غزہ پر مزید اسرائیلی بمباری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر ساتویں دن بمباری جاری رکھی ہے جبکہ غزہ میں طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد اب چار سو دو سے زیاد ہوگئی ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کم سے کم ایک سو سویلین ہیں۔ جمعہ کے روز اسرائیل نے غزہ میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا جن میں ایک مسجد بھی تھی۔ جمعرات کے روز حماس کے سینیئر رہنما نزار ریان کی ہلاکت کے جواب میں حماس نے ’یوم قہر‘ کی اپیل کی ہے۔ جمعہ کو حماس کی ممکنہ کارروائی کے پیش نظر اسرائیل نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور پورے مشرقی یروشلم میں اسرائیلی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ادھر اسرائیل کی ممکنہ زمینی فوجی کارروائی کے پیش نظر کئی فلسطینی خاندان غزہ کی سرحد سے دور جا رہے ہیں۔ جبکہ اسرائیل نے اپنی زمینی افواج غزہ کی سرحد پر اکٹھا کر رکھی ہیں۔ جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اس نے غزہ سے غیرملکیوں کو جانے کی اجازت دیدی ہے۔ اسرائیل غزہ میں غیرملکی صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں دے رہا ہے اور اس علاقے کو ’بند فوجی علاقہ‘ قرار دیدیا ہے۔ حماس حکام کے مطابق جمعرات کو حماس کے رہنما نزار ريان کے گھر پر اسرائیلی فضائی حملے میں نزار ریان ہلاک ہوگئے۔ نزار ريان اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے تھے اور اسرائیل میں خود کش حملوں کی حمایت کرتے تھے۔
جمعرات کو فلسطینی طبی ذرائع نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار سو دو بتائی تھی۔ جمعرات کو اسرائیلی طیاروں نےغزہ میں پارلیمنٹ اور وزارت قانون کی بلڈنگ کونشانہ بنایا جبکہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں بچوں کے ہسپتال کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ غزہ کے بحران پر غور کے لیے عرب ملکوں کی درخواست پر بلایا جانے والا سلامتی کونسل کا اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا۔ امریکہ اور برطانیہ نے لیبیا اور مصر کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد کے مسودے کی مخالفت کی اور کہا اس میں حماس کی طرف سے راکٹ داغے جانے کا ذکر نہیں ہے حالانکہ اسرائیلی کارروائی انہیں راکٹ حملوں کے نتیجے میں شروع ہوئی ہے۔ گزشتہ سنیچر سے شروع ہونے والی اس لڑائی میں چار اسرائیلی حماس کے راکٹ حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات کو غزہ سے داغا جانے والا ایک راکٹ اسرائیلی سرحد سے چالیس کلومیٹر اندر شہر بیرشیبا میں گرا۔ یہ غزہ سے داغے جانے والے راکٹوں میں سے سب سے دور تک مار کرنے والے راکٹ تھا۔اس حملے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کے مسودے پر امریکہ اور برطانیہ کے اس اعتراضات قرارداد پر رائے شماری نہیں ہو سکی۔ قرار داد میں اسرائیلی فوجی کارروائی کی مذمت کی گئی تھی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی جانب سے غزہ اور جنوبی اسرائیل میں فوراً جنگ بندی کی اپیل مسترد کر دی تھی۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ میں فلسطینی نمائندے رجاد منصور نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری جنگ بندی کے لیے ایک ایسی قرار داد منظور کی جائے جس کی پابندی ضروری ہو۔ دوسری طرف اسرائیلی نمائندہ گیبریلا شالیو نے کہا کہ ان کا ملک خود کو، ان کے بقول، دہشت گردی سے بچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اسرائیل اور حماس پر منحصر ہے کہ وہ جنگ بندی پر اتفاق کریں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو جنگ بندی کی کوئی قرار داد نہیں تھوپنی چاہیے۔ اس سے قبل اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ جب تک حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے جاری ہیں اڑتالیس گھنٹے کے لیے فضائی کارروائی روکنے کا مطالبہ ’حقیقت پسندانہ‘ نہیں ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ فرانس کی جانب سے غزہ میں امداد کی فراہمی کے لیے جنگ بندی کی اپیل اس لیے حقیقت پسندانہ نہیں کیونکہ یہ اس بات کی ضمانت نہیں دیتی کہ حماس کے شدت پسند غزہ میں ہتھیاروں کی سمگلنگ اور راکٹ حملے بند کر دیں گے۔ |
اسی بارے میں غزہ میں جنگ بندی کا عالمی مطالبہ30 December, 2008 | آس پاس اسرائیل نے جنگ بندی کی عالمی اپیل رد کردی31 December, 2008 | آس پاس اسرائیلی حملے میں حماس رہنما ہلاک01 January, 2009 | آس پاس ’غزہ بمباری مہم کا پہلا مرحلہ ہے‘30 December, 2008 | آس پاس ’فریقین پرتشدد کارروائی روکیں‘29 December, 2008 | آس پاس اسرائیل کے فضائی حملوں کی ’مذمت‘29 December, 2008 | آس پاس ’فوجی کارروائی غزہ کا دیرپا حل نہیں‘29 December, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||