جنسی شناخت کے قانون کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملائشیا میں جنس تبدیل کروانے والوں نے جنسی شناخت کے نئے قوانین کا مطالبہ کیا ہے۔یہ مطالبہ کوالالمپور کی ایک عدالت کی طرف سے اس فیصلہ کے بعد سامنے آیا ہے جس کے مطابق تبدیلی جنس کروانے والوں کی صنف مشکوک ہے۔ اس تاریخ ساز فیصلہ میں جج وی ٹی سنگھم نےتینتیس سالہ وانگ یونگ کی تبدیلی جنس کے بعد قانونی طور پر مرد قبول کیے جانے کی درخواست مسترد کر دی۔جج کی مطابق صرف پارلیمنٹ ہی اس تبدیلی کی منظوری دے سکتی ہے۔ ایک عورت کے طور پر پیدا ہونے والے وانگ چیو یونگ دو سال قبل جنس کی تبدیلی کے بعد مرد بن گئے تھے۔ انہوں نے اپنی مردانگی کے ثبوت کے طور پر دو ماہرین کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی۔ ملائشیا کا قومی محکمہ اندراج وانگ کو ان کے پیدائشی سرٹیفیکیٹ کی رو سے عورت تسلیم کرتا ہے۔ جج وی ٹی سنگھم کا کہنا تھا کے حیاتیاتی خصوصیات پیدائش کے وقت متعین ہو جاتی ہیں اور کسی فرد کی شناخت کے لیے نفسیاتی معائنہ کی بجائے حیاتیاتی معائنہ ہی اصل کسوٹی ہے۔ جج کا کہنا تھا کہ تبدیلی جنس کے کسی قانون کی غیر موجودگی کی بنا پر وہ اس مقدمے کی سماعت سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی جنس کروانے والوں کی قانونی شناخت متعین کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ جنس تبدیل کروانے والوں کے ایک گروہ ، پنک ٹرایئنگل فاؤنڈیشن، نے جنسی شناخت کے لیے نئے قوانین بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔لیکن ملائشیا کے لوگوں کی قدامت پسند معاشرتی اقدار کی بنا پر قوانین میں فوری تبدیلی ممکن نظر نہیں آتی۔ اگرچہ ملائشیا میں تبدیلی جنس قانونی ہے لیکن ملک کی مقننہ کا بیس سالہ پرانافیصلہ ملک کی اکثریتی مسلم آبادی کو اس پر عمل کرنے سے روکتا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ملائشیا میں عورت بن کر رہنے والے مردوں کی تعداد دس سے پچاس ہزار کے درمیان ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||