BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 March, 2004, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غرناطہ: صدیوں بعد پہلی مسجد
اندلس
جب جنوبی سپین کے مسلمان طبقے نے غرناطہ شہر میں پانچ سو برس میں پہلی مسجد تعمیر کی تو مقامی طور پر اس کی کافی زیادہ مخالفت ہوئی تھی۔

آٹھ سو برس تک عرب حکمرانی کے دوران غرناطہ کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ یہاں کے لوگوں میں برداشت کا مادہ پایا جاتا ہے اور یورپ میں الحمرا محل اسلامی طاقت کی علامت تھا۔

لیکن گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد دنیا میں لوگوں کا خیال تھا کہ یہ مسجد مذہبی انتہا پسندی کا مرکز بن سکتی ہے۔

اسلامی شاعری میں یقیناً سپین کے جنوبی شہر اندلس میں واپسی کی خواہش کا ذکر ملتا ہے۔ بہت سے مسلمانوں کا خیال ہے کہ یہ علاقہ اسلامی تعلیمات اور ثقافت کی علامت ہے۔

لیکن غرناطہ کی مسجد کی کھلی پالیسی کے باعث مقامی طور پر جو مخالف جذبات پیدا ہوئے تھے اور وہاں کے لوگوں کے جو خدشات تھے وہ اب رفتہ رفتہ ختم ہو رہے ہیں۔

مسجد کے ڈائریکٹر عبدالحسیب کاسٹینیریا کہتے ہیں ’ہم سکول کے گروپوں کو یہاں بلاتے ہیں، ہم سیاحوں کو یہاں آنے کی دعوت دیتے ہیں، ہماری طرف سے سب کو اس مسجد میں آنے کا پیغامِ عام ہے۔ یہاں بچوں کو بغیر کسی معاوضے کے عربی سکھائی جاتی ہے۔‘

 غرناطہ کی مسجد شہر کے ایک پرانے قصبے کی پہاڑی پر بنائی گئی ہے۔ اس قصبے کی بل کھاتی گلیاں جن میں سفیدی بالخصوص نگاہ کے لئے باعث کشش بن جاتی ہے اور یہاں کے کئے عربی چائے خانے ذہنوں کو میڈرڈ سے زیادہ رباط کی یاد دلاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’ہمارے پاس چھپانے کے لئے کچھ بھی نہیں اور بیرونی دنیا کو ہمارے عقیدے اور ہماری ثقافت کو جانچنے اور جاننے کی دعوتِ فکر ہے۔ ہمارے نزدیک مغربی دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایسا ہی کرنا چاہیئے۔ ہر طرف تعصب کی ہوا ہے اور جہالت کی فضا ہے اور یہ نفرتیں تب ہی مٹ سکیں گی جب ہم دیگر عقائد اور دوسروں کے مذہبی رواج کے بارے میں علم حاصل کریں گے۔‘

غرناطہ کی مسجد شہر کے ایک پرانے قصبے کی پہاڑی پر بنائی گئی ہے۔ اس قصبے کی بل کھاتی گلیاں جن میں سفیدی بالخصوص نگاہ کے لئے باعث کشش بن جاتی ہے اور یہاں کے کئے عربی چائے خانے ذہنوں کومیڈرڈ سے زیادہ رباط کی یاد دلاتے ہیں۔

اندلسیا لیگ کے صدر جیرونیمو پائز کہتے ہیں کہ یہاں کے لوگوں کو علم ہے کہ ان کا ثقافتی ورثہ مخلوط ہے ۔ ’ہمارے پاسپورٹ بھلے یہ کہتے ہوں کہ ہم سپین کے ہیں لیکن ہمارے دلوں میں عرب جا گزیں ہے۔ گراناڈا وہ شہر ہے جہاں مسجدوں کے پہلو میں گرجا گھر واقع ہیں۔

لیکن جس طرح سپین میں عرب حکمرانی کا دور اتنا زیادہ آزاد نہیں تھا اور اس میں اتنی برداشت نہیں تھی جتنا کہ کچھ مؤرخ بیان کرتے ہیں، اسی طرح آج کے غرناطہ میں بھی روزانہ کے حقائق مختلف تقافتوں سے تعلق رکھنے والےان لوگوں کے لئے کئی مسائل پیدا کرتے ہیں جو ساتھ ساتھ رہنے کے لئے کوشاں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد