چار ہم جنس پرست جوڑوں کی شادی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دادو تحسین اور تالیوں کی گونج میں چار زنانہ ہم جنس پرست جوڑوں نے دارالحکومت تائپے کے ایک ثقافتی مرکز میں علامتی طور پر شادی رچائی۔ ان میں سے ایک جوڑے نے بی بی سی کی نامہ نگار کو بتایا کہ چونکہ تائیوان کو اپنی جمہوری روایات پر بڑا فخر ہے، اس لیئے امید ہے کہ ملک میں جلد ہی قانون سازی کے ذریعے ہم جنس شادیوں کو جائز قرار دے دیا جائے گا۔ یہ تقریب تائپے میں ہم جنس پرستوں کی ایک عام پریڈ کے اختتام پر منعقد ہوئی اور اس کو ہزاروں لوگوں نے دیکھا۔ اس کا نظارہ کرنے والوں میں شہر کے کئی بلدیاتی نمائندوں اور قانون سازوں کے ساتھ ساتھ تائیوان کا وہ پہلا ہم جنس پرست جوڑا بھی شامل تھا جس نے دس برس پہلے پہلی مرتبہ کھلے عام ہم جنس پرست شادی رچائی تھی۔ یہ شادی ہم جنس پرست ہونے کا اقرار کرنے والے ملک کے پہلے راہب نے کرائی۔ بعض عیسائی گروپوں نے اس شادی کی تقریب کے موقع پر احتجاج کی دھمکی دی تھی۔ شادی کرانے والے راہب نے ہم جنس پرستی کے ناقدین پر زور دیا کہ وہ ہم جنس پرستوں کی آواز دل کھول کرسنیں اور ان کے رشتوں کو مانیں۔ تائیوان ایشیا کے ان ملکوں میں سے ہے جہاں ہم جنس پرستی کو سب سے زیادہ برداشت کیا جاتا ہے لیکن وہاں بھی ہم جنس پرست جوڑوں کی شادیوں کو قانونی حیثیت دینے کا بل صرف چھ سال قبل پیش کیا گیا تھا۔ بل میں ہم جنس پرست جوڑوں کوخاندان بنانےاور بچے گود لینے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان تجاویز کی کوئی بہت زیادہ سیاسی مخالفت تو نہیں ہورہی لیکن ملکی سیاسی محاذ آرائی کے سبب یہ بل اب تک پاس نہیں ہوپایا۔ | اسی بارے میں عراق: ہم جنسیت پر زندگی کا خطرہ18 April, 2006 | آس پاس پولینڈ: ہم جنس پرستوں پرحملہ29 April, 2006 | آس پاس ہم جنسوں کی شادی، ترمیم ناکام07 June, 2006 | آس پاس پاک و ہند کے ہم جنس پرست آزاد ہوئے 26 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||