عراق: ہم جنسیت پر زندگی کا خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میں اب مزید ’ہم جنس پرست‘ نہیں رہ سکتا۔ جب میں روٹی خریدنے کے لیے باہر نکلتا ہوں تو مجھے ڈر لگتا ہے۔ جب دروازے کی گھنٹی بجتی ہے تو بھی مجھے یہی ڈر لگتا ہے کہ وہ مجھے پکڑنے آئے ہوں گے‘۔ یہ ہے وہ ڈر جو عراق میں حسین اور ان جیسے ہم جنس پرستوں کو ہر وقت لگا رہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی سالاری میں ہونے والی دراندازی کے بعد سے ہم جنس پرستوں کو صرف اس بنا پر ہلاک کیا جا رہا ہے کہ وہ ان کا جنسی میلان دوسروں سے مختلف ہے۔ وہ اس کا ذمہ دار صدام حسین کی معزولی کے بعد مذہبی شخصیات کے زیر اثر مسلح گروہوں کے پیدا ہونے اور تشدد میں اضافے کو قرار دیتے ہیں۔ عراق کے ایک سرکردہ شیعہ رہنما آیت اللہ سیستانی کے حوالے سے ایک ویب سائٹ پر یہ کہا گیا ہے کہ ’اسلام ہم جنس پرستی کو گناہ قرار دیتا ہے اور ہم جنس پرستوں کو ہلاک کر دیا جانا چاہیے‘۔ ایران کے شہر قم سے چلائی جانے والی اس ویب سائٹ پر یہ بیان سائٹ کے عربی حصے میں تو شائع کیا گیا ہے لیکن انگریزی حصے میں نہیں کیا گیا۔ بی بی سی نے جب آیت اللہ سیستانی کے نمائندے سید کشمیری سے اس ہدایت یا فتوے کی تشریح کے بارے میں پوچھا تو انہوں اس بارے میں بھیجی جانے والی ای میل کے جواب میں کہا کہ ’ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کو میلان کے مطابق پہلے ارتکاب پر ہلاک نہیں کیا جاتا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد بھی اس سزا پر عمل، انصاف کے لیے کئی شرائط لگاتا ہے اور ان شرائط کی تکمیل کے بعد ہی یہ سزا دی جا سکتی ہے جو غالباً دوسرے آسمانی مذاہب میں اس حوالے کی دی جانے سزاؤں کے طریقوں سے ملتی جلتی ہے‘۔ سید کشمیری نے مزید وضاحت کی کہ’بہت سے فتوے علماء نے نظری بنیادوں پر دیے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ عراق میں جو اغواء اور ہلاکتیں ہو رہی ہیں ان کا تعلق اسی ایک مسئلے سے ہے، زیادہ تر خون خرابے کا تعلق فرقہ ورانہ کشیدگی اور امریکہ مخالف شورش سے ہے‘۔
لیکن بی بی سی بات کرنے والے ہم جنس پرستوں کا کہنا ہے کہ انہیں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے اور صرف اس لیے کہ ان کی جنسی ترجیحات مختلف ہیں۔ اپنے بھائی، بھابی اور عم زاد کے ساتھ بغداد میں رہنے والے 32 سالہ حسین کا کہنا ہے کہ اس کا ظاہر ہی تشد آمادہ لوگوں کو ترغیب دینے کے لیے کافی ہے۔ ان کا کہنا ’میرے بھائی کے دوستوں انہیں مشورہ دیا: اس ہڑا ہڑی میں اپنے بھائی کو مروا کر اس شرمندگی سے جان چھڑا لو جو اس کی وجہ سے ہے‘۔ وہ صرف اس شرط پر بی بی سی سے بات کرنے پر تیار ہوئے کہ ان کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔ جنسی تبدیلی سے گزرنے والے ان کے ایک دوست کو جس نے اپنا نام بھی تبدیل کر لیا تھا چھ ماہ قبل ایک دعوت میں جاتے ہوئے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں ہم جنسوں کے جلوس میں برطانوی فوج 27 August, 2005 | آس پاس سپین، ہم جنسوں میں شادی ممکن30 June, 2005 | آس پاس پولینڈ: ہم جنسوں کااحتجاجی جلوس 11 June, 2005 | آس پاس 20 لاکھ ہم جنس پرستوں کا جلوس30 May, 2005 | آس پاس ہم جنس پرست خوف کے سایے میں16 May, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||