ہم جنسوں کی شادی، ترمیم ناکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سینیٹ نے اس آئینی ترمیم کی منظوری روک دی ہے جس کے تحت ہم جنس افراد کے شادی کرنے پر پابندی لگ سکتی ہے۔ صدر جارج بش نے اس پابندی کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ تہذیبِ انسانی کا بنیادی ترین ادارہ مرد اور عورت کا رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونا ہے۔ اس تحریک کو اننچاس ووٹ ملے۔ ہم جنس افراد کی شادی پر پابندی کی ترمیم کو کامیابی کے لیئے ساٹھ ووٹوں کی ضرورت تھی۔ ناقدین کہتے ہیں کہ صدر بش نے ہم جنسوں کی شادی پر پابندی کی ترمیم کی حمایت اس لیئے کی تھی کہ اس برس نومبر میں ہونے والے درمیانی مدت کے انتخابات میں ان ووٹروں کی ہمدردیاں دوبارہ حاصل کر لی جائیں جو حکمراں جماعت سے دو ہو گئے ہیں۔ اس پابندی کے لیئے آئینی ترمیم کی ضرورت کیونکہ وہ عدالتیں جو ان معاملات کے بارے میں
ہم جنسوں کی شادی کا مسئلہ اس وقت سے امریکہ میں زیرِ بحث ہے جب سے ریاست میسیچوسٹ نے دو ہزار چار میں ہم جنسوں کی شادی کے حوالے سے جوڑوں کو اجازت نامے جاری کیئے۔ پچاس میں سے پینتالیس ریاستوں نے یا قوانین منظور کیئے ہیں یا ان میں ترمیم کی ہے تاکہ ایک ہی جنس کی شادیاں ممنوع قرار پائیں۔ لیکن واشنگٹن، نیو یارک اور کیلیفورنیا جیسی دیگر ریاستوں میں ججوں نے ہم جنسوں کی شادی پر لگی پابندی کو مسترد کر دیا ہے۔ حال ہی میں صدر بش نے کہا تھا ’تجربے نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ ایک شوہر اور بیوی کے درمیان یہ عہد کہ وہ ایک دوسرے سے پیار کریں گے اور ایک دوسرے کا احساس کریں گے، بچوں اور معاشرے کی بہبود کو فروغ دیتا ہے۔‘ امریکی سینیٹ اور کانگریس دونوں میں کسی بھی آئینی ترمیم کی کامیابی کے لیئے دو تہائی ووٹوں کی اکثریت ضروری ہے۔ | اسی بارے میں پولینڈ: ہم جنس پرستوں پرحملہ29 April, 2006 | آس پاس ہم جنسوں کے جلوس میں برطانوی فوج 27 August, 2005 | آس پاس سپین، ہم جنسوں میں شادی ممکن30 June, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||