BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 January, 2009, 05:14 GMT 10:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حماس اور اسرائیل کے لیے کامیابی کامطلب کیا

اسرائیلی بمباری
اسرائیل 1967 سے ستمبر 2005 تک غزہ پر قابض رہا ہے
یہاں سرحد پر ستاروں بھری رات ہے۔ فضا میں مستقل ہیلی کاپٹروں کا شور ہے۔ سرحد کے اس پار غزہ کی پٹی کے شمال میں مسلسل دھماکوں کی آواز۔ لڑائی کے علاقے میں رہنے والوں کے لیے یہ شور اور خطرہ یقیناً خوف طاری کرنے والا ہوگا۔

اسرائیلی فوجی اس سے پہلے بھی راکٹ حملے روکنے کے لیے غزہ میں داخل ہو چکے ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ اس بار ایک ہفتے کی بمباری کے بعد
اسرائیل کا خیال ہے کہ طاقت کا استعمال موثر ثابت ہوگا کیونکہ وہ پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ استعمال کی جا رہی ہے۔

اسرائیلی فوج کو جانی نقصان کی فکر ہو گی لیکن وہ ایک انتہائی طاقتور، مسلح اور جدید فوج ہے۔ اس کے فوجی 1967 سے ستمبر 2005 تک غزہ پر قابض رہے ہیں اور اس ساحلی علاقے سے اچھی طرح واقف ہیں۔

تاہم جب گنجان آباد علاقوں میں انہیں مشکل پیش آ سکتی ہے جہاں عمارتیں ایک دوسرے کے بہت قریب قریب ہیں۔

حماس بمقابلہ اسرائیل
 جنوبی لبنان کے پہاڑی علاقے اسرائیل فوجی گاڑیوں کے لیے رکاوٹ تھے لیکن غزہ ہموار ہے۔ حماس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے مصر کی سرحد کے نیچے بنائی گئی سرنگوں کے ذریعے اسلحہ جمع کر لیا ہے، لیکن یہ اتنی مقدارمیں نہیں ہوگا جتنا حزب اللہ کے پاس تھا
حماس کے کارکنوں کا، جو غزہ سے اسرائیلیوں سے زیادہ اچھی طرح واقف ہیں، مزاحمت اور شہادت پر ایمان ہے۔

ان کی کوشش ہو گی کہ وہ اسرائیلی فوج کو اسی طرح پشیمانی سے ہمکنار کریں جیسا لبنان میں حزب اللہ نے سن دو ہزار چھ میں کیا تھا۔ لیکن تمام تر جذبے کے باوجود وہ شاید حزب اللہ جتنی مزاحمت نہ کر سکیں۔

جنوبی لبنان کے پہاڑی علاقے اسرائیل فوجی گاڑیوں کے لیے رکاوٹ تھے لیکن غزہ ہموار ہے۔ حماس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے مصر کی سرحد کے نیچے بنائی گئی سرنگوں کے ذریعے اسلحہ جمع کر لیا ہے، لیکن یہ اتنی مقدارمیں نہیں ہوگا جتنا حزب اللہ کے پاس تھا۔

اس سب کے باوجود حماس کے کارکن اسلامی دنیا میں ان تمام لوگوں کے ہیرو ہوں گے جنہوں نے اسرائیل اور اس کے اتحادی امریکہ کے خلاف مزاحمت کا نظریہ اپنا لیا ہے جو اس خطے کا طاقتور نظریہ ہے۔

حماس کے لیے کامیابی یہ ہو گی کہ وہ اس لڑائی کے بعد بھی اپنی تحریک جاری رکھ سکیں اور اسرائیل کے لیے یہ کہ غزہ سے راکٹوں کے حملے بند کروا دیں۔

 غزہ غزہ: حملوں کے بعد
’غزہ: جنازے ہیں یا ہسپتال جاتی گاڑیاں‘
غزہغزہ، اسرائیلی حملے
حملے حماس کے ٹھکانوں پر کیے گئے: اسرائیل
اسرائیلی حملے بمباری تیسرا دن
غزہ پر اسرائیلی حملوں کا تیسرا دن
حملوں کا مقصد
غزہ پر کیے گئے حملے اور اسرائیل کے مقاصد
ایلن جونسٹناسرائیل جانتا ہے۔۔۔
’فوجی کارروائی غزہ کے مسئلے کا دیرپا حل نہیں‘
دنیا’سراپا احتجاج‘
اسرائیلی حملوں کے خلاف لوگ سڑکوں پر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد