20 لاکھ ہم جنس پرستوں کا جلوس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو میں ہم جنس پرستوں کا ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا ہے جس میں بعض اندازوں کے مطابق تقریباً بیس لاکھ افراد نے حصہ لیا۔اگر یہ تعاداد صحیح ثابت ہوئی تو یہ دنیا میں ہم جنس پرستوں کا سب سے بڑا جلوس ہوگا۔ ہم جنس پرستوں کا مطالبہ تھا کہ انہیں آپس میں شادی کا قانونی حق دیا جائے۔ اس سلسلے میں قانون کا ایک مسودہ گزشتہ دس سال سے برازیل کی کانگریس میں زیر غور ہے لیکن اب تک اسے منظور نہیں کیا جاسکا۔ جلوس میں موسیقی اور ناچ گانوں کا بھی انتظام تھا۔ منتظمین نے دعویٰ کیا ہے کہ جلوس میں پچیس لاکھ افراد شریک تھے۔ برازیل سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس میں ہم جنس پرست مرد، عورتیں دنوں ہی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ شہر کے مرکز میں ایک عمارت کی پچیسویں منزل سے جلوس کو دیکھتے ہوئے ہمارے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ جہاں جہاں ان کی نظر پڑ رہی ہے وہیں ہم جنس پرست جمع ہیں۔ اس جلوس کے شرکاء نے حکومت اور قانون بنانے والوں سے بڑے جذباتی انداز میں یہ اپیل بھی کی کہ ہم جنس پرستوں کے لیے بھی برابری کا قانون بنایا جائے۔ یہ بل برازیل کی پارلیمان میں گزشتہ دس برس سے رکا ہوا ہے۔ برازیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں ہم جنس پرستوں کے خلاف تشدد کی شرح بھی دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے اور انہیں طرح طرح کی مصائب کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اتوار کو نکلنے والے اس بہت بڑے جلوس کے ذریعے ہم جنس پرستوں نے یہ پیغام دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی بھی عزت کی جائے اور لوگ اپنے اندر برداشت پیدا کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||