کا مقام بدلنا پڑا۔ صدر جارج بش کے ساتھ سفر کر رہے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بِیل نے کہا ہے کہ اٹلی کے دارالحکومت میں امریکی صدر کو مشتبہ دہشتگردوں کو سی آئی اے کی خفیہ پروازوں کے ذریعے یورپ سے منتقلی کے معاملے پر سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ ان کے روم پہنچنے سے چند ہی گھنٹے قبل میلان میں سی آئی اے کے ہاتھوں مشتبہ دہشتگردوں کی منتقلی کے سلسلے کے پہلے معاملے کی سماعت بھی شروع ہو چکی ہے۔ اس مقدمے میں چھبیس امریکیوں اور چھ اطالوی اہلکاروں کو ایک مسلمان مبلغ کو اٹلی سے اغواء کر کے تشدد کے لیے مصر منتقل کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ مقدمے کے سماعت، اس میں ملوث سی آئی اے کے اہلکاروں اور امریکی فوجیوں کی عدم موجودگی میں ہو رہی ہے۔ تاہم اطالوی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ صدر بش کے ساتھ ان کی ملاقات میں یہ معاملہ زیر بحث نہیں آئے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||