BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فردوس کی اذیتیں
 فردوس کنگا
فردوس کنگا کی ہم جنس پرستی کے پہلے تجربے میں ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔
جنوبی ایشیاء میں ہم جنس پرستی پر بات کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی امرِ ممنوع لیکن کہیں کہیں لگتا ہے کہ ہم جنس پرست قدرے کُھل رہے ہیں۔ ہم جنس پرستوں کے بارے میں یہ مضمون ممبئی کے فردوس کنگا نے لکھا ہے جس میں وہ اپنی زندگی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک پارسی گھرانے میں پیدا ہوئے لیکن اب لندن میں ایک ایکٹر اور رائٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔

بچپن ہی سے وہ ہڈیوں کی بیماری کی ایسی بیماری میں مبتلا تھے جس میں ہڈیاں کمزور ہونے کی وجہ سے جلدی ٹوٹ جاتی ہیں۔

وہ لکھتے ہیں: ’میں جب چھوٹا تھا تو کئی کام نہیں کر سکتا تھا حتیٰ کہ میں ایک بسکٹ تک بھی نہیں توڑ سکتا تھا۔‘

فردوس کنگا کی ہڈیاں اتنی بار ٹوٹی ہیں کہ اب ان کو یاد بھی نہیں ہے۔وہ بچپن میں دوسرے بچوں کے ساتھ سکول نہیں جا سکتے تھے۔

فردوس کنگا کی دوسرے بچوں کے ہمراہ سکول نہ جانے کی وجہ ان کی ہم جنسیت نہیں بلکہ وہ ڈر تھا کہ کہیں کوئی لڑکا مذاق میں ہی ان کی کمر کو تھپکا نہ دے جس سے ان کی کوئی ہڈی بھی ٹوٹ سکتی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ پارسی ہونے کی وجہ سے انہیں مسلمانوں کی عید، ہندوؤں کی دیوالی اور عیسائیوں کی کرسمس میں جانے کا موقع مل جاتا تھا۔

فردوس کنگا کوپہلی دفعہ ہم جنس پرست ہونے کا احساس اس وقت ہوا جب انہوں نے ایک خوبصورت مرد کو دیکھا اور ان کے دل میں عجیب خیالات آنے شروع ہوئے۔

لیکن وہ ممبئی میں رہتے تھےاور 80 کی دہائی میں ممبئی میں ہم جنس پرستی کے بارے میں کوئی کھلے عام بات نہیں کرتا تھا۔

فردوس کنگا کو ہم جنس پرستی کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئیں وہ جیمز بالڈوین ، ای ایم فوسٹر اور آئرس مرڈوک کے ناولوں کے مطالعہ کے بعد ملیں۔

انہیں ہم جنس پرستی کا پہلا تجربہ اس وقت ہوا جب وہ بیس سال سے زیادہ کی عمر کو پہنچ چکے تھے اور ان کا پہلا ناول لندن میں چھپ رہا تھا۔

فردوس کنگا کو ایک شخص ملا جو ان کے اپنے بقول ’میرے لیے مسرت کا باعث بھی تھا اور غصے کا سبب بھی‘۔

جب ان کی والدہ کو پتا چلا کہ ان کا بیٹا ہم جنس پرست ہے تو انہیں اس بات کا اطمینان ہوگیا کہ کم از کم اب کوئی عورت ان کے بیٹے کو ان سے جدا نہیں کر سکے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت میں بہوؤں نے کئی ماؤں سے ان کے بیٹوں کو الگ کر دیا ہے۔

فردوس کنگا کی ایک خالہ کو جن سے وہ بہت محبت کرتے ہیں جب اپنے بھانجے کے بارے میں پتہ چلا تو ان کا صرف ایک مطالبہ تھا کہ فردوس کو کسی پارسی لڑکے کے ساتھ رہنا شروع کر دینا چاہیے۔

فردوس کنگا کہتے ہیں: ’میرے پہلے (ہم جنسی) تعلق کا اختتام اتنا زیادہ تکلیف دہ تھا کہ مجھے اس کا تصور تک نہیں تھا۔ اس بار مجھے ایکسرے کے ذریعے یہ تصدیق نہیں چاہیئے تھی کہ میری ہڈیاں بری طرح ٹوٹ گئی ہیں۔‘

لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ تجربہ آخری ثابت نہیں ہوا۔

فردوس کنگا اپنی ایک ’خاص محبت‘ کا ذکر بھی کرتے ہیں جب انہیں ایک شخص سے لگاؤ ہوگیا جو ایک ایسے مرض میں مبتلا تھا جس میں اعصابی کمزوری، اور رعشہ پیدا ہوتا ہے اور مریض کی زبان سے بے ساختہ آوازیں، عموماً گالیاں نکلتی ہیں۔ مگر کنگا کہتے ہیں کہ ان کا چاہنے والا گالیاں نہیں دیتا تھا۔

فردوس کنگا کے بقول ’ہم دونوں کو نرمی و گداز کا ایک احساس مل گیا تھا جس کا مجھے پہلے کوئی تجربہ نہیں تھا۔‘

’لیکن اس بار بھی ہمارے تعلق کا اختتام، خوشی پر منتہج نہیں ہوا- - -شاید یہ میری ہی غلطی ہے- - -یا شاید میرا ایک بہانہ‘۔

’میری تحریر مسرت انگیز انجام والی نہیں ہوتی۔ مجھے یہ بناوٹی لگتی ہے۔ بور بھی۔ اور اس سے ہمیں زندگی کو دیکھنے اور اس پر اشکبار ہونے کی آزادی بھی نہیں ملتی۔‘

66ہم جنس پرست شادیاں
ہسپانیہ ہم جنس شادیوں کی قبولیت کی طرف
66ہم جنسیت اور خوف
خوف کا سفر اور امید کی کِرنیں
66جسم فروشوں کا دورہ
پاکستانی جسم فروشوں کا وفد کلکتے میں
66امریکی ہم جنسیت
یومِ ہم جنسیت جوش خروش سے منایا گیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد