غزہ سفارتکاری، آئندہ چوبیس گھنٹے اہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں غزہ سمیت مشرق وسطی کی حالیہ صورتحال پر بلایا گیا سلامتی کونسل کا اجلاس منگل کو رات گئے تک جاری رہا جس میں غزہ میں تشدد کے خاتمے کے لیے لیبیا کی طرف سے مجوزہ قرارداد کا مسودہ پیش کیا گیا۔ دوسری طرف مصر کے صدر حسنی مبارک اور فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کی جانب سے فلسطین اور اسرائیل کے مابین امن کے لیے الگ تجاویز پیش کی گئی ہیں جن میں قاہرہ میں بدھ کو امن کانفرنس کا انعقاد بھی شامل ہے۔ اگرچہ حماس اور اسرائیل کے درمیاں فوری جنگ بندی، تشدد کے خاتمے، غزہ میں انسانی مصائب کے خاتمے کے لیے امداد کی فراہمی کے لیے اسرائیل کی جانب سے سرحدوں کے کھولے جانے اور حماس کی طرف سے راکٹ حملوں کے روکے جانے جیسے مطالبات پر شرکاء اور مستقل و غیر مستقل اراکین کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے لیکن مشاورت اور ہنگامی سفارتی سرگرمیاں منگل کی شب دیر تک جاری رہیں۔ منگل کی شام اجلاس شروع ہونے سے ذرا دیر قبل برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے سلامتی کونسل کے کانفرنس ہال کے باہر موجود میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کی صورتحال پر آئندہ چوبیس گھنٹوں تک زبردست سفارتی سرگرمیاں جاری رہیں گي۔ ڈيوڈ ملی بینڈ نے غزہ میں اقوام متحدہ کے اسکول پر اسرائیلی حملے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ غزہ سمیت مشرق وسطی میں بحران کے پہلے ہی دن سے برطانیہ کی پوزیشن واضح ہے کہ علاقے میں امن اور مسئلے کے مستقل حل کے لیے فوری طور پر جنگ بندی کی جائے۔ اجلاس سے قبل عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کی کمیٹی کے اراکین کیساتھ امریکی سیکرٹری خارجہ کونڈا لیزا رائس، برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ، ترکی اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے مابین اجلاس اور سفارتی مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔ لیبیا کیطرف سے سلامتی کونسل میں پیش کی جانیوالی مجوزہ قرارداد کے مسودے پر اسرائیل کے علاوہ امریکہ سمیت سلامتی کونسل کے کئی مستقل اراکین کی جانب سے سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کی مستقل مندوب گبريئلا شالیو نے میڈیا کو اپنی بریفنگ میں بتایا کہ لیبیا کی قرارداد کے مسودے کوا سرائیل مکمل طور پر مسترد کرتا ہے کیونکہ یہ، بقول اسرائیلی سفیر، یکطرفہ ہے جس میں حماس کا نام نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک دہشتگرد تنظیم اور اپنی خود مختاری کا دفاع کرنے والے ایک ملک کو مساوی نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حماس نے غزہ اور جنوبی اسرائیل میں لوگوں کو یرغمال اور دہشت زدہ بنایا ہوا ہے۔ دوسری طرف سلامتی کونسل میں مجوزہ مسودہ قراداد پیش کرنے والے لیبیا کے وزیر خارجہ عبدالرحمان محمد شیلغم نے میڈیا کو اپنی بریفنگ میں کہا کہ انکی پیش کرہ مسودہ قرارداد پر سلامتی کونسل میں اراکین کو تحفظات ہیں لیکن وہ ترامیم کے ذریعے دور کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے لیبیا کی پیش کردہ قرار داد کے بارے میں کہا کہ قرادار کے مقاصد پر نہیں اس پر عمل کے طریقہ کار پر اختلافات ہوسکتے ہیں۔ اس سے قبل سلامتی کونسل کے کھلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل فلسطین کیساتھ ساٹھ سالہ تباہی کی اپنی پالیسی پر غزہ میں کاربند ہے اور عالمی برادری کو میرے (فلسطینی) لوگوں کو بچانے کے لیے آگے آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے عوام سلامتی کونسل کی جناب سے غزہ میں تشدد فوری بند کروانے سے کم کوئی بھی چيز قبول نہیں کریں گے۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور امریکی سیکرٹری خارجہ کونڈا لیز رائس دوران اجلاس اٹھ کر چلے گئے جسے کئي مبصر غزہ کی صورتحال کے لیے آنیوالے دنوں میں کسی پیش رفت سے جوڑتے رہے لیکن مشرق وسطی میں فلسطینی چيف مکالمہ نگار نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صدر عباس کے اجلاس سے چلے جانے کو انکی پہلے سے طے شدہ مصروفیات سے تعبیر کیا۔ اس سے قبل صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون سے بھی ملاقات کی۔ سیکریٹری جنرل بانکی مون نے اجلاس کو بتایا کہ فلسطینی صدر محمود عباس اور عرب لیگ کے وزراۓ خارجہ سے غزہ کی صورتحال پر مشاورت اور ملاقاتوں کے بعد وہ صدر بش سے ملنے جارہے ہیں۔ بہر حال اقوم متحدہ میں سینئر تجزیہ نگار آئندہ چوبیس گھنٹے غزہ کی صورتحال کے متعلق سفارتی میدان میں فیصلوں کے حوالے سے اہم بتا رہے ہیں۔ ایسے کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ غزہ کی حالیہ صورتحال کے خاتمے کی خبر اقوام متحدہ میں نہیں مصر میں ہے جہاں مصر کے صدر حسنی مبارک نے اسرائيل اور فلسطنی صدر محمود عباس سمیت مشرق وسطی میں فریقین اور مسئلے کے حل میں دلچسپی رکھنے والے رہنماؤں کی امن کانفرنس قاہرہ میں بلانے کو کہا ہے۔ اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کا اجلاس بدھ کو بھی جاری رہے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||