 | | | دوسری جنگِ عظیم کے اختتام کے قریب پوپ جرمن فوج کی طرف سے جنگ میں شریک تھے |
پوپ بینیڈکٹ نے پہلی بار اپنے حوالے سے نازیوں کے دور کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ اس وقت کے جرمن ماحول کے مطابق ہٹلر کی طرف سے قائم کی جانے والی نوجوانوں کی تنظیم کے رکن تھے۔ پوپ جان پال شش دہم نے نیویارک میں نوجوانوں کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان کی نوجوانی مفسدانہ حکومت نے تباہ کر دی‘۔ وہ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام کے قریب جرمن فوج کی طرف سے جنگ میں بھی شریک تھے۔ اس سے قبل مینہٹن کے سینٹ پیٹر کیتھڈرل میں عبادت کے دوران پوپ ایک بار پھر بچوں سے جنسی فعل کرنے والے کیتھولک پادریوں کی مذمت کی۔ کیتھولک چرچ کا سربراہ منتخب ہونے کے بعد پوپ کا یہ پہلا دورۂ امریکہ ہے۔ سنیچر کو ان کے پوپ بننے کی تیسری سالگرہ تھی۔ انہوں نے نیویارک کے نواح میں یونکرز کے مقام پر سینٹ جوزف نامی درس گاہ میں لگ بھگ تیس ہزار کے قریب پُر جوش نوجوانوں سے خطاب کیا۔ ایک نوجوان کی حیثیت سے پوپ کو نوجوانوں کے لیے ہٹلر کی تنظیم کا رکن بننا پڑا تھا اور اس کے علاوہ جنگ کے اختتام سے کچھ عرصہ قبل انہیں جنگ میں شریک بھی ہونا پڑا۔ انہوں نے مختصر عرصے کے لیے طیارہ شکن کور میں کام کیا۔ جنگ ختم ہونے سے پہلے ہی وہ فرار ہو گئے اور انہیں اتحادیوں نے 1945 میں جنگی قیدی بنا لیا۔
 | خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے  ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ آج آپ کی نسل کے بیشتر لوگ ان آزادیوں سے فیضیاب ہو رہے ہیں جو جو جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام کے تصور کے پھیلاؤ سے پیدا ہوئی ہیں  پوپ بینیڈکٹ |
رہائی کے بعد انہوں نے مذہبی تعلیم حاصل کی اور پادری بن گئے۔ پوپ نے نوجوانوں کو اپنی نوجوانی کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اس مفسدانہ حکومت نے ان کی نوجوانی کو تباہ کر دیا جو یہ سمجھتی تھی کہ اس کے پاس ہر سوال کا جواب ہے۔ انہوں نے کہا ’ اس سے پہلے کہ اس شیطانیت کے بارے میں علم ہوتا اس کے اثرات سکولوں، سماجی تنظیموں یہاں تک کہ مذہب تک بھی پہنچ گئے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ آج آپ کی نسل کے بیشتر لوگ ان آزادیوں سے فیضیاب ہو رہے ہیں جو جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام کے تصور کے پھیلاؤ سے پیدا ہوئی ہیں‘۔ |