میں پاکستان میں ہی خوش کیوں ہوں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایشیا میں ہم جنسوں کے خلاف پائے جانے والے خیالات اور جذبات کے بارے میں بات کرنا بہت عام ہے اور ایسی کہانیاں اکثر سننے میں آتی ہیں۔ لیکن اس طرح کے معاملات کو ایک عمومی نگاہ سے دیکھنے میں مسلہ یہ ہے کہ کچھ خاص اور غیر معمولی مثالیں نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔
میں ایسی ہی ایک مثال ہوں۔ ایک ہم جنس جس نے پاکستان میں ہی پرورش پائی اور امریکہ میں تعلیم کہ دوران اپنی ہم جنسیت سے واقف ہوا لیکن پھر بھی پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ یہ جان کر بہت سے لوگوں کو حیرانگی ہوگی کہ میں مغرب کی بجائے یہاں پاکستان میں رہنے میں زیادہ خوش ہوں۔ میں شروع سے ہی ایسا محسوس نہیں کرتا تھا۔ اصل میں میرے امریکہ سے واپس آنے سے پہلے میرا بھائی مجھے یہی کہتا تھا کہ مجھے پاکستان میں کچھ زیادہ دشواری نہیں ہوگی لیکن میں سمجھتا تھا کہ وہ غلط ہے۔ ہوا یہ کہ بعد میں میں ہی غلط ثابت ہوگیا۔ میں نے اپنی جنسی شناخت کو اپنے خاندان والوں کے سامنے ظاہر کردیا اور ان کے پیار اور حمایت کی وجہ سے میرے تقریباً سبھی دوست میرے بارے میں جانتے ہیں اور مجھے کبھی بھی ہم جنس ہونے کی وجہ سے کسی جارحانہ رویے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ یہی نہیں میں اپنے ایک ہم جنس عاشق کے ساتھ آزادانہ طریقے سے پاکستان میں رہ چکا ہوں اور مغرب کے مقابلے میں میں نے یہاں بہت سی ہم جنس پارٹیوں میں بھی شرکت کی ہے۔ لیکن میں ہرگز یہ تجویز نہیں کررہا کہ پاکستان میں ہم جنسوں کی زندگی بہت سہل ہے۔ ظاہر ہے انہیں یہاں بہت تکالیف ہیں۔ قانونی طور پر ہم جنسیت کی اجازت نہیں ، تنگ نظر ثقافتی اقدار کی وجہ سے زیادہ تر ہم جنس لوگ کھلے طور پر اپنی جنسی شناخت نہیں کرپاتے اور اگر کر لیں تو عموماً خاندان والوں کی طرف سے بھی انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ امریکی فوجی مقولے کی طرح یعنی ’نہ بتاؤ نہ پوچھو‘ کے تحت سب چلتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ اصل میں دیکھا جائے تو پاکستان میں ہم جنسوں کو نہیں بلکہ غیر ہم جنسوں کو اپنی جنسیت کے اظہار میں زیادہ دشواریاں ہیں۔ یہ ایک منفرد بات ہے کہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں ویسے ہی جنسی تعلقات کا کھلے طور پر اظہار ممنوع سمجھا جاتا ہے ہم جنس افراد کی طرف توجہ بہت زیادہ نہیں رہتی اور وہ ایک طرح سے معاشرے کی آنکھ سے چھپے ہی رہتے ہیں۔ لیکن باقی تمام معاملات کی طرح اس شعبے میں بھی جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے بہت سی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ انٹرنیٹ ، سیٹلائیٹ ٹی وی اور فلموں سے پاکستان میں ہم جنس مرد اور عورتوں کی اگلی نسل اپنی جنسی شناخت کے اظہار اور آپس میں زیادہ بہتر کمیونیکشن پیدا کرسکے گی۔ تو اب آپ سے بھی یہ بات چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ مجھے بھی میرا بوائے فرینڈ انٹرنیٹ پر ہی ملا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||