اسرائیل کے فضائی حملوں کی ’مذمت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل کی طرف سے غزہ پر فضائی حملوں میں غیر ضروری طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے اور ایک مرتبہ پھر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ بان کی مون نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ راکٹ حملوں کے خلاف اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہیں لیکن حالیہ صورت حال نے انہیں دلی طور پر رنجیدہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے عالمی رہنماؤں پر غزہ میں ’ناقابل برداشت‘ تشدد کو روکنے کے لیے کچھ نہ کرنے پر تنقید کی۔ انہوں نے اس مسئلہ کے دیرپا حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ بن کی مون نے کہا کہ ان کے خیال میں علاقائی اور عالمی رہنماؤں نے اس تشدد کو روکنے کے لیے جو کچھ کیا وہ کافی نہیں انہیں اس سے زیادہ کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس تشدد کو فوری طور پر روکنے کےلیے ہر ممکن قدم اٹھایا جانا چاہیے اور پرامن سیاسی حل کے لیے کوششیں کی جانی چاہیں۔ عرب لیگ کے رہنماؤں کا اجلاس بدھ کو مصر میں ہو رہا ہے جس میں غزہ کی صورت حال پر ایک متفقہ موقف اختیار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ بان کی مون نے کہا کہ ’میں ان پر زور دیتا ہوں کہ جلد اور فیصلہ کن اقدام کریں تاکہ اس تعطل کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی دوسرے عالمی رہنماؤں کو بھی اپنی کوششیں کو تیز کر دینا چاہیے اور اس مسئلہ کے دیرپا حل کی حمایت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تشدد پر بہت متفکر ہیں اور یہ سب کچھ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ بند ہونا چاہیے اور اسرائیل اور حماس کو اپنی پر تشدد کارروائیوں کو روکنا چاہیے اور شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مصر کے سفیر مجید عبدالعزیز نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ عرب ملک کچھ نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کے بان کی مون کس قسم کے اقدامات چاہتے ہیں۔ عبدالعزیر اور تین اور عرب سفارت کاروں نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ وہ سلامتی کونسل کے صدر نوین جوریکا سے ملے ہیں اور ان سے سلامتی کونسل کی طرف سے جنگ بندی کے بیان پر عملدرآمد کرانے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے کہا ہے۔ فلسطینی سفیر ریاض مسرور نے کہا کہ عرب سفارت کاروں نے عملی اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کوئی تفصیل نہیں بتائی لیکن کہا کہ اسرائیل کو چوبیس گھنٹوں میں کسی تصفیے پر پہنچنے کے لیے مجبور کر دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے امدادی کاموں کے سربراہ جان ہومز نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ساٹھ ٹرکوں کو روزانہ غزہ جانے کی اجازت دی جا رہی ہے جو بالکل ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کے روزآنہ کم از کم سو ٹرکوں کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں ’فوجی کارروائی غزہ کا دیرپا حل نہیں‘29 December, 2008 | آس پاس غزہ میں تیسرے روز بھی بمباری، 315 ہلاک29 December, 2008 | آس پاس ہیلوپولیس:میرا پیزا ٹھیک نہیں بنا29 December, 2008 | آس پاس ’فریقین پرتشدد کارروائی روکیں‘29 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||