لڑائی میں شدت،جنگ بندی اپیل پر عدم اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی طرف سے غزہ پر آٹھ روز تک جاری رہنے والی بمباری کے بعد شروع کی جانے والی زمینی فوجی کارروائی شدت اختیار کر گئی ہے اور فریقین کی جانب سے جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل سے فوری طور پر فوجی کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم سکیورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اس مسئلے کے حل کے لیے بیان پر اتفاق رائے نہیں پیدا ہو سکا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں متفقہ بیان کی راہ میں امریکہ نے رکاوٹ ڈالی۔ امریکی سفیر الجاندرو والف کا کہنا تھا کہ ایک سرکاری بیان جس میں اسرائیل اور حماس دونوں کی مذمت کی جائے ’مناسب‘ یا ’مددگار‘ نہیں ہوگا۔ غزہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج اور حماس کے کارکنوں کے درمیان شمالی غزہ میں گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے۔ اسرائیلی ٹینک غزہ شہر کے نواح اور شمالی غزہ کے بیت لاہیہ اور جبالیہ کے علاقوں میں لڑائی میں مصروف ہیں جبکہ عینی شاہدین کے مطابق حماس کے کارکن مارٹر گولوں اور راکٹوں سے ان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حماس ریڈیو اور ٹی وی نے دعوی کیا ہے کہ دو اسرائیلی فوجیوں کو پکڑ لیا گیا ہے لیکن اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اسے اس بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ غزہ پر زمینی کارروائی کے بعد اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود اولمرت نے اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ زمینی کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی لیکن وہ غزہ میں انسان المیہ پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ زمینی حملے کے باوجود حماس کی طرف سےکم از کم نو میزائیل داغے گئے جو شردوت اور نتیوت کے قصبوں کے علاوہ آس پاس کے علاقوں میں گرے۔ تاہم کسی جانی اور مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ اسرائیلی ٹینک کے ایک گولے سے بارہ افراد ہلاک ہو گئے جن میں زیادہ تر عام شہری شامل تھے۔ بیت لاہیہ میں ایک سکول اور شاپنگ مرکز پر حملے میں مزید شہریوں کی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو فوری جنگ بندی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ غزہ اور مصر کی سرحد کے قریب رفاہ کے علاقے سے بھی جھڑپوں کی خبریں ملی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس لڑائی کی وجہ سے غزہ کا علاقہ بظاہر دو حصوں میں بٹ کر رہ گیا ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر چار سو ستّر تک جا پہنچی ہے۔
اسرائیل فوج کے مطابق اب تک کے آپریشن میں اس کے تیس فوجی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دو کی حالت نازک ہے جبکہ فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق غزہ کے آٹھ رہائشی ہلاک ہوئے ہیں جن میں پانچ مسلح تھے۔ اتوار کی صبح بھی غزہ کے شمالی حصہ پر دھویں کے کالے بادل دکھائی دے رہے تھے اور توپوں کے گولے پھٹنے کی آوازیں سنی جا سکتی تھیں۔ غزہ پر اسرائیلی توپخانے کی گولہ باری سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب بعیر کسی تعطل کے جاری رہی۔اسرائیلی فوج شمالی غزہ پر بری، بحری اور فضائی حملے کر رہی ہے۔ عینی شاہدوں کے مطابق اسرائیلی فوج نے زمینی کارروائی کا آغاز سنیچر کو رات گئے اس وقت کیا جب شمالی غزہ میں چار مقامات سے اسرائیلی ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں غزہ میں داخل ہوئیں جنہیں ہیلی کاپٹروں کی بھی مدد حاصل تھی۔ یاد رہے کہ کارروائی کے آغاز کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ حماس نے زمینی کارروائی کے علاوہ اسرائیل کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا تھا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے اس کارروائی کا مقصد ان علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا ہے جہاں سے فلسطینی شدت پسند اسرائیل پر راکٹ فائر کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ کارروائی کئی ہفتے جاری رہ سکتی ہے اور ہزاروں ریزرو فوجیوں کو ڈیوٹی پر طلب کر لیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ فلسطینی تنظیم حماس کے رہنما خالد مِشعل نے جمعہ کو اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ وہ غزہ پر زمینی حملے کی ہمت نہ کرے۔ شام کے دارالحکومت دمشق میں مقیم خالد مِشعل نے کہا تھا کہ اگر اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں گھسنے کی کوشش کی تو وہ اپنی بدبختی کو دعوت دیں گے۔ عالمی مذمت اور سلامتی کونسل کا عدم اتفاق غزہ میں اسرائیلی زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد بلائے جانے والے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں لیبیا کی جانب سے تیار کیے جانے والے متفقہ بیان پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ امریکہ نے بیان کی حمایت نہیں کی اور امریکہ کے نائب سفیر نے کہا کہ حماس نے بیان کو قبول نہیں کرنا تھا جس سے سکیورٹی کونسل کی ساکھ متاثر ہونے کا خطرہ تھا۔
تاہم اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت سے فون پر بات کی ہے اور غزہ میں کارروائی کی شدت پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کے ترجمان نے اسرائیلی کارروائی کو گھناؤنی جارحیت قرار دیا ہے جبکہ فرانس نے بھی اسرائیلی زمینی کارروائی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ لڑائی میں خطرناک تیزی آ رہی ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ لڑائی میں پھیلاؤ سے مایوسی اور تشویش میں اضافہ ہوگا۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو غزہ میں جنگ بندی ہونی چاہیے لیکن کسی ایسے معاہدے سے حماس کو اسرائیلی علاقوں میں راکٹ فائر کرنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔ جمہوریہ چیک کی حکومت نے، جو اس وقت یورپی یونین کی صدارت کے منصب پر بھی فائز ہے، کہا ہے کہ اسرائیلی کارروائی جارحیت نہیں بلکہ یہ اس نے اپنے دفاع میں کی ہے۔ تاہم اسرائیل میں برطانوی سفارتخانے نے کہا کہ جمہوریہ چیک کا بیان ان کے موقف کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ادھر اسرائیل کی جانب سے غزہ میں زمینی کارروائی کے بعد دنیا بھر میں اسرائیل مخالف مظاہروں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے اور جنوب مشرقی ایشیا سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں ہزاروں افراد نے احتجاجی جلوس نکالے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی بمباری میں اب تک چار سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے کم از کم پچیس فیصد عام شہری ہیں۔ ان حملوں میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے سے جاری اسرائیلی بمباری میں اب تک 428 افراد ہلاک اور دو ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران حماس کی جانب سے داغے گئے میزائلوں سے جنوبی اسرائیل میں چار شہری مارے گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’اسرائیل زمینی حملے سے باز رہے‘03 January, 2009 | آس پاس غزہ پر مزید اسرائیلی بمباری02 January, 2009 | آس پاس غزہ پر اقوام متحدہ کا اجلاس بے نتیجہ01 January, 2009 | آس پاس اسرائیلی حملے میں حماس رہنما ہلاک01 January, 2009 | آس پاس اسرائیل نے جنگ بندی کی عالمی اپیل رد کردی31 December, 2008 | آس پاس غزہ میں جنگ بندی کا عالمی مطالبہ30 December, 2008 | آس پاس ’غزہ بمباری مہم کا پہلا مرحلہ ہے‘30 December, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||