غزہ تصاویر، اسرائیلی دعوے کی نفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے غزہ کے حوالے سے ہونے والی پروپیگنڈہ جنگ میں ابتدا کی لیکن ایک اہم واقعہ میں اسرائیلی موقف کو چیلنج کیا گیا۔اس واقع سے یہ سوال پیدا ہوا کہ فضا سے لی گئی ویڈیو سے کیا مطلب لیا جائے۔ 28 دسمبر کو اسرائیل نے ایک فضائی حملے کی ویڈیو جاری کی جس میں بظاہردکھایا گیا کہ ایک لاری میں راکٹ رکھے جا رہے ہیں اور پھر اس ٹرک کو میزائل سے اڑادیا گیا۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ یہ ایک واضح ثبوت تھا کہ ان کی کارروائی جائز ہے۔اسرائیل کے ایک خصوصی یونٹ نے اس ویڈیو کو یو ٹیوب پر لگا دیا تاکہ اپنے حملوں کو جائز قرار دینے میں اسرائیل کو دنیا میں اپنا مقدمہ مضبوط کرنے میں مدد مل سکے۔ اس ویڈیو پر کیپشن لگا دیا گیا کہ حماس کے ٹرک میں میزائل رکھے جا رہے ہیں۔یو ٹیوب پر لگائی گئی اس ویڈیو کو ڈھائی سے زائد لوگوں نے دیکھا۔ لیکن قصہ کچھ یوں نکلا کہ غازہ کے 55 سالہ احمد صنور نے دعوی کیا ہے کہ وہ ٹرک ان کا تھا اور وہ اور ان کے گھر والے اور کچھ ملازمین اس ورک شاپ سے آکسیجن سلنڈر ہٹا رہے تھے۔
احمد صنور کا کہنا تھا کہ پڑوس کی ایک عمارت پر اسرائیلی حملے کے بعد ان کی ورکشاپ کو نقصان پہنچا تھا اور لوٹ کے خدشے کے سبب وہ وہاں سے تمام سلنڈر نکال رہے تھے۔اسرائیل کے انسانی حقوق کے ایک گروپ نے مسٹر احمد کے بیان کے ساتھ سلینڈروں اور ورکشاپ کی تصاویر اپنی ویب سائٹ پر لگائی ہیں۔ مسٹر احمد نے بتایا کہ اس حملے میں ان کے بیٹے سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔انہوں نے اسرائیلی روزنامے کو بتایا کہ وہ حماس کے رکن نہیں ان کے بچے تھے۔اور ٹرک میں میزائل نہیں بلکہ گیس سلنڈر تھے۔ یہ ویڈیو ابھی بھی یو ٹیوب پر لگی ہوئی ہے۔ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح ایک ویڈیو بھی مشکوک بن سکتی ہے۔ اسرائیلی پروپیگنڈہ میں دو مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔پہلی تو یہ کہ ان حملوں کو جائز قرار دینے کی کوشش دوسرے یہ کہ غزہ میں کوئی انسانی المیہ نہیں ہے۔اس کا مقصد بین الاقوامی سطح پراسرائیلی پوزیشن کو مضبوط بنانا اور جنگ بندی کی اپیلوں کو بند کرانا ہے ۔ اسرائیل نے یہ کہہ کر ان کے ان حملوں کے لیے حماس ذمہ دار ہے اپنا پہلا مقصد حاصل کر لیا ہے۔حماس کے راکٹوں کا اسرائیلی علاقوں میں گرنا اسرائیلی پراپیگنڈے میں مددگارثابت ہوا۔ اسرائیل نےکھانے پینے کی اشیاء کے امدادی ٹرکوں کے داخلے کی بھی اجازت دے دی اور اس بار پر زور دیا کہ وہ لوگوں کو بھوک سے نہیں مرنے دے گا۔اسرائیل نے اسرائیلی سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود غیر ملکی نامہ نگاروں کو غزہ سے نکال دیا۔
عرب ٹی وی چینل الجزیرہ غزہ میں موجود ہے اور اس کی خبروں نے عرب دنیا کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ بی بی سی کا مقامی بیورو بھی کام کر رہا ہے لیکن بڑی بڑی میڈیا تنظیموں کے نامہ نگاروں کی غیر موجودگی خاصی اہم ہے جس کے سبب احمد صنور جیسے واقعات کو وہ کوریج نہیں مل سکی جیسی ہونی چاہئے تھی۔ دوسری جانب اسرائیل کے اپنے علاقوں میں ہونے والے نقصان کی اچھی کوریج ہو رہی ہے۔ اسرائیل خواہ کتنا ہیپرو پیگنڈہ کرلے لیکن غزہ سے آنے والی ہلاک شدہ اور زخمی بچوں کی تصاویر نے اس کے دعوؤں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ |
اسی بارے میں غزہ میں جنگ بندی کا عالمی مطالبہ30 December, 2008 | آس پاس اسرائیل نے جنگ بندی کی عالمی اپیل رد کردی31 December, 2008 | آس پاس اسرائیلی حملے میں حماس رہنما ہلاک01 January, 2009 | آس پاس ’غزہ بمباری مہم کا پہلا مرحلہ ہے‘30 December, 2008 | آس پاس ’فریقین پرتشدد کارروائی روکیں‘29 December, 2008 | آس پاس اسرائیل کے فضائی حملوں کی ’مذمت‘29 December, 2008 | آس پاس ’فوجی کارروائی غزہ کا دیرپا حل نہیں‘29 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||