امریکی ہم جنسوں کی سالانہ پریڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ہم جنسوں کی سالانہ ’گے پریڈ‘ کے جلوسوں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔ پینتیسویں پریڈ کے سب سے بڑے سالانہ جلوس سان فرانسسکو، نیویارک اور شکاگو میں نکلے جن میں ہزاروں گے مردوں، ہم جنسیت پسند عورتوں اور دوسرے ہم جنسیت پسند لوگوں کے ساتھ پاکستانی اور ہندوستانی گے مردوں اور عورتوں سمیت جنوبی ایشیائی گے تنظیموں کی نمائندگی بھی تھی۔ اتوار کی صبح گے پریڈ کے سب سے بڑے جلوس شہر کے گے مرکزی علاقے ہالسٹیڈ اسٹریٹ سے نکلے۔ گے شکاگو پریڈ کے اس برس ’گرانڈ مارشل‘ یا خاص مہمان مشہور اداکار اور بالاعلان گے ولسن کروز تھے جو ہم جنس نوجوانوں کے حقوق کیلیے شہرت رکھتےہیں۔ شکاگو گے پریڈ کی قیادت میں گاڑیوں کے پہلے کاروان میں شکاگو سٹی اور شکاگو ہال آف فیم یافتہ شخصیات کر رہی تھیں یہ لوگ قوس و قزح کے رنگوں والے گے جھنڈوں، بینروں اور غباروں سے سجی کنورٹیڈ (بغیر چھت والی ) کاروں پر سوار تھے جن میں جنوبی ایشیائی گے گروپ ’سنگت‘ کے صدر اور مشہور پاکستانی شاعر افتخار (افتی) نسیم بھی شامل تھے۔ افتی نسیم پہلے جنوبی ایشیائی اور پاکستانی ہیں جنہیں شکاگو شہر کی انتظامیہ نے گے حقوق کے میدان میں انکی خدمات کے اعتراف میں ’ھال ل آف فیم‘ کا اعزاز دیا ہوا ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئےافتی نسیم نے کہا کہ اس سال شکاگو کی گے پریڈ میں ہزاروں گے لوگوں کے ساتھ غیر گے لوگوں اور قدامت پسندوں کی بھی اتنی ہی تعداد موجود تھی کیونکہ لوگ امریکہ میں بش پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی مایوسی سے نجات کے لیے کوئی سرگرمی چاہتے ہیں۔ شکاگو کے ان گے اجتماع کو افتی نسیم نے ’شہر تو کہنے کو فسانے مانگے‘ سے تعبیر کیا۔ امریکہ سمیت دنیا بھر میں ’گے پریڈ‘ انیس سو انہتر میں نیویارک میں گے لوگوں کے ساتھ ہونیوالے پولیس کے اس تصادم کے بعد گے حقوق منوانے کی خوشی میں کی جاتی ہے۔ پولیس کی اس کارروائی کا آغاز گرینچ ولیج میں واقع ’اسٹون وال‘ نامی ’گے شراب خانے‘ سے ہوا تھا۔ اگر چہ اسوقت تک امریکہ میں ہم جنسوں کے حقوق کی تحریک اور ہم جنس اس طرح کھل کر سامنے نہیں آئے تھے لیکن گے آزادیوں کی تحریک کا ابتداء ہو چکی تھی۔ جس پر خوشی اور فخر کے طور پر انیس سوستر سے باقاعدہ گے پریڈ ہر سال جون کے آخری اتوار کو ہوتی ہے اور اس اتوار کو گے تہوار کے لیے مخصوص مانا جاتا ہے۔ گے پریڈ کا سب سے بڑا اجتماع سان فرانسسکو میں دیکھنے میں آیا جس میں مئر نیوسم سمیت ہزاروں کی تعداد میں گے اور غیر گے لوگوں نے شرکت کی۔ مئرگیون نیوسم گزشتہ سال سان فرانسسکو میں گے جوڑوں کو آپس میں شادیوں کے لائسنس جاری کرنے کی وجہ سے گے لوگوں میں مقبول ہیں۔ اگرچہ اب ہم جنس شادیوں کو کیلیفورنیا کی ریاستی اسمبلی نے بھی اکثریت سے مسترد کر دیا ہے۔ نیویارک شہر سے نکلنے والے گے جلوس میں میں جہاں ہیلری کلنٹن بھی شریک تھیں وہاں اس نیویارک کی گے پریڈ میں جنوبی ایشیائی گے اور لزبین مردوں اور عورتوں کی شرکت کے ساتھ ان کی نمائندگی ’ساؤتھ ایشین گے اینڈ لزبین ایسوسی ایشن‘ (سالگا) نے کی۔ بتایا جاتا ہے کہ شکاگو کی گے پریڈ میں ہزاروں سات رنگے گے جھنڈوں‘ گانوں، موسیقی، اور کئي کمپنیوں اور تنظیموں کے ہالسٹیڈ اسٹریٹ سے گزرتے فلوٹوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے پہلو بہ پہلو سجے پرچموں تلے تنظیم سنگت کے بینر میں جنوبی ایشیائی گیز کا جلوس بھی تھا، جس میں پاکستانی اور ہندوستانی گے مردوں اور لزبین لڑکیوں نے شرکت کی۔ ہندوستانی اور پاکستانی فلمی موسیقی پر رقص کرتے لڑکے اور لڑکیاں ہزاروں دیکھنے اور شرکت کرنے والوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ اخبار ’شکاگو ٹریبیون‘ نے شہر کی گے پریڈ میں شریک ہونے والوں کی تعداد چار لاکھ بتائی ہے۔ شرکا نے ’گے شادیاں اب ہونی چاہیں‘ کی ٹی شرٹیں پہنی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ جارجیا (اٹلانٹا)، ڈینور( کولوراڈو) اور کولمبس (اوھائيیو) سے بھی سالانہ گے پریڈ کے جلوسوں میلوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ جبکہ ساں ڈیاگو کی گے پریڈ جولائي کے آخر میں ہوگی جس کیلیے سرگرم لزبین پريڈ رضاکار لارا نے بتایا کہ کرسمس کی طرح وہ پريڈ بھی اسکا بڑا تہوار ہے۔ ادھر کچھ اخباری رپورٹوں میں نیویارک اورسان فرانسسکو میں گے پريڈ کے اجتماع میں گزشتہ برسوں کی نسبت شرکاء کی تعداد کم بتائي گئي ہے جس کی وجہ ہم جنس شادیوں پر گے حقوق کی سرگرم تنظیموں کی بہت سے ریاستوں میں ناکامی بتائی جاتی ہے۔ لیکن لارا اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’گے حقوق کےلیے لڑائي امریکی میں اپنے تاریخي تسلسل میں جاری رہے گی۔‘ لارا اوہائيو میں گے پريڈ کی مثال دیتی ہے جو نسبتاً قدامت پرست ریاست ہے لیکن اسکے بڑے شہر کولمبس میں گے لوگوں کی شرکت میں اضاقہ ہوتا آ رہا ہے۔ لارا آج سے سات برس پہلے تک اپنے لزبین ہونے کا اعتراف اور اظہار نہیں کرتی تھیں لیکن آج وہ ساں ڈیاگو میں گے پریڈ کی سرگرم رضاکار بھی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||