’زمینی کارروائی، اکیس بچے ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں اتوار کی رات کواسرائیلی کارروائی جاری رہی جہاں اسرائیلی پیدل فوج اور طاقتور بکتر بند گاڑیوں نے عملاً غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ فلسطینی محکمہ صحت نے کہا ہے کہ آٹھ روز قبل شروع ہونے والی اسرائیلی کارروائی کے بعد پانچ سو نو فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔اس کے مطابق زمینی کارروائی شروع ہونے کے بعد اکہتر لوگ ہوئے ہیں جن میں اکیس بچے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پچیس سو لوگ زخمی ہیں۔ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسرائیل غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں جانے کی اجازت نہیں دے رہا حالانکہ اس کی عدالتِ عظمیٰ نے فیصلہ دیا تھا کہ محدود تعداد میں صحافیوں کو اجازت دی جائے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی زمینی کارروائی میں تقریباً ستر لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک اسرائیلی فوجی بھی مارا گیا۔ امریکی نائب صدر ڈک چینی نے اسرائیلی کارروائی کا دفاع کیا اور کہا کہ فلسطینی شدت پسندوں کے راکٹ فائر کرنے والے ٹھکانے صرف فضائی حملوں سے ختم نہیں کیے جا سکتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے کارروائی شروع کرنے سے پہلے امریکہ سے منظوری نہیں لی تھی۔ اسرائیل کے صدر شیمون پیریز نے فائر بندی کا مطالبہ مسترد کر دیا لیکن انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا غزہ پر دوبارہ قبضے یا حماس کی تباہی کا ارادہ نہیں۔ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے کہا کہ وہ اسرائیل کی ’گھناؤنی جارحیت‘ کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کا ایک مشن خطے کی طرف بھیجا گیا ہے۔ یونین کے خارجہ امور کے سربراہ ہاویر سولانا نے کہا کہ یہ بحران سفارتکاری کی ناکامی کا مظہر ہے۔ اتوار کو کم سے کم بتیس راکٹ جنوبی اسرائیل پر فائر کیے گئے جن سے دو مختلف علاقوں میں تین کل لوگ زخمی ہوئے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دن کے وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ لڑائی غزہ کے شمال سے مغرب میں زیادہ گنجان آباد علاقوں کی طرف پھیل رہی تھی۔ حماس کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر اس کے جنگجوؤں کی اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ دست بدست لڑائی ہو رہی ہے، جبکہ اس سے قبل اسرائیل فوج نے کہا تھا کہ شدت پسند اس کے فوجیوں کے قریب آنے کی بجائے مارٹر اور گھریلو بموں پر انحصار کر رہے ہیں۔ غزہ شہر میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے کہا کہ لڑائی اور اسرائیلی فوجیوں کی وجہ سے اشد ضروری طبی امداد متاثرہ علاقوں میں ہسپتالوں تک نہیں پہنچ پا رہی جہاں زخمیوں کی دیکھ بھال میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ برطانوی امدادی ادارے آکسفیم نے کہا کہ اسرائیلی گولے سے ایک ساتھی تنظیم کے لیے کام کرنے والا طبی کارکن ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔ آکسفیم نے کہا کہ وہ ہنگامی امداد کے علاوہ اپنا کام بند کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ معمولی مقدار میں وہ امدادی اشیاء جو اسرائیل علاقے میں لانے کی اجازت دیتا ہے زمینی کارروائی کے بعد سے ختم ہو چکی ہیں۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ غزہ پر کارروائی شروع ہونے کے بعد سے امدادی سامان کے چار سو ٹرکوں کو علاقے میں آنے دیا گیا ہے۔ لیکن کئی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سامان ناکافی ہے اور جو ہے اسے ان علاقوں میں پہنچانا جہاں اس کی زیادہ ضرورت ہے بہت مشکل ہو گیا ہے۔ | اسی بارے میں غزہ سے: ’ہم خوف کے سائے میں ہیں‘04 January, 2009 | آس پاس حماس اور اسرائیل کے لیے کامیابی کامطلب کیا04 January, 2009 | آس پاس لڑائی میں شدت،جنگ بندی اپیل پر عدم اتفاق04 January, 2009 | آس پاس غزہ تصاویر، اسرائیلی دعوے کی نفی04 January, 2009 | آس پاس نیویارک:اسرائیل مخالف مظاہرہ04 January, 2009 | آس پاس اسرائیلی زمینی حملہ روکنے کا مطالبہ03 January, 2009 | آس پاس غزہ:عرب رہنما نیویارک میں03 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||