BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 December, 2008, 06:54 GMT 11:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غزہ بمباری مہم کا پہلا مرحلہ ہے‘
اسرائیل فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ غزہ پر زمینی حملے کی بھی تیاری کر رہا ہے

اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری حماس کے خلاف جاری کارروائی کا پہلا مرحلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے حماس کے آپریشن میں فوج کو مکمل آزادی دے رکھی ہے تاکہ غزہ سے اسرائیل پر راکٹ داغے جانے کا سلسلہ بند ہو سکے۔

غزہ پر چوتھے روز بھی بمباری جاری ہے اور تازہ حملے میں مزید دس لوگ ہلاک ہو گئے۔ چار روز سے جاری آپریشن میں مجموعی طور پر تین سو ساٹھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیل فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ غزہ پر زمینی حملے کی بھی تیاری کر رہا ہے اور اس نے غزہ کی سرحد کے ساتھ ساتھ اپنے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور بری فوج جمع کر لی ہے اور اسے ایک ’ممنوعہ فوجی علاقہ‘ قرار دے دیا ہے۔

دوسری طرف حماس کی طرف سے داغے جانے والے راکٹوں سے چار اسرائیلی ہلاک ہو ئے ہیں جن میں ایک فوجی بھی شامل ہے۔

اسرائیلی نائب وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ ان کا ملک کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ کے لیے تیار ہے اور اس کی کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک راکٹ حملوں کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ داخلہ مئیرشیترت کا کہنا ہے کہ’اسرائیلی فوج کو اس وقت تک اپنی کارروائی نہیں روکنی چاہیے جب تک اسرائیل پر راکٹ پھینکنے والے فلسطینیوں اور حماس کی ہمت نہیں ٹوٹ جاتی‘۔ یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل اسلامی تنظیم حماس کے خلاف جنگ کی حالت میں ہے۔

غزہ سے بی بی سی کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ سوموار سے منگل تک اسرائیل کی طرف سے کم سے کم چالیس حملے کیے گئے جن میں مسجدوں، گھروں اور حماس کی تربیت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق اب تک باسٹھ بچے اور عورتیں ہلاک ہوئی ہیں

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے جبکہ حقوقِ انسانی کے لیے اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار رچرڈ فالک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسرائیل جدید ہتھیاروں کی مدد سے نہتے لوگوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے اور ایک ایسی آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے جسے کئی ماہ سے شدید مقاطعہ کا سامنا ہے‘۔

نامہ نگاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے سرحد کو فوجی علاقہ قرار دینے اور ریزرو فوجیوں کو بلانے جیسے اقدامات نہ صرف زمینی کارروائی کا پیش خیمہ ہیں بلکہ ان کی مدد سے حماس پر دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔

دریں اثناء مشرق وسطی کے علاوہ دنیا کے کئی ملکوں میں اسرائیل کے خلاف عوامی مظاہرے کیئے گئے ہیں۔لندن، پیرس اور یورپ کے کئی اور شہروں کے علاوہ اسرائیل کے خلاف مظاہرے لاطینی امریکہ کے ملکوں میں بھی ہوئے ہیں۔اردن میں مسلسل دوسرے روز ہونے والے مظاہرے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور انہوں نے امریکی اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کیے۔عراق، مصر، شام اور لیبیا میں بھی عوامی غم و غصہ مظاہروں کی شکل میں دیکھنے میں آیا۔ ان مظاہروں میں عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اسرائیل نے کہا کہ وہ حماس کسی عمارت کو نہیں چھوڑیں گے

بیروت میں ایک بہت بڑا مظاہرہ ہوا جس کا اہتمام اسلامی تنظیم حزب اللہ نے کیا تھا۔ جنوبی بیروت کی سڑکوں پر لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے اسرائیل کے خلاف مظاہرے میں شرکت کی۔ مظاہرین، فلسطین، حزب اللہ اور لبنان کے پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔

اردن کے دارالحکومت میں عمان میں مظاہرین نے وزیر اعظم کے دفتر تک جلوس نکالا اور مطالبہ کیا کہ اردن اسرائیل سے فوری طور سفارتی تعلقات منقطع کرے اور انیس سو چورانوے میں ہونے والے معاہدے کو بھی ختم کر دے۔

مصر میں حزب اختلاف کی جماعت اخوان المسلمین کی طرف سے کیے جانے والے مظاہرے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔عرب دنیا کے علاوہ بنگلہ دیش اور پاکستان میں بھی اسرائیل مخالف مظاہرے ہوئے ہیں۔

حملوں کا مقصد
غزہ پر کیے گئے حملے اور اسرائیل کے مقاصد
اسرائیلی حملے بمباری تیسرا دن
غزہ پر اسرائیلی حملوں کا تیسرا دن
غزہغزہ، اسرائیلی حملے
حملے حماس کے ٹھکانوں پر کیے گئے: اسرائیل
ایلن جونسٹناسرائیل جانتا ہے۔۔۔
’فوجی کارروائی غزہ کے مسئلے کا دیرپا حل نہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد