جسم فروشی میں پاک بھارت تعاون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برِ صغیر کے ایٹمی ہمسائے جہاں ایک طرف امن کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان زندگی کے دوسرے تمام شعبوں میں قریبی تعاون رابطوں اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں غیر حکومتی سطح پر بہت سی تنظیموں نے ایک دوسرے سے تعلقات قائم کیے ہیں۔ اسی سلسلے میں جسم فروشی کرنے والی خواتین کا ایک گروپ پاکستان سے بھارت کے شہر کلکتہ پہنچا ہے۔ کولکتہ سے اس دورے کی تفصیل بتاتے ہوئے سوبھیر بھومک کا کہنا ہے کہ وفد کی اراکین نے آج کولکتہ کہ ریڈ لائٹ علاقے سونا گاچھی کا دورہ کیا۔ اس دورے میں ان کی میزبان دربار مہلا سامونائے سمیتے یعنی کلکتہ کی سیکس ورکرز یا جسم فروشی کرنے والیوں کی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے انہیں پورے علاقے میں گھمایا اور خاص طور پر جنسی عمل کے لیے استعمال کیے جانے والے ان محفوظ طریقوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا جو ان کی ارکان یا کلکتے کی جسم فروش استعمال کرتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس بات چیت کے دوران اس بات پر غور کیا گیا کے ایڈز کو روکنے کے لیے کیا اقدام کیے جا سکتے ہیں اور خریداروں کو کس طرح کنڈوم استعمال کرنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی وفد کی شریک ارکان نے اس دورے کے بعد بتایا کہ انہیں یہ جان کر انتہائی حیرت ہوئی ہے کہ کولکتے میں جسم فروشی کرنے والی ان خریداروں کو قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہیں جو کنڈوم استعمال کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ دربار مہلا ایسوسی ایشن نے ایک دہائی پہلے کلکتے مختلف چکلوں میں کام کرنے والی چھ ہزار خواتین کو اس بات آمادہ اور منظم کیا کہ اپنی حفاظت کے لیے محفوظ طریقے استعمال کریں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران ایڈز اور ایچ آئی وی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں انتہائی کامیاب کردار ادا کیا ہے اور صحت مندی کےمحفوظ طریقوں پر عمل کر کے دکھایا ہے۔ پاکستانی وفد کی قیادت حیدرآباد سندھ کی ماجد رانی کر رہیں ہیں۔ کلکتہ میں ان کے ہم منصب سوپنا گائن پاکستانی وفد کو کلکتہ کے سونارگاچی علاقے کا دورہ کرنے کے بعد بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوے کہا ہے کہ ’پاکستان میں جسم فروشی کرنے والی کارکنوں کا بھارت میں جسم فروشی کرنے والی خواتین کے کسی علاقے کا یہ پہلا دورہ ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’وفد بالکل ٹھیک شہر کا دورہ کرنے آیا ہے کیونکہ ایشیا ہم سب سے زیادہ منظم ہیں۔‘ سوپنا نے بتایا کے ’ماجد رانی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تو اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی چکلے میں جنسی تسکین کے لیے آئے اور کنڈوم استعمال کرنے پر آمادہ ہو جائے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||