BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 January, 2009, 12:08 GMT 17:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ:عرب رہنما نیویارک میں

 عرب لیگ
عرب وزرائے خارجہ کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس بھی نیویارک آ رہے ہیں
غزہ اسرائیل تنازعے کے حوالے سے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے صدر دفاتر میں فسلطینی صدر محمود عباس سمیت عرب وزرائے خارجہ پیر کو اکھٹے ہو رہے ہیں۔

یہ بات جمعہ کی دوپہر نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں مشرق وسطی میں امن کے عمل کے اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر رابرٹ سیری نے یروشلم سے اپنی ایک ویڈیو پریس کانفرنس کے دوران بتائي۔

رابرٹ سیری نے اقوام متحدہ میں موجود میڈیا کو بتایا کہ آئندہ ہفتے پیر کے روز نیویارک میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ سمیت کئي عرب رہنما غزہ میں تشدد کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات کریں گے اور سلامتی کونسل کے لیے غزہ کی صورتحال پر ایک مسودہ بھی پیش کریں گے۔

اقوام متحدہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عرب وزرائے خارجہ کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس بھی سیکرٹری خارجہ بان کی مون سے ملاقات کرنے نیویارک آ رہے ہیں۔

یروشلم سے اپنی ویڈیو پریس کانفرنس کے ذریعے رابرٹ سیری نے غزہ کی تازہ ترین صورتحال پر کہا کہ ’حماس کی غیر ذمہ دارارنہ راکٹ حملوں اور اسرائيل کی طرف سے اس کے جواب میں طاقت کے انتہائي استعمال سے مشرق وسطی میں امن کا مستقبل ، علاقے میں استحکام اور غزہ کی پٹی میں عام لوگوں کی سلامتی شدید خطرے میں پڑ گئے ہیں‘۔

رابرٹ سیری نے کہا کہ آئندہ دنوں میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوم متحدہ سمیت مشرق وسطٰی میں’ کھلاڑیوں‘ کو سفارتی میدان میں بہت ہی سرگرم کردار ادا کرنا ہے۔

رابرٹ سیری کو پریس کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ میں عرب ملکوں سے تعلق رکھنے والے میڈیا ارکین کی جانب سے تیز و تند سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کے انسانی حقوق پر آزاد ماہرین نے عاصمہ جہانگیر کی سربراہی میں غزہ میں اسرائيلی فوجوں کے حملوں اور اسرائیل پر حماس کی طرف سے راکٹ حملوں کو انسانی جانوں کا ناقابل معافی زیاں قرار دیتے ہوئے اس کے فوری خاتمے کو کہا ہے۔

اقوم متحدہ کے انسانی حقوق کے آزاد ماہرین کے گروپ کی چيئر پرسن عاصمہ جہانگیر کی طرف سے جاری بیان میں کہا گيا ہے کہ غزہ کی تشدد بھری صورتحال بین الاقوامی انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور عالمی انسانی حقوق کے قوانین دونوں فریقین کو ایسی پرتشدد صورتحال ختم کرنے کا پابند کرتے ہیں۔انسانی حقوق کے ان ماہرین نے دونوں فریقین سے فوری طور تشدد کے خاتمے اور انسانی امداد کیلیے راستے کھول دینے کو بھی کہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد