BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 January, 2009, 15:19 GMT 20:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل’فائربندی اصولوں‘پر راضی
حسنی مبارک اور نکولا سرکوزی
مصر اور فرانس کی تجویز پر حماس اور اسرائیل دونوں غور کر رہے ہیں۔

اسرائیل غزہ میں فائر بندی کے اصولوں پر راضی ہوگیا ہے لیکن فائر بندی کی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک ریگیو نےکہا ہے کہ ’طے شدہ اصولوں‘ کے مطابق جنگ بندی کی تفصیلات طے کرنا سب سے بڑا چیلنج ہیں۔

حماس نے کہا ہے کہ کچھ مثبت اشارے ملے ہیں لیکن ابھی تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔

جنگ بندی کی طرف مثبت پیش رفت اسی وقت ہوئی جب اسرائیل نےغزہ پر اپنے حملے کو تین گھنٹوں تک معطل کرنے کا اعلان کیا۔

اسرائیلی ترجمان نے کہا کہ غزہ پر حملوں میں ہر روز تین گھنٹوں کا وقفہ کیا جائےگا تاکہ لوگ دوائیاں اور دیگر ضرورت زندگی کی اشیا حاصل کر سکیں۔


اس سے قبل فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے کہا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین اتھارٹی نے فرانس و مصر فائر بندی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اصولی طور پر منصوبے سے اتفاق کرتا ہے تاہم بات چیت جاری ہے۔ حماس نے جو غزہ کو کنٹرول کرتی ہے کہا ہے کہ کوئی مفاہمت نہیں ہوئی تاہم کہا ہے کہ اشارے مثبت ہیں۔

دوسری طرف لبنان سے حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ پر حملے کی سزا دی جائے گی۔ کسی نامعلوم مقام سے بیروت کے جنوبی نواح میں عاشورہ کے لیے جمع ہونے والے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر اس الزام کا اعادہ کیا کہ عرب رہنما اسرائیل کے بارے میں نرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اسرائیل پہلے ہی حزب اللہ کو کوئی نیا محاذ کھولنے کے بارے متنبیہ کر چکا ہے۔

قبل ازیں اسرائیل نے غزہ پر جاری بمباری میں ہر روز تین گھنٹے کے وقفے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد بمباری میں مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے سے چار بجے تک وقفہ کیا گیا۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ تین گھنٹے کے وقفے سے لوگوں کو ضروری اشیا خریدنے اور امداد حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔‘

منگل کو لڑائی میں ایک سو تیس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔طبی شعبے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جب سے حملوں کا آغاز ہوا ہے کم سے کم چھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فلسطینیوں کے مطابق ان میں کم سے کم ایک سو پچانوے بچے شامل ہیں۔

مرنے والوں میں تقریباً دو سو بچے شامل ہیں

غزہ میں لڑائی رکوانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فوری فائربندی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیل اور حماس دونوں پر جنگ بندی کے لیے اب دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اہم عالمی قوتوں نے غزہ میں فائربندی کے مصر اور فرانس کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس نے کہا ہے کہ امریکہ مصر اور فرانس کی طرف سے پیش کیے جانے والے امن منصوبے کے حق میں ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے بھی منصوبے کو خوش آمدید کہا۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کی سفیر گیبری ایلا شلیو نے کہا کہ ان کا ملک فرانس مصر کے منصوبے کو سنجیدگی سے دیکھتا ہے۔

گزشتہ رات اسرائیل نے غزہ پر چالیس فضائی حملے کیے۔ بدھ کے روز اسرائیل نے حماس کی جانب سے کسی میزائل حملے کی اطلاع نہیں دی ہے۔

اسرائیلی سفیر برطرف
 وینیزویلا نے اسرائیلی سفیر اور اس کے سفارتخانے کے کچھ عملے کو غزہ پر بمباری کی وجہ سے ملک سے چلے جانے کے لیے کہا ہے۔ وینزویلا کے صدر ہیوگو چاویز نے اسرائیلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور غزہ میں اس کی کارروائی کو بربریت قرار دیا

اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی کے بعض مخصوص علاقوں تک امداد کی فراہمی کو ممکن بنانے کے لیے ایک راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آج اسرائیلی کابینہ کا ایک اجلاس ہو رہا ہے جس میں مصر اور فرانس کی تجویز کے ساتھ ساتھ فوجی آپریشن کا دائرہ بڑھانے پر بھی غور کیا جائے گا۔

ایک فلسطینی اہلکار کے مطابق حماس کی قیادت ، جو یہ چاہتی ہے کہ اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی ختم کر دے، اس منصوبے پر غور کر رہی ہے۔ اس سے قبل انہیں مصر کے صدر حسنی مبارک نے بریفنگ دی تھی۔

اسرائیل مصر کے راستے غزہ میں اسلحے کی سمگلنگ روکنا چاہتا ہے جبکہ حماس کا مطالبہ ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے میں غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط بھی شامل ہونی چاہیے۔

اس سے قبل غزہ میں اقوامِ متحدہ کے ایک سکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم تیس افراد ہلاک اور پچپن زخمی ہوگئے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی توپ خانے کی طرف سے داغے جانے والے گولے غزہ میں اس کے زیرِ انتظام ایک سکول کے باہر گرے۔

یورپی وفد
اسرائیل نے یورپ کی جنگ بندی کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے

بان کی مون نے اسرائیل کو غزہ پر بمباری اور حماس کو اسرائیل پر راکٹ فائر کرنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا دورہ کریں گے۔

اسی دوران وینیزویلا نے اسرائیلی سفیر اور اس کے سفارتخانے کے کچھ عملے کو غزہ پر بمباری کی وجہ سے ملک سے چلے جانے کے لیے کہا ہے۔ وینیزویلا کے صدر ہیوگو چاویز نے اسرائیلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور غزہ میں اس کی کارروائی کو بربریت قرار دیا۔

فرانس اور مصر کے منصوبے کے تحت محدود وقت کے لیے فائربندی ہو گی تاکہ امدادی سامان غزہ میں پہنچایا جا سکے اور اسرائیل اور فلسطینی گروہوں کے درمیان بات چیت شروع کروائی جا سکے تاکہ لڑائی دوبارہ شروع نہ ہو۔ فرانس کا کہنا ہے کہ اسے امید ہے کہ اسرائیل بدھ تک اپنا رد عمل ظاہر کر دے گا۔

جبالیہ کے پناہ گزیں کیمپ میں واقع الفالوج سکول میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔ اقوامِ متحدہ نے اس واقعہ کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔قریبی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ یہ سکول اسرائیلی حملے میں براہ راست فائر کا شکار ہوا۔

اس سے قبل ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی آئی سی آر سی نے کہا تھا کہ غزہ کو سنگین ترین انسان بحران کا سامنا ہے۔غزہ میں تنظیم کی سرگرمیوں کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دس روز کی کشمکش کے بعد غزہ میں زندگی ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے۔

اسرائیل نے غیر ملکی صحافیوں کے غزہ میں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے حالانکہ ملک کی سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ محدود تعداد میں صحافیوں کو داخل ہونے دیا جائے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد