نیویارک:اسرائیل مخالف مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے شہر نیویارک میں ہزاروں مردوں، عورتوں اور بچوں نے فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا ہے۔ مقامی امریکیوں سمیت مختلف ممالک و اقوام سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک بڑا احتجاجی جلوس نیویارک کے مشہور ٹائمز اسکوائر سے شروع ہوکر بڑی شاہراہوں سے گزرتا ہوا سیکنڈ ایوینیو پر اسرائيل کے قونصل خانے گیا۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف دنیا بھر میں مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہےاور سنیچر کو بھی مسلم ممالک کے علاوہ برطانیہ کے دارالحکومت لندن سمیت یورپ کے مختلف شہروں میں بھی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ نیویارک میں جنگ مخالف اور شہری حقوق کی تنظیموں کی طرف سے ایک بڑی تنظیم ’ کولیشن اگینسٹ سِیج‘ کے بینر تلے نیویارک میں سینچر کی صبح ٹائمز اسکوائر پر جمع ہونیوالے سینکڑوں عورتیں، مرد اور بچے جو فلسطینی پرچم، غزہ میں ہلاک ہونیوالے بچوں کی تصاویر اور صدر بش کا پتلا اٹھائے ہوئے تھے۔
مظاہرین میں سے ایک نے صدر بش کا پتلا اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا ’بش، دہشتگرد نمبر ایک‘۔ دیگر نعروں میں ’امریکی ڈالر اسرائیل کے جنگي جرائم پر خرچ مت کرو‘، ’امریکی ٹیکس دہندگان کے ڈالر اسرائيل کے جنگي جرائم کیلیے نہیں‘ درج تھے۔ بہت سے مظاہرین اور مظاہرے کی کوریج کرنے والے صحافیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے ماضی قریب میں عراق جنگ کے خلاف جنگ کی شروعات میں ہونیوالے ایک دو مظاہروں کے سوا ایسا مظاہرہ نیویارک میں کبھی نہیں دیکھا جس میں امریکیوں سمیت مختلف النسل لوگوں نے شرکت کی ہے- سنیچر کے مظاہرے میں عرب امریکیوں اور یہودی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مردوں او ر عورتوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھے، جبکہ ترک اور کرد بھی جلوس میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چل رہے تھے۔ مظاہرہ منظم کرنے والی تنظیم ’کولیش اگينسٹ سیج‘، جو امریکی شہری حقوق اور جنگ مخالف تنظیموں کا فلسطینیوں اور غزہ کے محاصرے کے خلاف اتحاد ہے، کے سرگرم کارکن اور سنیچر کی ریلی کے ایک منتظم مائيکل لیٹون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارا اتحاد فلسطینیوں کی نسل کشی اور محاصروں کے خلاف ہے اور سنیچر کا مظاہرہ اس کی پہلی کڑی ہے‘۔ مائیکل لیٹون نے جو کہ خود نیویارک سٹی میں مزدور رہنما ہیں کہا کہ ’ریلی میں ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کی گواہ ہے کہ امریکی عوام اور نیویارک کے شہری اسرائیل کی فلسطنییوں کے خلاف نسل کش کارروائيوں اور بش انتظامیہ کی اسرائیل نواز پالیسوں کو سخت ناپسند کرتے ہیں-‘ مظاہرے کے دوران پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے سخت حفاظتی انتظامات دیکھنے میں آئے۔ |
اسی بارے میں ’اسرائیل زمینی حملے سے باز رہے‘03 January, 2009 | آس پاس غزہ پر مزید اسرائیلی بمباری02 January, 2009 | آس پاس غزہ پر اقوام متحدہ کا اجلاس بے نتیجہ01 January, 2009 | آس پاس اسرائیلی حملے میں حماس رہنما ہلاک01 January, 2009 | آس پاس اسرائیل نے جنگ بندی کی عالمی اپیل رد کردی31 December, 2008 | آس پاس غزہ میں جنگ بندی کا عالمی مطالبہ30 December, 2008 | آس پاس ’غزہ بمباری مہم کا پہلا مرحلہ ہے‘30 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||