BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 January, 2009, 15:37 GMT 20:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل مخالف مظاہرے، ہلاکتیں 428
ڈاکٹروں کے مطابق غزہ میں اب تک چار سو فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں
غرب اردن میں ہزاروں فلسطینیوں نے اسرائیل کے خلاف ’یوم قہر‘ کی حماس کی اپیل پر ایک بڑے مظاہرے میں شرکت کی ہے۔

جبکہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف بیشتر مسلم ممالک کے شہروں میں بھی نماز جمعہ کے بعد مظاہرے ہوئے ہیں۔

غزہ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سنیچر سے شروع ہونے والی اسرائیلی بمباری میں اب تک 428 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ حماس کی جانب سے فائر کیے جانے والے میزائلوں سے چار اسرائیلی مارے گئے ہیں۔

جمعہ کے روز تازہ اسرائیلی فضائی حملوں میں تین بچوں سمیت پانچ فلسطینی ہلاک ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق جنوبی غزہ میں ہلاک ہونے والے تین حقیقی بھائی تھے اور ان کی عمریں سات سے دس سال کے درمیان تھیں۔

جمعہ کے روز حماس نے ’یوم قہر‘ کی اپیل اپنے رہنما نزار ریان کی ہلاکت کے احتجاج میں کی تھی۔ جمعرات کو نزار ریان اپنی کئی بیویوں اور بچوں کے ہمراہ اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے میں کل بیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ان افراد کی نماز جنازہ کے موقع پر حماس کے اعلیٰ رہنما فتحی حماد نے کہا تھا: ’ہم لوگ اس وقت تک چین کی سانس نہیں لیں گے جب تک کہ صیہونی شناخت (اسرائیل) کا خاتمہ نہیں کردیتے۔‘

 بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول کا کہنا ہے کہ غرب اردن میں فلسطینی مظاہرین صرف اسرائیل کے خلاف ہی اپنے غصے کا اظہار نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ عرب حکومتوں اور اپنے رہنماؤں کو بھی اسرائیلی کارروائی روکنے میں ناکامی کے لیے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول کا کہنا ہے کہ غرب اردن میں فلسطینی مظاہرین صرف اسرائیل کے خلاف ہی اپنے غصے کا اظہار نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ عرب حکومتوں اور اپنے رہنماؤں کو بھی اسرائیلی کارروائی روکنے میں ناکامی کے لیے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

غرب اردن کہ شہر رملہ میں ہزاروں افراد نے مظاہرے میں شرکت کی جبکہ مشرقی یروشلم میں فلسطینی نوجوانوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو پتھروں سے نشانہ بنایا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے جواب میں آنسو گیس کے گولے داغے۔

ادھر مصر میں اسلامی اپوزیشن گروپ اخوان المسلمین نے کہا ہے کہ اسرائیل مخالف تین سو مظاہرین کو سکیورٹی فورسز نے مرکزی قاہرہ میں ایک مسجد کے باہر گھیر لیا ہے جبکہ متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق انسداد تشدد پولیس نے قاہرہ اور العریش شہروں میں مظاہرین پر لاٹھیاں برسائیں۔

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں اور آسٹریلوی شہر سِڈنی میں اور کینیا میں اور ایران میں بھی اسرائیل کے خلاف مظاہرین سڑکوں پر اتر آئے۔

اردن کے دارالحکومت امان میں اسرائیلی سفارتخانے کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔

جمعہ کو فلسطینی شدت پسندوں نے اسرائیل کے شہر عسقلان پر راکٹ فائر کیے جو کہ کچھ فلیٹوں پر جاگرے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے میزائلوں کو روکنے کی اس کی فضائی مہم منصوبے کے تحت چل رہی ہے۔

حماس کا ایک میزائل عسقلان میں اس اسرائیلی کے گھر پر گرا
لیکن مشرق وسطیٰ کے امور سے متعلق بی بی سی کے نامہ نگار جیریمی باوین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ایک ہفتے کی بمباری بھی فلسطینیوں کی جانب سے راکٹوں کی فائرنگ کو روکنے میں ناکام رہی ہے اور اب اسرائیل کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ زمینی فوجی غزہ میں داخل کرے۔

غزہ کی سرحد کے قریبی علاقوں میں بسنے والے فلسطینی اسرائیلی زمینی افواج کی ممکنہ دراندازی کے پیش نظر دور دراز علاقوں میں چلے گئے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کی سرحد کے قریب اپنی زمینی افواج اکٹھا کر رکھی ہیں۔

جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ میں موجود غیرملکیوں کو وہاں سے انخلاء کی اجازت دیدی ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ اسرائیلی افواج کی غزہ میں داخلے سے قبل کا اقدام ہے۔

اسرائیل نے غزہ کے ارد گرد کے علاقے کو ’بند فوجی علاقہ‘ قرار دیا ہے اور بین الاقوامی صحافیوں کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے سے منع کردیا ہے۔ لیکن اسرائیل کی سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ صحافیوں کے چھوٹے گروہوں کو غزہ کی پٹی میں جانے دیا جائے۔

فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے یو این ڈبلیو آر اے نے جمعرات کو غزہ میں غذائی امداد کی فراہمی شروع کردی اور یہ بھی وارننگ دی ہے کہ غزہ کی پٹی میں انسانی حالات بدتر ہورہے ہیں۔

ادھر اسرائیل کی وزیر خارجہ زِِپی لِیونی نے کہا ہے کہ انسانی بنیادوں پر اسرائیلی بمباری روکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیر خارجہ لِیونی نے کہا کہ ماضی میں فائربندی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حماس نے خود کو مسلح کیا ہے۔

 غزہ غزہ: حملوں کے بعد
’غزہ: جنازے ہیں یا ہسپتال جاتی گاڑیاں‘
غزہغزہ، اسرائیلی حملے
حملے حماس کے ٹھکانوں پر کیے گئے: اسرائیل
اسرائیلی حملے بمباری تیسرا دن
غزہ پر اسرائیلی حملوں کا تیسرا دن
حملوں کا مقصد
غزہ پر کیے گئے حملے اور اسرائیل کے مقاصد
ایلن جونسٹناسرائیل جانتا ہے۔۔۔
’فوجی کارروائی غزہ کے مسئلے کا دیرپا حل نہیں‘
دنیا’سراپا احتجاج‘
اسرائیلی حملوں کے خلاف لوگ سڑکوں پر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد