BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 January, 2009, 01:43 GMT 06:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’زمینی کارروائی، اکیس بچے ہلاک‘
اسرائیلی ٹینک
اسرائیلی فوج نے، جسے بحریہ، فضائیہ اور توپخانے کی مدد حاصل ہے، غزہ شہر کے دونوں طرف اور شرقاً سے غرباً شاہراہ کے ساتھ پوزیشن سنبھال لی ہے

غزہ میں اتوار کی رات کواسرائیلی کارروائی جاری رہی جہاں اسرائیلی پیدل فوج اور طاقتور بکتر بند گاڑیوں نے عملاً غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔

فلسطینی محکمہ صحت نے کہا ہے کہ آٹھ روز قبل شروع ہونے والی اسرائیلی کارروائی کے بعد پانچ سو نو فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔اس کے مطابق زمینی کارروائی شروع ہونے کے بعد اکہتر لوگ ہوئے ہیں جن میں اکیس بچے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پچیس سو لوگ زخمی ہیں۔


ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسرائیل غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں جانے کی اجازت نہیں دے رہا حالانکہ اس کی عدالتِ عظمیٰ نے فیصلہ دیا تھا کہ محدود تعداد میں صحافیوں کو اجازت دی جائے۔

رات ہوتے ہی
 اتوار کو رات پڑتے ہی غزہ کے زیادہ تر حصے تاریکی میں ڈوب گئے۔ شمالی سرحد پر دھماکوں سے پیدا ہونے والے شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ بندوقوں اور توپوں سے فائرنگ کی مسلسل آواز سنائی دے رہی تھی
اسرائیلی فوج نے، جسے بحریہ، فضائیہ اور توپخانے کی مدد حاصل ہے، غزہ شہر کے دونوں طرف اور شرقاً سے غرباً شاہراہ کے ساتھ پوزیشن سنبھال لی ہے۔ اطلاعات کے مطابق چالیس کے قریب ٹینک خان یونس کے علاقے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ بیت حنون کے محاصرے کی بھی اطلاعات ہیں۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی زمینی کارروائی میں تقریباً ستر لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک اسرائیلی فوجی بھی مارا گیا۔

امریکی نائب صدر ڈک چینی نے اسرائیلی کارروائی کا دفاع کیا اور کہا کہ فلسطینی شدت پسندوں کے راکٹ فائر کرنے والے ٹھکانے صرف فضائی حملوں سے ختم نہیں کیے جا سکتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے کارروائی شروع کرنے سے پہلے امریکہ سے منظوری نہیں لی تھی۔

اسرائیل کے صدر شیمون پیریز نے فائر بندی کا مطالبہ مسترد کر دیا لیکن انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا غزہ پر دوبارہ قبضے یا حماس کی تباہی کا ارادہ نہیں۔

فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے کہا کہ وہ اسرائیل کی ’گھناؤنی جارحیت‘ کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

یورپی یونین کا ایک مشن خطے کی طرف بھیجا گیا ہے۔ یونین کے خارجہ امور کے سربراہ ہاویر سولانا نے کہا کہ یہ بحران سفارتکاری کی ناکامی کا مظہر ہے۔

اتوار کو کم سے کم بتیس راکٹ جنوبی اسرائیل پر فائر کیے گئے جن سے دو مختلف علاقوں میں تین کل لوگ زخمی ہوئے۔

امدادی کارروائیاں متاثر
 اسرائیلی گولے سے ایک ساتھی تنظیم کے لیے کام کرنے والا طبی کارکن ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔ ہنگامی امداد کے علاوہ اپنا کام بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ معمولی مقدار میں وہ امدادی اشیاء جو اسرائیل علاقے میں لانے کی کبھی کبھار اجازت دیتا ہے زمینی کارروائی کے بعد سے ختم ہو چکی ہیں
برطانوی امدادی تنظیم آکسفیم
غزہ میں اتوار کو رات پڑتے ہی غزہ کے زیادہ تر حصے تاریکی میں ڈوب گئے۔ شمالی سرحد پر دھماکوں سے پیدا ہونے والے شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ بندوقوں اور توپوں سے فائرنگ کی مسلسل آواز سنائی دے رہی تھی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دن کے وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ لڑائی غزہ کے شمال سے مغرب میں زیادہ گنجان آباد علاقوں کی طرف پھیل رہی تھی۔

حماس کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر اس کے جنگجوؤں کی اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ دست بدست لڑائی ہو رہی ہے، جبکہ اس سے قبل اسرائیل فوج نے کہا تھا کہ شدت پسند اس کے فوجیوں کے قریب آنے کی بجائے مارٹر اور گھریلو بموں پر انحصار کر رہے ہیں۔

غزہ شہر میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے کہا کہ لڑائی اور اسرائیلی فوجیوں کی وجہ سے اشد ضروری طبی امداد متاثرہ علاقوں میں ہسپتالوں تک نہیں پہنچ پا رہی جہاں زخمیوں کی دیکھ بھال میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

برطانوی امدادی ادارے آکسفیم نے کہا کہ اسرائیلی گولے سے ایک ساتھی تنظیم کے لیے کام کرنے والا طبی کارکن ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔ آکسفیم نے کہا کہ وہ ہنگامی امداد کے علاوہ اپنا کام بند کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ معمولی مقدار میں وہ امدادی اشیاء جو اسرائیل علاقے میں لانے کی اجازت دیتا ہے زمینی کارروائی کے بعد سے ختم ہو چکی ہیں۔

اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ غزہ پر کارروائی شروع ہونے کے بعد سے امدادی سامان کے چار سو ٹرکوں کو علاقے میں آنے دیا گیا ہے۔ لیکن کئی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سامان ناکافی ہے اور جو ہے اسے ان علاقوں میں پہنچانا جہاں اس کی زیادہ ضرورت ہے بہت مشکل ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد