سپین، ہم جنسوں میں شادی ممکن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کی پارلیمان نے ہم جنسوں میں شای کو قانونی قرار دینے سے متعلق بل کو منظور کر لیا ہے۔ یہ بل ایک ماہ کے اندر قانون بن جائے گا۔اس نئے قانون کے تحت ہم جنس جوڑے اب شادی کے علاوہ بچوں کو بھی گود لے سکیں گے۔ سپین یورپ کا تیسرا ملک ہے جس نے ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت دی ہے۔ اس کے علاوہ نیدرلینڈز اور بلجیم میں بھی ایسی شادی جائز ہے۔ اس قانون سے شادی شدہ ہم جنس جوڑوں کو تمام ایسے حقوق حاصل ہونگے جو دوسرے شادی شدہ افراد کو حاصل ہیں۔ ایوان نمائندگان کے اس فیصلے سے پہلے ایوان بالا نے اس بل کو مسترد کر دیا تھا۔ سپین رومن کیتھولک ملک ہے اور کلیسہ روم ایسے قانون کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ سپین کی ایک کیتھولک تنظیم نے حکومت کو ایک اس بل کے خلاف ایک پٹیشن پیش کی تھی جس پر چھ ہزار افراد کے دستخط تھے۔ تاہم رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق سپین کی بیشتر شہری اس بل کے حق میں ہے۔ سپین کے سوشلسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ سپین کے معاشرے میں رواداری کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||