BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 January, 2009, 09:20 GMT 14:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی حملے میں حماس رہنما ہلاک
نزار ريان: فائل فوٹو
نزار ريان اسرائیلی ریاست کے شدید مخالف تھے
غزہ پر اسرائیلی حملوں کے چھٹے روز حماس حکام کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے سینیئر رہنما ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ حملہ حماس کے رہنما نزار ريان کے گھر پر ہوا۔ نزار ريان اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے تھے اور اسرائیل میں خود کش حملوں کی حمایت کرتے تھے۔


ان کا شمار حماس کے سینئر ترین رہنماؤں میں ہوتا تھا اور وہ سنہ دو ہزار چار کے بعد سے اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہونے والے حماس کے رہنماؤں میں سینئر ترین ہیں۔

فلسطینی طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملوں کے چھٹے دن ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار سو دو تک پہنچ گئی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ نزار ریان حماس کے سیاسی رہنما تھے لیکن وہ اکثر اوقات فوجی یونیفارم پہنتے اور انہیں حماس کے مسلح سے زیادہ قریب سمجھا جاتا تھا۔

اسرائیلی طیاروں نےغزہ میں پارلیمنٹ اور وزارت قانون کی بلڈنگ کونشانہ بنایا ہے۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں بچوں کے ہسپتال کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

غزہ کے بحران پر غور کے لیے عرب ملکوں کی درخواست پر بلایا جانے والا سلامتی کونسل کا اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا۔

امریکہ اور برطانیہ نے لیبیا اور مصر کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد کے مسودے کی مخالفت کی اور کہا اس میں حماس کی طرف سے راکٹ داغے جانے کا ذکر نہیں ہے حالانکہ اسرائیلی کارروائی انہیں راکٹ حملوں کے نتیجے میں شروع ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق غزہ سے داغا جانے والا راکٹ اسرائیلی سرحد سے چالیس کلومیٹر اندر شہر بیرشیبا میں گرا۔ یہ غزہ سے داغے جانے والے راکٹوں میں سے سب سے دور تک مار کرنے والے راکٹ تھا۔اس حملے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

فلسطینی
اسرائیلی طیاروں اور زمینی فوج نے غزہ پر چھٹے روز بھی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں

سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کے مسودے پر امریکہ اور برطانیہ کے اس اعتراضات قرارداد پر رائے شماری نہیں ہو سکی۔

قرار داد میں اسرائیلی فوجی کارروائی کی مذمت کی گئی تھی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی جانب سے غزہ اور جنوبی اسرائیل میں فوراً جنگ بندی کی اپیل مسترد کر دی تھی۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ میں فلسطینی نمائندے رجاد منصور نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری جنگ بندی کے لیے ایک ایسی قرار داد منظور کی جائے جس کی پابندی ضروری ہو۔

دوسری طرف اسرائیلی نمائندہ گیبریلا شالیو نے کہا کہ ان کا ملک خود کو، ان کے بقول، دہشت گردی سے بچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اسرائیل اور حماس پر منحصر ہے کہ وہ جنگ بندی پر اتفاق کریں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو جنگ بندی کی کوئی قرار داد نہیں تھوپنی چاہیے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ جب تک حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے جاری ہیں اڑتالیس گھنٹے کے لیے فضائی کارروائی روکنے کا مطالبہ ’حقیقت پسندانہ‘ نہیں ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ فرانس کی جانب سے غزہ میں امداد کی فراہمی کے لیے جنگ بندی کی اپیل اس لیے حقیقت پسندانہ نہیں کیونکہ یہ اس بات کی ضمانت نہیں دیتی کہ حماس کے شدت پسند غزہ میں ہتھیاروں کی سمگلنگ اور راکٹ حملے بند کر دیں گے۔

حملوں کا مقصد
غزہ پر کیے گئے حملے اور اسرائیل کے مقاصد
اسرائیلی حملے بمباری تیسرا دن
غزہ پر اسرائیلی حملوں کا تیسرا دن
غزہغزہ، اسرائیلی حملے
حملے حماس کے ٹھکانوں پر کیے گئے: اسرائیل
ایلن جونسٹناسرائیل جانتا ہے۔۔۔
’فوجی کارروائی غزہ کے مسئلے کا دیرپا حل نہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد