BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 April, 2005, 11:09 GMT 16:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیار کے لئے جنس تبدیل

کوٹی یامہ
کوٹی یامہ آپریشن کے بعد مرد بن گئیں
’مجھے امید ہے کہ وہ ایک دن ضرور لوٹ کر میرے پاس آئے گی۔ میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ۔ وہ میری زندگی ہے۔‘ یہ جذبات ہیں کوٹی یامہ کے جو لورا نام کی ایک لڑکی سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔

کوٹی یامہ کی پوری زندگی آج بدلی ہوئی ہے۔ کوٹایم کی کوٹی یامہ اب بینو نام کا ایک مرد ہے۔ اس نے حال ہی میں جنس میں تبدیلی کا آپریشن کرایا ہے تاکہ وہ اپنی ساتھی لورا سے شادی کر سکے۔

لیکن لورا نے کوٹی یامہ کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور وہ کہتی ہے کہ وہ اس سے اب کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتی۔ کوٹی یامہ کا کہنا ہے کہ ’ہم پندرہ برس ایک دوسرے سے پیار کرتے رہے اور لورا کا ہی یہ اصرار تھا کہ میں آپریشن کراؤں۔‘

کوٹی یامہ عرف بینو اکتیس برس کے ہیں۔ ان کا تعلق ایک غریب عیسائی خاندان سے ہے۔ وہ بتاتے ہیں ’میرے گھر کے لوگوں کو ہمارے تعلقات کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ لورا میری پڑوسی تھی اور ہم گہرے دوست تھے۔ اور کسی کو ہمارے تعلقات کے بارے میں کوئی شبہہ نہیں تھا۔‘

کوٹی یامہ آپریشن سے قبل بظاہر ایک لڑکی تھی لیکن اس میں پیدائشی طور پر ایسی خامی تھی کہ اس کے اندر دونوں جنس کی خصوصیات موجود تھیں اور آپریشن کے ذریعے وہ مکمل مرد بن سکتی تھی۔ کوٹی یامہ نے بتایا کہ ’میں نے آپریشن پر پچاس ہزار روپے صرف کئے ہیں۔مجھے یہ رقم جمع کرنے میں چھ برس لگے ہیں۔ میں یومیہ اجرت پر کام کرتا ہوں اور مجھے روزانہ صرف اسّی روپے ملتے ہیں۔‘

کوٹی یامہ کا کہنا ہے کہ لورا کے گھر والوں نے دباؤ ڈال کر اس کا فیصلہ تبدیل کرا دیا ہے۔’لورا نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آپریشن کے بعد مجھ سے شادی کرے گی لیکن اب اسکی فیملی چاہتی ہے کہ وہ ایک دوسرے لڑکے سے شادی کرے۔‘

کوٹی یامہ نے مقامی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کرائی ہے۔

’یہ ایک غیر معمولی نوعیت کا معاملہ ہے۔ کوٹی یامہ آپریشن کے بعد ہو سکتا ہے کہ جسنی اعتبار سے مرد بن گئی ہو لیکن ریکارڈ میں وہ ایک عورت ہے اور قانون کے مطابق دو لڑکیوں کے درمیان شادی نہیں ہو سکتی ۔‘
ڈی ایس پی کے نرملن
ڈی ایس پی کے نرملن کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک غیر معمولی نوعیت کا معاملہ ہے۔ کوٹی یامہ آپریشن کے بعد ہو سکتا ہے کہ جسنی اعتبار سے مرد بن گئی ہو لیکن ریکارڈ میں وہ ایک عورت ہے اور قانون کے مطابق دو لڑکیوں کے درمیان شادی نہیں ہو سکتی ۔‘

مقامی گرجا گھروں کے پادریوں نے بھی کہا ہے کہ وہ اس شادی کو قبول نہیں کریں گے۔ لیکن کوٹی یامہ کا کہنا ہے کہ ’میری فیملی اس شادی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہے میں لورا کا انتظار کروں گا۔‘

کوٹی یامہ کے جنس کے سوال پر کیرالہ میں سماجی امور کے ماہرین میں بحث چھڑ گئی ہے۔ دوسری جانب کوٹی یامہ مایوسی کا شکار ہے ’ یہ بالکل موت کے تجربے کی طرح ہے میں نے لورا کے لئے سب کچھ چوڑ دیا ۔ یہ میرے لئے ایک نئی زندگی ہے میں اسے واپس حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔ میں بہت تنہا محسوس کر رہا ہوں شاید وہ واپس آجائے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد