BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 October, 2007, 22:20 GMT 03:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذاہب نفرت کے آلۂ کار نہیں:پوپ
 آرچ بشپ آف کنٹربری پوپ بینیڈکٹ کے ہمراہ(فائل فوٹو)
آرچ بشپ آف کنٹربری پوپ بینیڈکٹ کے ہمراہ اجلاس میں شریک ہیں(فائل فوٹو)
رومن کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینیڈکٹ XVI نے دنیا بھر کے مذہبی پیشواؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ خدا کا نام تشدد کو صحیح ثابت کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

نیپلز میں ایک امن اجلاس کے موقع پر پوپ کا کہنا تھا کہ ’مذاہب کو کبھی بھی نفرت کا آلۂ کار نہیں بننا چاہیے‘۔

ایک کیتھولک تنظیم کی جانب سے منعقدہ اس تین روزہ اجلاس میں مسلمان، عیسائی، یہودی، بدھ، ہندو اور زرتشت مذاہب کے علماء اور پیشوا شریک ہیں۔

اس اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں آرچ بشپ آف کنٹربری رووان ولیمز، اسرائیل کے سب سے بڑے ربّی یونا مزگر اور متحدہ عرب امارات کے امام ابراہیم عزالدین بھی شامل ہیں۔

اجلاس سے خطاب میں پوپ بینیڈکٹ کا کہنا تھا کہ’ ایک ایسی دنیا میں، جو لڑائیوں کا نشانہ ہے،جہاں خدا کا نام تشدد کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، یہ بہت ضروری ہے کہ اس بات کو دہرایا جائے کہ کوئی بھی مذہب کبھی بھی نفرت کا آلۂ کار نہیں بن سکتا اور اسے کبھی بھی تشدد کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا‘۔

انہوں نے کہا کہ’اس کے برعکس مذاہب کو ایک امن پسند انسانیت کی تشکیل کے لیے اپنی تعلیمات پیش کرنی چاہیئیں کیونکہ وہ انسان کے اطمینانِ قلب کی بات کرتے ہیں‘۔

پوپ نے کہا کہ مختلف مذاہب کے درمیان موجود اختلافات کا احترام کرتے ہوئے قیامِ امن اور باہمی اتفاق کے لیے کام کیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں
چینی بشپ کو پوپ کی منظوری
21 September, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد