BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 January, 2009, 05:40 GMT 10:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیویارک:اسرائیل مخالف مظاہرہ

جلوس کے شرکاء
’مظاہرہ فلسطینیوں کی نسل کشی اور محاصروں کے خلاف احتجاج کی پہلی کڑی ہے‘
امریکہ کے شہر نیویارک میں ہزاروں مردوں، عورتوں اور بچوں نے فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا ہے۔

مقامی امریکیوں سمیت مختلف ممالک و اقوام سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک بڑا احتجاجی جلوس نیویارک کے مشہور ٹائمز اسکوائر سے شروع ہوکر بڑی شاہراہوں سے گزرتا ہوا سیکنڈ ایوینیو پر اسرائيل کے قونصل خانے گیا۔

غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف دنیا بھر میں مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہےاور سنیچر کو بھی مسلم ممالک کے علاوہ برطانیہ کے دارالحکومت لندن سمیت یورپ کے مختلف شہروں میں بھی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا تھا۔

نیویارک میں جنگ مخالف اور شہری حقوق کی تنظیموں کی طرف سے ایک بڑی تنظیم ’ کولیشن اگینسٹ سِیج‘ کے بینر تلے نیویارک میں سینچر کی صبح ٹائمز اسکوائر پر جمع ہونیوالے سینکڑوں عورتیں، مرد اور بچے جو فلسطینی پرچم، غزہ میں ہلاک ہونیوالے بچوں کی تصاویر اور صدر بش کا پتلا اٹھائے ہوئے تھے۔

شانہ بشانہ
 مظاہرے میں عرب امریکیوں اور یہودی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مردوں او ر عورتوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھے، جبکہ ترک اور کرد بھی جلوس میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چل رہے تھے
نیویارک کی مشہور فورٹی سیکنڈ اسٹریٹ اور ایونیوز آف امریکہ پر سے مارچ کرتے ہوئے ان مظاہرین کی تعداد ہزاروں میں ہوگئی۔ جلوس ایک مقام پر دو میل طویل تھا۔ جلوس کے شرکاء کا مقبول اور ایک یکساں نعرہ ’فری فری فری پیلسٹائين‘ تھا۔

مظاہرین میں سے ایک نے صدر بش کا پتلا اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا ’بش، دہشتگرد نمبر ایک‘۔ دیگر نعروں میں ’امریکی ڈالر اسرائیل کے جنگي جرائم پر خرچ مت کرو‘، ’امریکی ٹیکس دہندگان کے ڈالر اسرائيل کے جنگي جرائم کیلیے نہیں‘ درج تھے۔

بہت سے مظاہرین اور مظاہرے کی کوریج کرنے والے صحافیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے ماضی قریب میں عراق جنگ کے خلاف جنگ کی شروعات میں ہونیوالے ایک دو مظاہروں کے سوا ایسا مظاہرہ نیویارک میں کبھی نہیں دیکھا جس میں امریکیوں سمیت مختلف النسل لوگوں نے شرکت کی ہے-

سنیچر کے مظاہرے میں عرب امریکیوں اور یہودی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مردوں او ر عورتوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھے، جبکہ ترک اور کرد بھی جلوس میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چل رہے تھے۔

مظاہرہ منظم کرنے والی تنظیم ’کولیش اگينسٹ سیج‘، جو امریکی شہری حقوق اور جنگ مخالف تنظیموں کا فلسطینیوں اور غزہ کے محاصرے کے خلاف اتحاد ہے، کے سرگرم کارکن اور سنیچر کی ریلی کے ایک منتظم مائيکل لیٹون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارا اتحاد فلسطینیوں کی نسل کشی اور محاصروں کے خلاف ہے اور سنیچر کا مظاہرہ اس کی پہلی کڑی ہے‘۔

مائیکل لیٹون نے جو کہ خود نیویارک سٹی میں مزدور رہنما ہیں کہا کہ ’ریلی میں ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کی گواہ ہے کہ امریکی عوام اور نیویارک کے شہری اسرائیل کی فلسطنییوں کے خلاف نسل کش کارروائيوں اور بش انتظامیہ کی اسرائیل نواز پالیسوں کو سخت ناپسند کرتے ہیں-‘

مظاہرے کے دوران پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے سخت حفاظتی انتظامات دیکھنے میں آئے۔

 غزہ غزہ: حملوں کے بعد
’غزہ: جنازے ہیں یا ہسپتال جاتی گاڑیاں‘
غزہغزہ، اسرائیلی حملے
حملے حماس کے ٹھکانوں پر کیے گئے: اسرائیل
اسرائیلی حملے بمباری تیسرا دن
غزہ پر اسرائیلی حملوں کا تیسرا دن
حملوں کا مقصد
غزہ پر کیے گئے حملے اور اسرائیل کے مقاصد
ایلن جونسٹناسرائیل جانتا ہے۔۔۔
’فوجی کارروائی غزہ کے مسئلے کا دیرپا حل نہیں‘
دنیا’سراپا احتجاج‘
اسرائیلی حملوں کے خلاف لوگ سڑکوں پر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد