’میری بیوی، بیٹوں کی لاشیں گھر میں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ غزہ شہر میں القدس ہسپتال میں بیٹھی تھی، ان کی ماں، چھتیس سالہ فاطمہ شمعونی انہیں دلاسہ دے رہی تھی۔ وہ ان بچوں کی اور اپنی بھی کہانی سناتے ہوئے سسکیاں لیتی رہی۔ امدادی کارکنوں کے مطابق یہ بچے بدھ کے روز چار دنوں کے بعد اپنے مرحوم والد اور بیہوش ماں کے قریب ملے تھے۔ یہ لڑکے ان تیس افراد میں سے تھے جن کے بارے میں فلسطینی ہلال احمر نے کہا کہ اس نے انہیں زیتون سے برآمد کیا۔ عالمی تنظیم انٹرنیشنل کمیٹی فار ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے کہا کہ طبی عملے نے ’دہلا دینے والا منظر‘ دیکھا کہ خوراک اور پانی کی کمی کے باعث کمزور اور زخمی لوگ گھروں میں لاشوں کے بیچ میں بیٹھے تھے۔
یہ واضح نہیں کہ احمد اور سمیع بھی اسی گھر میں تھے۔ کیونکہ عین ممکن ہے فاطمہ کو بھی ابتدائی طور پر مردہ سمجھا گیا ہو۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ وہ اور ان کے بچے ان لوگوں میں شامل تھے جنہیں لمبے انتظار کے بعد مدد ملی۔ آئی سی آر سی نے اسرائیلی فوج پر الزام لگایا کہ وہ زخمیوں کے انخلاء اور طبی امداد کے بارے میں بین الاقوامی قوانین کا پاس کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اسرائیل سے تین جنوری سے اس علاقے میں پہنچنے کے لیے محفوظ راستے کی درخواست کر رہے تھے لیکن اس میں چار روز لگ گئے۔ فاطمہ شمعونی کے خاندان کے احاطے میں کیا بیتی ابھی واضح نہیں۔ بچ جانے والے افراد نے بی بی سی کو بتایا اس خاندان کے پینسٹھ میں سے چھبیس لوگ اسرائیلی فوجی کارروائی میں ہلاک ہو گئے۔ ان کے بمباری اور پھر ان کے گھروں کے گھیراؤ کی تفصیل کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ فاطمہ نے، جنہیں سینے میں چوٹ میں لگی تھی، کہا کہ ان کے دو بیٹے، خاوند، انکل، آنٹی اور برادر نسبتی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ’میرا ایک زخمی بیٹا رینگ کر پڑوسیوں کے گھر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے مقامی ریڈیو سٹیشن فون پر امداد طلب کی۔ لیکن مدد دیر سے پہنچی۔ ’سب مر چکے تھے۔‘ انہوں نے کہا کہ میں تیسرے روز بیہوش ہو گئی تھی اور آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو ہسپتال میں پایا۔
’ ہم نے ان کو بچانے کی کوشش کی لیکن ہمارے پاس فرسٹ ایڈ کا سامان نہیں تھا۔ ہم کئی روز تک بھوکے پیاسے رہے۔ چار روز تک زخمیوں کا خون بہتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ایمبولنس والوں نے آ کر جن لوگوں کو بچا سکتے تھے بچایا۔ آئی سی آر سی نے کہا کہ زخمیوں کو ایک کلومیٹر تک ریڑھیوں پر ڈال کر لایا گیا جنہیں لوگ دھکیل رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے کھڑی کی گئیں بڑی بڑی دیواروں کی موجودگی میں ایمبولنسوں کا علاقے میں داخلہ ناممکن تھا۔ یروشلم میں آئی سی آر سی کی سربراہ کیٹرینا رِٹز نے کہا کہ تجربہ کار فلسطینی امدادی کارکنوں کی آنکھیں بھی موقع پر پہنچ کر بھیگ گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوجی مذکورہ گھر سے ایک سو میٹر کے فاصلہ پر تھے اور آئی سی آر سی سمجھتی ہے کہ ان فوجیوں کو امدادی اداروں کی درخواستوں کے بعد یہ ’معلوم تھا‘ کہ یہاں زخمی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اگر زخمیوں کے انخلاء میں سکیورٹی کے اعتبار سے کچھ تحفظات بھی ہوں پھر بھی کم سے کم ایسے لوگوں کو طبی امداد، کھانا پانی فراہم کرنا چاہیے اور انہیں محفوظ رکھنا چاہیے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ اس واقع کی تفتیش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حماس کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے جو جان بوجھ کر فلسطینی شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لڑائی کے دوران عالمی امدادی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتی ہے تاکہ شہریوں کو امداد فراہم کی جا سکے۔ |
اسی بارے میں غزہ میں امدادی کام بند کرنے کا اعلان08 January, 2009 | آس پاس ’زمینی کارروائی، اکیس بچے ہلاک‘05 January, 2009 | آس پاس حماس اور اسرائیل کے لیے کامیابی کامطلب کیا04 January, 2009 | آس پاس غزہ کارروائی، اسرائیل چاہتا کیا ہے؟05 January, 2009 | آس پاس سرکوزی مشرق وسطی کے دورے پر05 January, 2009 | آس پاس مقاصد کے حصول تک جنگ رہے گی: اسرائیل05 January, 2009 | آس پاس غزہ سے: ’ہم خوف کے سائے میں ہیں‘04 January, 2009 | آس پاس نیویارک:اسرائیل مخالف مظاہرہ04 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||