BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 December, 2006, 16:01 GMT 21:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا:ہم جنس خواتین کی شادی

ویٹکا اور میلکا
ویٹکا اور میلکا کی شادی کی جب لوگوں نے مخالفت کی توہ وہ دوسرے گاؤں بھاگ کر چلی گئی تھیں
اڑیسہ کے کوراپٹ ضلع میں دو عورتوں نے ایک دوسرے سے شادی کی ہے اور ان کے قبیلے نے ان اسکی اجازت بھی دے دی ہے۔

اڑیسہ کے کاندھا قبیلے کے ایک پجاری نے ویٹکا پولانگ اور میلکا نلسا کی شادی کرائی ہے۔

ویٹکا کی عمر تیس برس ہے جب کہ میلکا بائیس برس کی ہیں۔

میلکا اور ویٹکا دونوں مزدوری کرتی ہیں اور شادی کے بعد کواپورٹ ضلع کے دندآباد گاؤں میں ایک ساتھ رہ رہی ہیں۔

ہندوستان کے قانون کےمطابق ہم جنسوں کے درمیان شادیاں غیر قانونی ہیں۔ ہندوستان میں ایک سو پینتالیس برس پہلے برطانوی دورمیں بنا قانون ہم جنس رشتوں کوغیر فطری مانتا ہے۔

عمرانیات کے ماہرین کےمطابق ہندوستان میں کسی برادری کا ہم جنسی شادیوں کو اجازت دینا عام نہیں ہے۔

ویٹکا اور میلکا کے لیے اپنی برادری کو اپنی شادی کے بارے میں آمادہ کرنا آسان نہیں تھا۔ جب انہوں نے پہلی بار اپنے رشتے کے بارے میں اپنی برادری کو بتایا تھا تو سبھی نے اسکی سخت مخالفت کی تھی۔

اپنی برادری کی مخالفت اور پڑویسوں کے ڈر سے دونوں خواتین گھر سے بھاگ گئی تھیں اور پڑوس کے ایک گاؤں میں جاکر رہنے لگی تھیں۔

ویٹکا
ویٹکا کا کہنا ہے کہ وہ دونوں اس شادی کے بعد کافی خوش ہیں

تاہم دونوں خواتین کےگھروالوں کی سفارش کے بعد گاؤں والوں نے باقاعدہ ویٹکا اور میلکا کی شادی کی اجازت دی۔

ویٹکا کے مطابق’ ہم دونوں ایک دوسرے کو بے حد پیار کرتے ہیں۔ شادی کے بعد ہم ایک خوش حال زندگی بسر کر رہے ہیں‘۔

گاؤں کےایک بزرگ میلکا پاؤلا کا خیال ہے کہ ویٹکا اور پولکا یہ ثابت کرنا چاہتی تھیں کہ وہ مردوں کی مدد کے بغیراپنی زندگي بسر کر سکتی ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو بہت پیار کرتی ہیں اس لیے ہم نےانہیں معاف کردیا‘۔

لیکن دونوں خواتین کواپنی برادری کو معاوضہ ضرور دینا پڑا ہے۔ معاوضے کے طور پرانہوں نے دیسی شراب، بیلوں کاایک جوڑا اور چاولوں کی ایک بوری اپنی برادری کو دی۔انکے گھر والوں نے سبھی براداری کے لوگوں کو دعوت پر بھی بلایا۔

ماضی میں دونوں خواتین کےمردوں کے ساتھ رشتوں میں تلخ تجربات رہے ہیں۔

ویٹکا کے مطابق اس کی شادی ایک شرابی سے ہوئی تھی اوروہ اس کو پریشان کرتا تھا۔ تنگ آکراس نے اپنے خاوند کو چھوڑ دیا۔

میلکا کے گھر والوں نے اس کی مرضی کے بغیر اسکی شادی ایک لڑکے کے ساتھ طے کردی تھی ۔ میلکا نے لڑکے کے گھر والوں سے یہ کہکر اپنی منگنی توڑ دی کہ اسکا دماغی توازن صحیح نہیں ہے۔

دونوں خواتین اپنے خاندان کو ویٹکاکے بھائی کے بیٹے کو گود لے کرمکمل کرنا چاہتی ہیں۔

اسی بارے میں
آزادی کے اصل مستحق
10.05.2003 | صفحۂ اول
فردوس کی اذیتیں
02 July, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد