BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 December, 2008, 15:26 GMT 20:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محاصرے سے موت اچھی ہے

غزہ
غزہ کے ایک ہسپتال کا منظر
سرینگر میں فوجی محاصرے میں انتخابات ممبئی دھماکوں کے بعد بھارت پاکستان میں نیشنلزم کی تباہ کنُ لہراور کروڑوں لوگوں کے ذہنوں پر جنگ کے منڈلاتے بادل دیکھنے کے بعد جب میں نےہیتھرو آئرپورٹ پر قدم رکھا تو شدید سردی کی لہر میں ٹھٹھرنےکے باوجود دل کا بھاری پن کم ہونے لگا۔

میں اپنے آپ کو یہ تسلی دیتے ہوئے گھر پہنچی کہ چند روز خون خرابے ،مارا ماری اور دل دہلانے والی ان خبروں سے نجات ملے گی۔

جی بہلانے کے لیے ٹیلی ویژن آن کیا کہ غزہ کی تباہ کن تصویریں اور ہر طرف فلسطینیوں کی خون میں لت پت لاشیں میرا مذاق اُڑانے لگیں۔

اقوام متحدہ کے معمولی بیان کے علاوہ اس پر جیسےساری دنیا کو سانپ سوُنگھ گیا ہو۔

ممبئی حملوں پر ساری دنیا ایک آواز میں پاکستان کے خلاف صف آراء ہوئی حالانکہ وہ گلہ پھاڑ پھاڑ کر کہہ رہا ہے کہ اس کا کوئی ہاتھ نہیں اور وہ دہشت گردوں کو پکڑنے میں ہر ممکن تعاون کرے گا مگر اس کی بات پرکسی کو یقین ہی نہیں آرہا۔

سرجیکل سٹرائیکس سے لے کر ایک بڑے حملے تک کی دھمکیوں سے کروڑوں عوام کی نیندیں اڑ گئیں مگر بھارتی میڈیا نے رائے عامہ کو تیار کر ہی لیا ہے کہ ’پاکستان کو سبق‘سکھانا چاہیے۔

معلوم نہیں کہ پاکستان خود اپنی کرتوتوں کی وجہ سے تنہا ہورہا ہے یا پھر افغان جہاد سے لے کر طالبان کو پیٹھ دکھانے تک کے تمام کام کروانے کے بعد بڑی طاقتیں اب اس سےاُوب گئی ہیں ۔

مگر کیا اس بات سے کسی کو انکار ہے کہ مسلم دنیا کی تباہی اور زوال کی داستان خود اس کےحکمران لکھ رہے ہیں۔مصر سے لے کر سعودی تک کے شہنشاہوں کو اس کا کیا تجربہ کہ جو قوم دوسال سے محصور اور ضرورت زندگی سے محروم بنائی گئی ہے وہ شاید خود بھی اب اسرائیلی بمباری سے ہی اپنا خاتمہ چاہتی ہو تاکہ بار بار کی ذلت اور تضیحک سے نجات حاصل کی جائے۔

لہذا ایشیائی مسلمان ہو یا فلسطینی وہ جہاں کہیں بھی ہے بقیہ دنیا کے لیے درد سر بن گیا ہے۔

دنیا کی دوسری قومیں ترقی کر رہی ہیں ایک دوسرے کے قریب آرہی ہیں مسلم دنیا میں جہاں چاہیں حملے کرسکتیں ہیں اپنے فوجی اڈے قائم کرسکتی ہیں اور جہاں ذرا سی بھی مزاحمت کا سامنا ہے وہاں کے حکمرانوں کو چند سکے دے کر خرید رہی ہیں اب تومزاحمت کاروں کو بھی وائگرہ دے کر اپنے غلام بنا رہی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ان قوموں نے دوسروں کو زیر کرنے کا ہنر سیکھا ہے۔
جبکہ ایک ارب سے زائد آبادی پر مشتمل قوم اب تک صرف آپس میں لڑنا سیکھی ہے۔

غزہغزہ کی ناکہ بندی
غزہ: ’بد ترین حالات‘، عرب ممالک پر تنقید
’ناتجربہ کار‘ لیونی
موساد کی ایجنٹ قدیمہ کی سربراہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد