امریکہ سے زیادہ چین مقبول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک عالمی جائزے کے مطابق عراق کی جنگ کے بعد سے دنیا میں امریکہ کا امیج اتنا خراب ہو چکا ہے کہ اب کئی ممالک میں لوگوں کا چین کے بارے میں امریکہ سے کہیں زیادہ اچھا تاثر ہے۔ یہ جائزہ امریکہ میں مقیم پیو ریسرچ سنٹر نے کروایا ہے اور اس جائزے میں امریکہ سمیت دنیا کے سولہ ممالک میں سترہ ہزار افراد کی رائے طلب کی گئی۔ ان سولہ ممالک میں سے کسی میں بھی اکثریت کی یہ رائے نہیں تھی کہ عراق جنگ کے بعد سے دنیا کو زیادہ محفوظ بنا دیا گیا ہو۔ امریکہ کا امیج مغربی یورپ کے ممالک میں بھی بہتر نہیں ہوا ہے لیکن کئی مسلمان ممالک میں امریکہ کے خلاف جارحانہ رویے میں کمی آئی ہے۔ ان مسلمان ممالک میں انڈونیشیا میں امریکہ کی ساکھ کچھ بہتر ہوئی ہے لیکن اردن اور پاکستان میں اب بھی امریکہ کے بارے میں لوگوں کی رائے زیادہ اچھی نہیں ہے۔ جائزہ کروانے والے تحقیقاتی مرکز کے ڈائریکٹر اینڈریو کوہوٹ کہتے ہیں کہ یہ بات حیرانی کا باعث ہے کہ مغربی یورپ کے ممالک میں لوگوں کا امریکہ سے زیادہ چین کے بارے میں مثبت رویہ پایا جاتاہے۔ لیکن ساتھ ساتھ ان افراد نے چین کی بڑھتی ہوئی عسکری اور اقتصادی قوت پر تشویش کا اظہار کیا اور ترکی کے علاوہ سب ممالک میں اکثریت کا کہنا تھا کہ وہ چین کوامریکہ کے مقابلے کا عسکری طاقت والا ملک نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس جائزے میں زیادہ تر ممالک نے کہا کہ وہ امریکیوں کو محنتی سمجھتے ہیں لیکن بیشتر افراد کا کہنا تھا کہ وہ امریکیوں کو پر تشدد اور لالچی سمجھتے ہیں۔ اس جائزے میں امریکہ کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والوں کی سب سے بڑی تعداد یعنی اکہتر فیصد بھارت میں پائی گئی جبکہ اردن میں سب سے کم تھی یعنی صرف بیس فیصد۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||