چینی بشپ کو پوپ کی منظوری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں پچاس سال میں پہلی دفعہ پوپ کی منظوری کے بعد بیجنگ میں ایک نئے کیتھولک بشپ کو تعینات کیا گیا ہے۔ بیالیس سالہ فادر جوسف لی شان کو تیانانمین سکوئیر کے قریب واقع ایک کتھیڈرل کا بشپ بنایا گیا ہے۔ ان کے پیشرو، فوٹیشان کو چینی حکومت نے ویٹیکن سے اجازت لیے بغیر بشپ بنا دیا تھا جو کہ گزشتہ کئی برسوں چین کی حکومت کی عادت بن چکی تھی۔ جولائی میں ویٹیکن کے وزیر خارجہ کارڈنل ٹارسسکو برتون نے کہا تھا کہ فادر لی اس عہدے کے لئے بہترین ثابت ہوں گے۔ چین نے 1951 میں ویٹکن سے اپنے تعلقات خراب کر لیے تھے اور چین کی عیسائی آبادی دو حصوں میں بٹ گئی تھی۔ ایک حصے کے لوگوں نے پیٹریاٹک چرچ کو ماننا شروع کر دیا جبکہ دوسرے ویٹکن کے وفادار زیرزمین چرچ کو مانتے رہے ہیں۔ اختلافات شروع ہونے کی وجہ یہ تھی کہ پیٹریاٹک چرچ ویٹکن سے بشپ بنانے کے لئے اجازت لینا غیر ضروری سمجھتا تھا۔ مگر پوپ بینیڈکٹ نے اس معاملے کو حل کرنے کے لئے جون میں چین کے کیتھولکس کو صلح کرنے کے لئے خط بھیجا اور ان کے بنائے ہوئے کئی بشپز کو قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ ویلی نے روم سے بتایا کے گزشتہ سال دونوں طرف سے معاملہ ناگوار رہا۔ پوپ نے چین کے فیصلے میں ان کو نہ شامل کرنے پر افسوس کیا جبکہ چین نے پوپ سے چین کے اندرونی معاملات میں دخل دینے کی شکایت کی۔ |
اسی بارے میں عالمی سطح پر پوپ کو خراج عقیدت03 April, 2005 | صفحۂ اول عالمی رائے چین کے حق میں06 March, 2005 | صفحۂ اول تیس نئے کارڈنل تقرر21 October, 2003 | صفحۂ اول ویٹیکن:جنسی جرائم کی پردہ پوشی کا الزام17 August, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||