حماس اور اسرائیل کے لیے کامیابی کامطلب کیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہاں سرحد پر ستاروں بھری رات ہے۔ فضا میں مستقل ہیلی کاپٹروں کا شور ہے۔ سرحد کے اس پار غزہ کی پٹی کے شمال میں مسلسل دھماکوں کی آواز۔ لڑائی کے علاقے میں رہنے والوں کے لیے یہ شور اور خطرہ یقیناً خوف طاری کرنے والا ہوگا۔ اسرائیلی فوجی اس سے پہلے بھی راکٹ حملے روکنے کے لیے غزہ میں داخل ہو چکے ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ اس بار ایک ہفتے کی بمباری کے بعد اسرائیلی فوج کو جانی نقصان کی فکر ہو گی لیکن وہ ایک انتہائی طاقتور، مسلح اور جدید فوج ہے۔ اس کے فوجی 1967 سے ستمبر 2005 تک غزہ پر قابض رہے ہیں اور اس ساحلی علاقے سے اچھی طرح واقف ہیں۔ تاہم جب گنجان آباد علاقوں میں انہیں مشکل پیش آ سکتی ہے جہاں عمارتیں ایک دوسرے کے بہت قریب قریب ہیں۔
ان کی کوشش ہو گی کہ وہ اسرائیلی فوج کو اسی طرح پشیمانی سے ہمکنار کریں جیسا لبنان میں حزب اللہ نے سن دو ہزار چھ میں کیا تھا۔ لیکن تمام تر جذبے کے باوجود وہ شاید حزب اللہ جتنی مزاحمت نہ کر سکیں۔ جنوبی لبنان کے پہاڑی علاقے اسرائیل فوجی گاڑیوں کے لیے رکاوٹ تھے لیکن غزہ ہموار ہے۔ حماس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے مصر کی سرحد کے نیچے بنائی گئی سرنگوں کے ذریعے اسلحہ جمع کر لیا ہے، لیکن یہ اتنی مقدارمیں نہیں ہوگا جتنا حزب اللہ کے پاس تھا۔ اس سب کے باوجود حماس کے کارکن اسلامی دنیا میں ان تمام لوگوں کے ہیرو ہوں گے جنہوں نے اسرائیل اور اس کے اتحادی امریکہ کے خلاف مزاحمت کا نظریہ اپنا لیا ہے جو اس خطے کا طاقتور نظریہ ہے۔ حماس کے لیے کامیابی یہ ہو گی کہ وہ اس لڑائی کے بعد بھی اپنی تحریک جاری رکھ سکیں اور اسرائیل کے لیے یہ کہ غزہ سے راکٹوں کے حملے بند کروا دیں۔ |
اسی بارے میں ’اسرائیل زمینی حملے سے باز رہے‘03 January, 2009 | آس پاس غزہ پر مزید اسرائیلی بمباری02 January, 2009 | آس پاس غزہ پر اقوام متحدہ کا اجلاس بے نتیجہ01 January, 2009 | آس پاس اسرائیلی حملے میں حماس رہنما ہلاک01 January, 2009 | آس پاس اسرائیل نے جنگ بندی کی عالمی اپیل رد کردی31 December, 2008 | آس پاس غزہ میں جنگ بندی کا عالمی مطالبہ30 December, 2008 | آس پاس ’غزہ بمباری مہم کا پہلا مرحلہ ہے‘30 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||