BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 February, 2004, 01:22 GMT 06:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جب اللہ کا دیا سب کچھ ہو

ہم جِنس پرست جوڑے کی شادی
ہم جِنس پرست جوڑے کی شادی
مغربی ممالک، بالخصوص ان ملکوں میں جو عراق کی جنگ میں ایک دوسرے کے حلیف رہے ہیں بلکہ اب تک ہیں، ہم جنس پرستی کا موضوع اچانک ایک بہت بڑا مسئلہ بن کرسامنے آیا ہے۔

امریکہ میں سان فرانسسکو کی بلدیہ نے ہزاروں ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کو آپس میں شادی کی اجازت دیدی۔ صدر بش نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ شادی ایک مقدس فریضہ ہے اور وہ مرد اور عورت کے درمیان ہی ہونا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم جنسوں میں شادی کو ممنوع قرار دینے کے لیے آئین میں ترمیم بھی کرنی چاہیے۔

یہاں برطانیہ میں کنزرویٹیو پارٹی نے بھی، جو روایتی طور پر ہم جنس پرستی سے اپنی مغائرت کے لئے مشہور ہے، اب کچھ مائل بہ کرم نظر آتی ہے۔

ان ملکوں میں اچانک اس قصے کا یوں ابھر کر سامنے آنا اور ایک سیاسی بحث کا موضوع بن جانا بہت معنی خیز لگتا ہے، خاص طور پر اس موقع پر جب کہ یہ ملک عراق کی جنگ میں براہ راست شریک تھے اور اب تک اس قضئے کا کوئی حتمی اور مستقل حل ڈھونڈنے میں بھی کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔

اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ جان بوجھ کر اس مسئلے کو ہوا دی جارہی ہے تا کہ لوگوں کی توجہ عراق سے ہٹ جائے اور داخلی مسائل کی طرف مبذول ہو جائے اور دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یہ مسئلہ واقعی اتنا گھمبیر ہے کہ اسے حل کئے بغیر سیاست آگے بڑھ ہی نہیں سکتی۔

مجھے دوسری بات زیادہ قرین از قیاس لگتی ہے۔ اکثرلوگ یہاں برطانیہ میں دریافت کرتے ہیں کہ اس مسئلے کے بارے میں ہندوستان، پاکستان یا بنگلہ دیش میں لوگ کیا سوچتے ہیں۔

میں عمرانیات کا ماہر تو نہیں ہوں، نہ میں نے ایسے مسائل کا کوئی باقاعدہ مطالعہ کیا ہے، تا ہم مجھے یہ اعتراف ضرور ہے کہ یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے اس لئے اگر ترقی یافتہ ملکوں کے لوگوں کو درپیش ہے تو یقینی ترقی پزیر ملکوں کے لوگوں کو بھی درپیش ہوگا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ یہ یا اس نوعیت کے دوسرے مسا ئل ترقی یافتہ ملکوں میں زیادہ شدت سے محسوس کئے جاتے ہیں۔ جہاں کے عوام کو اس طرح کی کٹھنائیاں جھیلنی نہیں پڑتیں جیسی کہ پس ماندہ اور ترقی پزیر ملکوں کے عوام کو جھیلنی پڑتی ہیں۔

یہاں جن مسئلوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ان میں جنسیات، مٹاپا، پلاسٹک سرجری، چھاتیاں بڑی ہوں یا چھوٹی، بچے ہوں یا نہیں اور اگر ہوں تو کس کے ہوں موجودہ شوہر کے یا جو مر گیا اس کے۔

یہ سارے مسائل پیٹ بھرے لوگوں کے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پس ماندہ اور غریب ملکوں میں ہم جنس پرست لوگ نہیں ہونگے یا انہیں اپنے جنسی میلانات کی بناء پر مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہوگا۔ یقیناً ایسے لوگ ہیں بلکہ بر صغیر کے ملکوں میں تو ان کی اچھی خاصی تعداد ہوگی لیکن یہ کبھی اتنا بڑا مسئلہ نہیں بنا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے انتخابی منشور میں اس کو شامل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہو اور اس کی وجہ میری ناقص رائے میں یہی ہوسکتی ہے کہ جن کو یہ شوق ہے ان میں سے بعضوں کا حال اتنا پتلا ہے کہ ان پر فارسی کی وہ مثال صادق آتی ہے کہ دمشق میں ایسا قحط پڑا کہ یار لوگ عشق کرنا بھول گئے، بچارے دال روٹی کے حصول کی جدوجہد میں کچھ اتنے تھک جاتے ہیں کہ باقی کسی چیز کے لئے جدوجہد کرنے کی تاب ہی نہیں رہتی۔

جن کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے وہ ہر طرح کا شوق رکھتے ہیں اور بےخطر پورا بھی کرتے ہیں، ان کو نہ قانون روک سکتا ہے نہ مذہب۔ کسی مائی کے لال میں یہ ہمت نہیں کہ ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا کرے اور آج ہی نہیں ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے۔

جن لوگوں نے مغلیہ خاندان کے بانی ظہیرالدین بابر کی خود نوشت پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ موصوف اپنے ایک ہم جنس معشوق پر کچھ ایسے فریفتہ ہوئے کہ اس کے پیچھے چھ مہینے تک جنگلوں اور صحراؤں کی خاک چھانتے رہے۔ تزک جہانگیری میں بھی مجھے یاد پڑتا ہے کہ جہانگیر نے اپنے ایک درباری شاعر کی صرف اس لئے کھال کھنچوالی تھی کہ وہ بھی اسی کافر پر عاشق ہو گیا تھا جس پر ان کا دم نکلتا تھا۔

خواتین میں بھی یہ شوق خاصا پرانا ہے اب یہ دوسری بات ہے کہ اس کا چرچا نہیں ہوتا۔ وہ ایک زمانے میں عصمت چغتائی کے ایک افسانے لحاف پر فحاشی کا مقدمہ بھی چلا تھا کے اس میں خواتین کی ہم جنس پرستی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اگر کلاسیکی اردو شعراء کی تخلیقات پر نظر ڈالی جائے تو پورے پورے دیوان عصمت کے لحاف سے بھی بڑے بڑے لحافوں سے بھرے ہوئے نطر آئیں گے۔

میرے کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم جنس پرستی کا مسئلہ دنیا میں ہر جگہ ہے اور ہمیشہ سے ہے اور جب تک انسان میں جنسی بیداری موجود ہے، اسے برا سمجھا جائے یا اچھا، اس سے نجات نہیں حاصل کی جا سکتی۔ فرق صرف یہ ہے کہ مغربی ملکوں میں اسے اتنی اہمیت یوں دی جاتی ہے کہ وہ روٹی، کپڑے اور مکان جیسے زیادہ بنیادی مسائل سے نمٹ چکے ہیں اور اب انہیں اس بنادی مسئلے کا بھی کوئی دیرپا اور قابل قبول حل ڈھونڈنا پڑے گا جوشاید اتنا آسان نہ ہو۔ اس لئے کہ یہ تو وہ مرض ہے جو اب تک کی روایت کے مطابق جتنی دوا کرو اتنا ہی بڑھتا ہے۔

اب رہا معاملہ تیسری دنیا کے ملکوں کا یا برصغیر وغیرہ کا تو جیسے میں نے پہلے عرض کیا، وہ لوگ جو دال روٹی کی الجھن سے آزاد ہیں ان کا تو یہ عالم ہے کہ صرف آنکھ بند کر کے تصور کرلیں تو خواہش پوری ہوجاتی ہے اور باقی پیچارے نان نفقے کے چنگل سے ہی نہیں نکل پائے، ان کو کہاں اتنی فرصت کے جنس اور ہم جنس میں تمیز کریں، ان کو تو جو مل جائے جیسے مل جائے رضائے الہی سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد