قرطبہ: مسلمانوں کو اجازت نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کے جنوبی شہر قرطبہ کے رومن کیتھولک بِشپ نے مقامی مسلمانوں کی اس درخواست کو رد کر دیا ہے جس میں انہوں نے دسویوں صدی میں تعمیر کی گئی مسجد میں عبادت کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ سپین میں مسلمانوں کی حکمرانی میں تعمیر کی گئی یہ مسجد کئی صدیوں سے عیسائی کیتھیڈرل کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ سپین کے ’اسلامک بورڈ‘ نے درخواست میں کہا تھا کہ اس عمارت کو اب ایک ایسی عبادت گاہ بنادیا جائے جس میں تمام مذاہب کے لوگ جا کر عبات کر سکیں۔ سپین میں تقریباً آٹھ لاکھ مسلمان ہیں جبکہ ملک کی کل آبادی 44 ملین ہے۔ اسلامک بورڈ نے پاپائے روم کے نام خط میں کہا تھا کہ اس عمارت کو تمام مذاہب کے لیے عبادت گاہ میں تبدیل کرنے سے تفہیم اور امن کا ماحول پیدا ہو سکے گا۔ کلیسائے روم کو بھیجے گئے خط میں اسلامک بورڈ کا کہنا تھا کہ ’ہم اس مقدس مقام پر قابض نہیں ہونا چاہتے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ مل کر اس کو ایک ایسا مذھبی مقام بنا دیں جو امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکے۔‘ لیکن قرطبہ کے بِشپ خوان خوسے آسینخو نے اسلامک بورڈ کی یہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب کے لیے مشرکہ عبادتگاہوں کے قیام سے محض ’کنفیوژن ‘ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی عبادت گاہیں ہوائی اڈوں یا اولمپک ولجز میں تو چل سکتی ہیں لیکن ایک ’مقدس کیتھولک کتھیڈرل کے اندر مناسب نہیں۔‘ مسجد کو سپین کے مسلمان حکمرانوں نے دسویں صدی میں تعمیر کیا تھا لیکن سنہ 1236 میں مسلمانوں کی سپین کے انتہا پسند کیتھولک حکمران کے ہاتھوں شکست کے بعد اسے ایک کیتھولک کیتھیڈرل میں تبدیل کر دیا گیا۔ سپین اسلامک بورڈ کے جنرل سکریٹری منصور ایسکودیرو نے کہا تھا کہ اسلامی اسلوب میں قائم کی گئی اس مشہور عمارت کو دنیا بھر سے مسلمان دیکھنے آتے ہیں لیکن یہاں کے سکیورٹی گارڈز ان لوگوں کو یہاں نماز ادا رنے سے روک دیتے ہیں۔ قرطبہ کی مسجد اقوام متحدہ کی تنظیم برائے ثقافت ’یونیسکو‘ کی ورلڈ ہریٹیج سائٹس کی فہرست پر ہے۔ | اسی بارے میں غرناطہ: صدیوں بعد پہلی مسجد12 March, 2004 | آس پاس القاعدہ سےتعلق کاشبہ، 14 گرفتار19 December, 2005 | آس پاس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||