غزہ میں تیسرے روز بھی بمباری، 315 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کےجنگی طیاروں نےتیسرے روز بھی غزہ میں حملے جاری رکھے ہوئے جن میں ابتک تین سو سے زائد فلسطینی باشندے ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فضائیہ نے اپنے تازہ حملے میں غزہ میں اس عمارت کو نشانہ بنایا جسے حماس تنظیم وزارت دفاع کے طور پر استعمال کرتی تھی۔ ادھر اسرائیل ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں زمینی کارروائی کی مکمل تیاری کے ساتھ غزہ کی سرحد پر کھڑی ہیں اور حکام کی جانب سے حکم کے انتظار میں ہیں۔ اسرائیل حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک غزہ کے اندر اپنی کارروائی جاری رکھیں گے جب تک انہیں یقین نہیں ہو جاتا کہ اسرائیل پر راکٹ حملے بند ہو جائیں گے۔
اسرائیلی فضائیہ نے اتوار کو رات گئے ایک حملے میں غزہ کی اسلامی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا جبکہ گزشتہ دو دن سے جاری مسلسل بمباری میں اب تک عورتوں اور بچوں سمیت تین سو کے قریب افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیل کی طرف سے یونیورسٹی کو نشانہ بنائے جانے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ان حملوں کے خطرے کے پیش نظر یونیورسٹی کو خالی کرا لیا گیا تھا۔ اسرائیلی حکام نے ان حملوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زمینی حقائق کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر خارجہ زپی لیونی نے کہا ہے کہ ان حملوں کو مقصد اسرائیلی شہریوں کو راکٹ حملوں سے نجات دلانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں میں شہری ہلاکتیں تو ہوتی ہیں۔ چین نے اسرائیل کو فوری طور پر غزہ پر بمباری بند کرنے اور فریقین کو امن کے لیےکام کرنے کو کہا ہے۔ غزہ کے ہسپتال میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی اتنی بڑی تعداد کو طبی امداد مہیا کرنے میں انہیں شدیدمشکلات کا سامنا ہے۔ ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں دوائیوں کی کمی کے علاوہ پینے کا صاف پانی اور جنیریٹروں کے لیے ایندھن بھی دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کے بہت سے رشتہ داروں نے ہسپتال کے قریب ایک مسجد میں رات گزاری جس کے بعد اسے بھی اسرائیل طیاروں نے بمباری کرکے تباہ کر دیا۔
اسرائیل طیاروں کی بمباری میں غزہ کو مصر سے ایندھن اور دیگر ضروری اشیاء مہیا کرنے والی سرنگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے فضائی حملوں کے بعد غزہ میں زمینی کارروائی کرنے کی بھی دھمکی دی ہے اور غزہ کے ساتھ ٹینکوں کو تعینات کرنے کے بعد اس نے ساڑھے چھ ہزار ’ریزور‘ فوجیوں کو بھی طلب کر لیا ہے۔ اسرائیل حماس پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ ان سرنگوں کو اسلحہ سمگل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے حماسں کی طرف سے اسرائیل پر راکٹ حملوں سمیت تشدد کو فوری طور پر بند کرنے کو کہا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ حماس کی طرف سے اسرائیلی علاقوں پر ہفتے کے روز ایک سو دس راکٹ داغے گئے۔ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں گنجان آبادی والے علاقوں میں حماس کے دفاتر پر فضائی حملے ہفتے کی صبح شروع ہوئے تھے۔ یہ حملے اسرائیل اور حماس میں چھ مہینے تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے ایک ہفتے بعد شروع کیئے گئے۔ ان فضائی حملوں کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر غزہ میں دو سو دس جگہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے حملے کئی دنوں تک جاری رہے سکتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ زپی لیونی کا کہنا ہے کہ ’ہم نے حماس پر اچانک حملہ کیا ہے اور ہم نے ان کہ ہیڈ کواٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ یہ ایک کامیاب آپریشن کی ابتداء ہے اور یہ زمینی حقائق کو بدلنے میں مدد کرے گا۔‘ جانی نقصان کے لحاظ سے ہفتے کا دن انیس سو ستاسٹھ میں علاقے پر اسرائیل کے قبضے کے بعد سے اب تک کا بدترین دن تھا۔ |
اسی بارے میں اسرائیلی میزائل، 230 سے زائد فلسطینی ہلاک27 December, 2008 | آس پاس غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، ہلاکتیں 28028 December, 2008 | آس پاس اسرائیل غزہ حملے بند کرے: مصر28 December, 2008 | آس پاس غزہ سے عینی شاہد کی رپورٹ28 December, 2008 | آس پاس بدترین حملے : اسرائیل کے مقاصد28 December, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||