BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 January, 2009, 01:24 GMT 06:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسرائیل زمینی حملے سے باز رہے‘
ڈاکٹروں کے مطابق غزہ میں اب تک چار سو فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں
فلسطینی تنظیم حماس کے رہنما خالد مِشعل نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ غزہ پر زمینی حملے کی ہمت نہ کرے۔

غزہ کی پٹی پر ایک ہفتے قبل شروع کی جانے والی مسلسل بمباری کے بعد شام کے دارالحکومت دمشق میں مقیم خالد مِشعل نے کہا کہ اگر اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں گھسنے کی کوشش کی تو وہ اپنی بدبختی کو دعوت دیں گے۔



غزہ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے سے جاری اسرائیلی بمباری میں اب تک 428 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران حماس کی جانب سے داغے گئے میزائلوں سے جنوبی اسرائیل میں چار شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

غزہ کے ساتھ سرحد پر ہزاروں اسرائیلی فوجی زمینی کارروائی کے لیے چوکس کھڑے ہیں۔

خالد مِشعل نے اسرائیلی فوجیوں کو تنبیہ کی کہ اگر وہ غزہ میں داخل ہوئے تو ان پر حملے کیے جائیں گے اور انہیں پکڑ لیا جائے گا جیسا کہ دو برس قبل اسرائیلی فوجی گیلاد شالِت کو گرفتار کیا گیا تھا۔

’کسے معلوم؟ اگر تم غزہ میں گھسنے کی حماقت کرو گے، جیسا کہ تم ہمیں دھمکا رہے ہو، شاید غزہ میں موجود مزاحمت کے ہاتھ دوسرا، تیسرا، اور چوتھا شالِت آجائے ۔۔۔۔۔ کون جانتا ہے؟‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی حقیقی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہیں جو غزہ کے خلاف جارحیت کا خاتمہ کرے، ناکہ بندی ختم اور تمام راستے کھولنے کی ضمانت دیں۔

خالد مشعل
خالد مِشعل نے اسرائیلی فوجیوں کو تنبیہ کی کہ اگر وہ غزہ میں داخل ہوئے تو ان پر حملے کیے جائیں گے
دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں حماس کی قیادت کے خلاف حملے تیز کر دیئے ہیں اور تازہ حملوں میں حماس کے تقریباً پچیس رہنماؤں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے جواب میں حماس نے جنوبی اسرائیل پر راکٹ حملے جاری رکھے ہیں۔

اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ ان کے حساب سے اسرائیلی بمباری میں تین سو بیس سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم دوسری اطلاعات کے مطابق چار سو بیس سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور دو ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

مشرق وسطی کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ افسر رابرٹ سرّی کا کہنا ہے کہ اگر تشدد کو روکا نہ گیا تو اسرائیل حماس تنازع زیادہ ہلاکت خیز بن جائے گا۔

’غزہ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حماس کے راکٹ اسرائیل کے اندر چالیس کلومیٹر تک مار کر رہے ہیں۔ شہریوں کی حفاظت، غزہ کی ساخت، قیام امن کا عمل اور علاقی استحکام ۔۔۔ سب کے سب حماس کے غیرذمہ دارانہ راکٹ حملوں اور اسرائیل کی حد سے تجاوز کرنے والی جوابی کارروائی کے نرغے میں ہیں۔ اور غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوجوں کا اجتماع اس بات کو ازحد ضروری بنا دیتا ہے کہ ہم فوری طور سے مسئلے کا کوئی پائیدار حل تلاش کریں۔‘

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی جہاں کی آبادی چودہ لاکھ سے زیادہ ہے گزشتہ اٹھارہ ماہ سے پہلے ہی انسانی بحران سے دو چار تھی کیونکہ اسرائیل نے اس کا محاصرہ کر رکھا مگر اب ایک ہفتے سے جاری بمباری نے وہاں کے شہریوں کے لیے اور زیادہ مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

اسرائیل نے گزشتہ روز تقریباً ایک سو ایسے افراد کو غزہ سے نکلنے کی اجازت دی جن کے پاس غیر ملکی پاسپورٹ تھے۔

روسی پاسپورٹ کے حامل ایک بچے نے سوبھی نے بتایاکہ غزہ میں حالات بہت خطرناک اور بچے بہت خوفزدہ ہیں۔

بچے کا کہنا تھا ’روزانہ دھماکے سنائی دیتے ہیں جن سے گھر ہل جاتے ہیں اور بچے رونے لگتے ہیں۔ پہلے روز انہوں نے ہم پر بمباری کی اور ہمارے سکول میں خوف پھیل گیا۔ بہت سے بچے تو ڈر سے بیمار ہوگئے ہیں۔‘

غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اور سنیچر کو یہاں برطانیہ کے مختلف شہروں میں بھی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

 غزہ غزہ: حملوں کے بعد
’غزہ: جنازے ہیں یا ہسپتال جاتی گاڑیاں‘
غزہغزہ، اسرائیلی حملے
حملے حماس کے ٹھکانوں پر کیے گئے: اسرائیل
اسرائیلی حملے بمباری تیسرا دن
غزہ پر اسرائیلی حملوں کا تیسرا دن
حملوں کا مقصد
غزہ پر کیے گئے حملے اور اسرائیل کے مقاصد
ایلن جونسٹناسرائیل جانتا ہے۔۔۔
’فوجی کارروائی غزہ کے مسئلے کا دیرپا حل نہیں‘
دنیا’سراپا احتجاج‘
اسرائیلی حملوں کے خلاف لوگ سڑکوں پر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد