سعودی عرب‘ ہم جنسوں کی مبینہ شادی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب میں پیر کو ایک روزنامہ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق حکام تقریباً پچاس افراد سے، مدینہ میں ہم جنسوں کی شادی میں مبینہ طور پر شرکت کرنے کے معاملے پر سخت پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ روزنامہ عرب نیوز کے مطابق ان افراد نے شادی میں شرکت کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے چاد سے آئے ہوئے ایک دوست کی شادی کی تقریب میں شرکت کی تھی۔ تاہم چاد کے باشندے کا کہنا ہے کہ ان کی شادی گزشتہ جمعہ کے روز ہونی تھی اور وہ شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اس واقعہ کے باعث پورے سعودی عرب میں ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ یہاں ہم جنسوں کی شادی کی ممانعت ہے۔
اس سے قبل سان فرانسِسکو میں ہم جنس پرستوں کی شادیوں پر عائد پابندی ختم کئے جانے کے بعد سینکڑوں ہم جنس پرست ملک بھر سے امریکی ریاست پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ سان فرانسسکو کے میئر گیون نیوسم نے ہم جنس پرستوں کی شادی پر سے پابندی اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ممانعت ہم جنس پرستوں کے ساتھ امتیاز برتنے کے مترادف تھی۔ تاہم ہم جنس پرستی کے خلاف کام کرنے والے گروہوں نے اس پابندی کے اٹھائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔ اس سے پہلے فروری کے اوائل میں امریکی ریاست میسےچیوسٹس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ملک کی اس شمال مشرقی ریاست میں ہم جنسوں کو شادی کے یکساں حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ اس فیصلے کے باعث امریکہ میں ہم جنسوں کی شادی کے معاملے پر شدید تنازعہ پیدا ہو گیا اور وائٹ ہاوس کو یہ وعدہ کرنا پڑا کہ ملک میں شادی کے تقدس کی حفاظت کی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||