| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ہم اسرائیل میں محفوظ ہیں‘
کچھ اطلاعات کے مطابق بہت سے ہم جنس فلسطینی نوجوان بھاگ کر اسرائیل میں پناہ لے رہے ہیں۔ کچھ اندازوں کے مطابق تقریباً تین سو ایسے فلسطینی مرد خفیہ طور پر اسرائیل میں رہ رہے ہیں۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل میں خطرات اور شبہات کے باوجود اپنے آپ کو زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ایک بائیس سالہ فلسطینی نے بی بی سی کے ’آؤٹ لُک‘ پروگرام کو اپنی داستان سنائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ اٹھارہ سال کے تھے تو ان کے بھائی نے ان کو ان کے محبوب کے ساتھ پکڑ لیا۔ ’بھائی نے ہم کو بہت مارا۔ اس کے بعد ہمارے ہاتھ پیر ایک تار سے باندھ دئے اور پھر وہ ہم دونوں کے والدین کو بلانے چلے گئے۔ ‘ اس شخص نے بتایا کہ اس کی ماں نےآخر اس پر ترس کھا کر اس کو رہا کر دیا لیکن اس سے کہا کہ اگر اس کے باپ نے اس کو ڈھونڈ لیا تو وہ اس کو مار ڈالے گا۔ یہ شخص اپنے خاندان والوں سے بھاگ کر اسرائیل پہنچا۔ اسرائیل میں اس کو گھر میں نظر بند رہنا پڑا کیونکہ وہ ایک مشتبہ فلسطینی نوجوان تھا۔
اسرائیل میں ہم جنس تنظیموں کے رکن شول گونین نے آوٹ لُک کو بتایا کہ اسرائیل پناہ کے ان متلاشیوں کو انکار کر سکتا ہے جن کا تعلق ایسے علاقوں سے ہو جن سے اسرائیل کی لڑائی چل رہی ہو۔ بہت سے ہم جنس فلسطینی مردوں کو اسرائیل میں رہنے دیا جاتا ہے لیکن ان کو خود کش بم حملہ آور ہونے کے خطرے کے باعث گھر میں نظر بند کیا جاتا ہے۔ شول گونین نے بتایا ہے کہ ان افراد کو کوئی مناسب مدد نہیں ملتی اور سب ان کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ’فلسطینی کہتے ہیں کہ یہ ہم جنس لوگ یقیناً دشمن کے ساتھ ملے ہوئے ہوں گے جبکہ اسرائیلی ان کو دشمن عناصر اور سکیورٹی کا ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔‘ ان ہم جنس فلسطینی مردوں کو شدید عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے اس قدر غیر محفوظ حالات کے باعث ان پر پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کا دباؤ بہت ہوتا ہے۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ فلسطینی اور اسرائیلی پولیس ان پر مخبری اور ہم جنس تعلقات کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کو کہتی ہے اور ان کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بقول شول گونین ’ان کا کوئی نہیں ہوتا۔ان کی مدد کوئی نہیں کرتا لیکن ان کو استعمال ضرور کیا جاتا ہے۔‘ ان غیر محفوظ حالت میں یہ افراد اکثر جسم فروشی پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||