BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 January, 2009, 03:31 GMT 08:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ پر اقوام متحدہ کا اجلاس بے نتیجہ
اسرائیل فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ غزہ پر زمینی حملے کی بھی تیاری کر رہا ہے

غزہ کے بحران پر غور کے لیے عرب ملکوں کی درخواست پر بلایا جانے والا سلامتی کونسل کا اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں قرار داد کے ایک مسودے پر غور کیا گیا جس میں اسرائیل اور فلسطینوں کی طرف سے پر تشدد کارروائیوں بند کرنے کے لیے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

تاہم امریکہ اور برطانیہ کے اس اعتراض کے بعد کے لیبیا کی طرف سے پیش کیے جانے والے مسودے میں اسرائیل پر فلسطینی حملوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا قرارداد پر رائے شماری نہیں ہو سکی۔

قرار داد میں اسرائیلی فوجی کارروائی کی مذمت کی گئی تھی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی جانب سے غزہ اور جنوبی اسرائیل میں فوراً جنگ بندی کی اپیل مسترد کر دی ہے۔

غزہ
گزشہ پانچ روز کے دوران اسرائیل بمباری کا جواب حماس نے راکٹ داغ کر کیا
سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ میں فلسطینی نمائندے رجاد منصور نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری جنگ بندی کے لیے ایک ایسی قرار داد منظور کی جائے جس کی پابندی ضروری ہو۔

دوسری طرف اسرائیلی نمائندہ گیبریلا شالیو نے کہا کہ ان کا ملک خود کو، ان کے بقول، دہشت گردی سے بچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اسرائیل اور حماس پر منحصر ہے کہ وہ جنگ بندی پر اتفاق کریں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو جنگ بندی کی کوئی قرار داد نہیں تھوپنی چاہیے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ جب تک حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے جاری ہیں اڑتالیس گھنٹے کے لیے فضائی کارروائی روکنے کا مطالبہ ’حقیقت پسندانہ‘ نہیں ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ فرانس کی جانب سے غزہ میں امداد کی فراہمی کے لیے جنگ بندی کی اپیل اس لیے حقیقت پسندانہ نہیں کیونکہ یہ اس بات کی ضمانت نہیں دیتی کہ حماس کے شدت پسند غزہ میں ہتھیاروں کی سمگلنگ اور راکٹ حملے بند کر دیں گے۔

غزہ میں اسرائیلی حملے پانچویں دن بھی جاری رہے۔ پانچویں دن حملوں میں اسرائیلی طیاروں نے فلسطین اور مصر کی سرحد پر سرنگوں اور حماس سے متعلقہ عمارتوں کو نشانہ بنایا۔فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر سے شروع ہونے والی اسرائیلی فضائی بمباری میں تین سو چوہتر افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

غزہ کے ایک سینئر ڈاکٹر حسن خلاف نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ علاقے میں حالات بے حد خراب ہیں اور ان کے مطابق سینیچر سے اب تک ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 390 تک پہنچ گئی ہے۔

ڈاکٹر حسن خلاف نے کہا کہ غزہ میں کوئی جگہ محفوظ نہیں اور زخمیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کوئی بھی ہسپتال ان حالات سے نمٹ نہیں سکتا۔ تاہم اقوامِ متحدہ کی ایک امدادی ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں امداد سے بھرے ٹرک جانے کی اجازت دے دی ہے۔

 سینیچر سے اب تک ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 390 تک پہنچ گئی ہے۔غزہ میں کوئی جگہ محفوظ نہیں اور زخمیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کوئی بھی ہسپتال ان حالات سے نمٹ نہیں سکتا
ڈاکٹر حسن خلاف

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ اور ان کے وزرائے دفاع اور خارجہ کی ملاقات میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر فضائی کارروائی میں وقفہ لایا جائے تو اس کے ساتھ ساتھ یہ دھمکی بھی دی جائے کہ اسرائیلی سرزمین پر راکٹ حملے نہ رکنے کی صورت میں زمینی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔

حماس کے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے زمینی حملہ کیا تو’غزہ کے بچے اسرائیلی فوجیوں کے جسموں کے ٹکڑے اور تباہ شدہ ٹینکوں کے حصے جمع کرتے دکھائی دیں گے‘۔

اسرائیل فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ غزہ پر زمینی حملے کی بھی تیاری کر رہا ہے اور اس نے غزہ کی سرحد کے ساتھ ساتھ اپنے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور بری فوج جمع کر لی ہے اور اسے ایک ’ممنوعہ فوجی علاقہ‘ قرار دے دیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ فوری طور پر ایسی جنگ بندی کا اعلان کیا جائے جس کا مکمل طور پر احترام کیا جائے۔مشرقِ وسطیٰ پر امن کوششوں کے لیے تشکیل کیے گئے اس چار رکنی گروپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام فریقوں کو غزہ میں پائے جانے والے شدید انسانی اور معاشی بحران کے حل کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہیں تاکہ غزہ میں فوری ضرورت کی اشیا بلا روک ٹوک فراہم کی جا سکیں۔

غزہ
اسرائیلی بمباری سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے

دریں اثنا فرانس کے وزیر خارجہ برناڈ کچنر نے پیرس میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کہا کہ اسرائیل اور حماس کو لڑائی ہمیشہ کے لیے بند کر دینی چاہیے۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حماس کو اسرائیل پر راکٹ باری فوری طور پر بند کر دینی چاہیے جبکہ اسرائیل کو بھی فوجی کارروائی غیر مشروط طور پر روک دینی چاہیے۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی کے بند ہونے کے ساتھ ہی سرحدی چوکیاں بھی ہمیشہ کے لیے کھول دی جانی چاہیئیں جیسا کہ سنہ دو ہزار پانچ کے نقل و حرکت اور راستوں سے متعلق معاہدے میں بیان کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے منگل کو کہا تھا کہ غزہ پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری حماس کے خلاف جاری کارروائی کا پہلا مرحلہ ہے جبکہ اسرائیلی نائب وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ ان کا ملک کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ کے لیے تیار ہے اور اس کی کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک راکٹ حملوں کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ داخلہ مئیر شیترت کا کہنا ہے کہ’اسرائیلی فوج کو اس وقت تک اپنی کارروائی نہیں روکنی چاہیے جب تک اسرائیل پر راکٹ پھینکنے والے فلسطینیوں اور حماس کی ہمت نہیں ٹوٹ جاتی‘۔

حملوں کا مقصد
غزہ پر کیے گئے حملے اور اسرائیل کے مقاصد
اسرائیلی حملے بمباری تیسرا دن
غزہ پر اسرائیلی حملوں کا تیسرا دن
غزہغزہ، اسرائیلی حملے
حملے حماس کے ٹھکانوں پر کیے گئے: اسرائیل
ایلن جونسٹناسرائیل جانتا ہے۔۔۔
’فوجی کارروائی غزہ کے مسئلے کا دیرپا حل نہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد