| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایڈز: ہم جنس پرستوں کا جلوس
بھارت کے شہر ممبئی میں ہزاروں ہم جنس پرست اور ان کے خاندان کے افراد ایڈز کی بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک جلوس نکال رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ممبئ شہر میں ہم جنس پرستوں کی کم از کم پچس فیصد آبادی ایڈز کے مرض میں مبتلا ہے۔ اس جلوس کے منتظمیں کا کہنا ہے کہ ایڈز کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے علاوہ اس ریلی کاایک اور پیغام یہ ہے کہ ہم جنس پرست ہونا کوئی شرم کی بات نہیں۔ ہم جنس پرست ہونے کا کھلے عام اعتراف کرنا بھارت میں معاشرتی طور پر معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ممبئی جیسے شہر میں جو کہ بھارت کے تجارتی اور ثقافتی دارالحکومت کی حیثیت رکھتا ہے اور جہاں بہت آزاد اور روشن خیال لوگ رہتے ہیں ہم جنس پرست کو کسی حد تک برداشت کر لیا جاتا ہے۔ ممبئی شہر میں ہم جنس پرستوں کے کلب ہیں اور ان کے بار بھی موجود ہیں۔ ممبئی میں ہم جنس پرستوں کی پارٹیاں بھی ہوتی ہیں اور ان میں سینکڑوں لوگ شرکت بھی کرتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود ممبئی میں ہم جنس پرستوں پر لوگ انگلیں بھی اٹھاتے ہیں اور انہیں معاشرے میں باعث شرم بھی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ہم جنس پرست آہستہ آہستہ کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ پیر کو ہونے والی ریلی ہم جنس پرست مردوں نے منظم کی ہے اور اس میں ان کے خاندان کے افراد بھی شرکت کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کا سب سے بڑا مطالبہ ہے کہ حکومت ایک ہی جنس سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان جنسی تعلقات کے خلاف قانون کو واپس لے۔ ہم جنس پرستوں کے رسالے ’بمبے دوست ‘ کے مدیر نتنی کرانی نے کہا کہ ہم جنس پرست اکثر اس قانون کی وجہ سے کھلے عام ہم جنس پرست ہونے کا اعتراف نہیں کرتے۔ تعزیرات ہند کی دفعہ تین سو ستتر کے تحت ہم جنسیت ایک غیر فطری فعل ہے اور قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔ کرانی کا جو خود بھی ایک ہم جنس پرست ہیں کہنا ہے کہ اس قانون کی وجہ سے بہت سے لوگ سامنے نہیں آتے اور انھیں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے میں دشواری کا سامنہ ہے۔ کرانی نے کہا کہ یہ امر کہ ہم جنس پرستوں کی پچس فیصد آبادی ایچ آئی وی سے متاثر ہے بہت پریشان کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی ہم جنس پرستوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ تاہم خوش قسمتی سے ممبئی کی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کا صرف چار فیصد ہم جنس پرستوں پر مشتمل ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||