ہسپانیہ ہم جنس شادیوں کی طرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہسپانیہ کے ایوان زیرین نے ہم جنس پرستوں کے درمیان شادیوں کوں تسلیم کرنے کے لیے قانون کے ایک مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت کی حمایت سے منظور ہونے والے قانون کے اس مسودے کو اب ہسپانیہ میں ایوان بالا یعنی سینیٹ کے سامنے رکھا جائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ سینیٹ آئندہ چند ہفتوں میں اس بِل کی حتمی منظوری دے دے گی۔ سینیٹ سے منظوری کے بعد ہسپانیہ یورپ کا تیسرا ملک بن جائے گا جہاں ہم جنس پرست تمام حقوق کے ساتھ شادی کر سکیں گے۔ مذہبی تنظیموں نے اس بِل کی مخالفت کی تھی۔ نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ ہم جنس پرستوں کے درمیان شادیوں کے قانون کی منظوری سے ملک کی سوشلسٹ حکومت اور اور رومن کیتھولک چرچ کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو جائیں گے۔ ہسپانیہ کے موجودہ وزیر اعظم نے دو ہزار چار میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ وہ ملک میں کلیسا کو ملنے والے تحفظات کو ختم کریں گے، ملک کو سیکیولر ریاست کے طور پر چلائیں گے اور طلاق اور اسقاط حمل کے قوانین میں نرمی کریں گے۔ نئے قانون کا مسودہ ایک سو چھتیس کے مقابلے میں ایک سو تراسی ووٹوں سے منظور ہوا۔ چھ ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||