اقوامِ متحدہ کی قراداد مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی حکومت نے کہا ہے کہ فوری فائربندی پر اقوام متحدہ کی قرارداد کے باوجود وہ غزہ میں فوجی کارووائی جاری رکھے گی۔ اس سے پہلے حماس نے بھی اقوام متحدہ کی قرارداد کو مسترد کر دیا تھا۔ اسرائیلی جنگی جہازوں نے جمعرات کی رات بھی غزہ پر بمباری جاری رکھی اور اسرائیلی طیاروں نے کم سے کم پچاس حملے کیے۔ تقریباً دو ہفتوں سے جاری لڑائی میں مختلف اندازوں کے مطابق اب تک سات سو ستر فلسطینی اور چودہ اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔ ادھر اقوامِ متحدہ کی ایک اعلٰی اہلکار ناوی پلے نے کہا ہے کہ اسرائیل کا ایک عمل ہی جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی ہائی کمشنر نےیہ بات اس واقعہ کے تناظر میں کہی جس میں غزہ کے اندر زخمی فلسطینوں کو تحفظ دینے میں اسرائیلی فوج کی ناکامی ایک رپورٹ میں اجاگر کی گئی ہے۔ یہ رپوٹ ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی کی طرف سے سامنے لائی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارے کے عملے کو زیتون کے قرب و جوار میں ایک گھر سے ایک ماں کی لاش کے پاس چار لاغر بچے ملے جو انتہائی سہمے ہوئے تھے۔
مِز پلے نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ واقعہ بہت کرب انگیز ہے کیونکہ اس میں وہ تمام عناصر پائے جاتے ہیں جن کو اگر یکجا کردیں تو یہ ایک جنگی جرم کہلائے گا۔ زخمیوں کا تفحظ ، بیماروں کا علاج اور انہیں محفوظ جگہ منتقل کرنا ایک ذمہ داری ہے لیکن ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی وہاں کھڑے دیکھتے رہے اور ان چار بچوں اور ایک بالغ کے لیے جو حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے، انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ ‘ اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے اقوام متحدہ کی فائر بندی پر قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد پر عمل ناممکن ہے کیونکہ ان کے بقول سفاک فلسطینی تنظیمیں اس کا احترام نہیں کریں گی۔ حماس نے پہلے ہی اس قرارداد کو مسترد کر دیا تھا کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ اس کو تیار کرنے کے عمل میں حماس کو شامل نہیں کیا گیا۔ غزہ میں حماس کے ترجمان سمعی ابو ظُہری کا کہنا تھا۔ ’حماس کا موقف یہ ہے کہ ہمیں اس قرارداد کی پروا نہیں کیونکہ حماس سے اس سلسلے میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی حالانکہ وہ اس مسئلہ کا ایک اہم کردار ہے۔ اس کے علاوہ، قرارداد تیار کرتے وقت اس میں فلسطینی عوام کے مفادات پر غور نہیں کیا گیا، خاص کر وہ لوگ جو غزہ میں رہتے ہیں‘۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارر داد کے ذریعے فائربندی، امدادی کارکنوں کو متاثرہ علاقوں میں آنے جانے کی سہولت اور اس تنازعہ کےدیرپا حل کا مطالبہ کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے پندرہ میں سے چودہ اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ امریکہ نے ووٹ نہیں ڈالا۔ امریکہ کی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ امریکہ نے ووٹ اس لیے نہیں ڈالا کہ وہ پہلے مصر کی طرف سے کی گئی مصالحت کی کوششوں کا نتیجہ دیکھنا چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ووٹ ڈالے بغیر بھی امریکہ قرارداد کے متن کی حمایت کرتا ہے۔ قرارداد میں غزہ میں روک ٹوک کے بغیر امدادی سامان کی ترسیل یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اور رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کریں کہ فائربندی کو مستقل بنایا جا سکے۔ ان میں، قرارداد کے مطابق، غزہ میں غیر قانونی طریقے سے اسلحے کی سپلائی کو روکنا بھی شامل ہے۔
اس قرارداد کے باوجود غزہ میں لڑائی جاری رہی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ پر تقریباً پچاس فضائی حملے کیے گئے اور اسرائیل کی جانب بھی فلسطینی راکٹ داغے گئے۔ فلسطینی حکام کے مطابق شمالی غزہ کے ایک علاقے میں اسرائیلی حملے سے ایک پانچ منزلہ عمارت منہدم ہو گئی جس میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے۔ علاقے کے ایک رہایشی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ جمعہ کو بھی اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ لڑائی کو تین گھنٹوں کے لیے روک دیا جائے گا تاکہ غزہ میں لوگوں تک امداد پہنچائی جا سکے۔ تاہم بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اس وقفے کے دوران بھی غزہ سے مستقل دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ سلامتی کونسل کے 14 اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ امریکہ نے ووٹ نہیں ڈالا۔ فرانس کے وزیرِ خارجہ بیئرنار کوشنیئر نے کہا کہ کونسل کے اراکین دونوں طرف کے متاثرین کی حالتِ زار دیکھ کر پریشان ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ تسیپی لیونی نے کہا کہ اسرائیل اپنے شہریوں کی سلامتی کو سامنے رکھتے ہوئے اقدام کرتا رہے گا۔ غزہ اسرائیل سرحد پر موجود بی بی سی کی ایک نامہ نگار نے بتایا کہ جمعہ کی صبح بھی دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی تھیں اور غزہ کی پٹی کے اوپر دھواں نظر آ رہا تھا۔ قرارداد میں غزہ میں روک ٹوک کے بغیر امدادی سامان کی ترسیل یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں ممبر ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کریں کہ فائربندی کو مستقل بنایا جا سکے۔ ان میں، قرارداد کے مطابق، غزہ میں غیر قانونی طریقے سے اسلحے کی سپلائی کو روکنا بھی شامل ہے۔ امریکہ کی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ووٹ اس لیے نہیں ڈالا کہ وہ پہلے مصر کی طرف سے کی گئی مصالحت کی کوششوں کا نتیجہ دیکھنا چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ووٹ ڈالے بغیر بھی امریکہ قرارداد کے متن کی حمایت کرتا ہے۔ دریں اثناء ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ غزہ میں فوجی کارروائی سے زخمی ہونے والوں کو وہاں سے نکالنے اور ان کا علاج کرنے کے بین الاقوامی قوانین کے تحت ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
جینیوا کنوینش کی پاسداری کی ذمہ دار تنظیم آئی سی آر سی نے جینیوا میں اپنے صدر دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ اُن کی امدادی جماعتیں کئی دن تک غزہ میں داخل نہیں ہوسکیں اور جب آخر کار وہ وہاں گئیں تو انہوں نے وہاں بڑی تعداد میں لاشیں، زخمی اور صدمے کا شکار افراد دیکھے جن میں بچے بھی شامل تھے۔ بی بی سی کی ایموگن فولکس لکھتی ہیں کہ روائیتی طور پر غیر جانبدار بین الاقوامی ریڈ کراس کی طبی ٹیموں نے جو غزہ میں دیکھا اسے انہوں نے دل دہلا دینے والے مناظر قرار دیا۔ چار دن کی تاخیر کے بعد اسرائیلی فوج نے ریڈ کراس کو غزہ کے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجاز ت بدھ کے روز دی۔ آئی سی آر سی کے ڈپٹی ڈائیریکٹر آپریشنز ڈومینک سٹل ہارٹ نے یہ مناظر بیان کرتے ہوئے کہا: ’ایک گھر میں بارہ لاشیں پڑی تھیں جبکہ چار بمشکل زندہ بچے اپنی مردہ ماؤں کے پاس پڑے تھے۔ یہ گھر ایک اسرائیلی فوجی چوکی سے محض اسی میٹر کی دوری پر تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں موجود اسرائیلی فوجیوں کو واضع طور پر علم تھا کہ اِن گھروں میں کیا ہو رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کی ریڈ کراس آئی سی آر سی کو اِس علاقے میں جانے کی درخواست رد کر کے زخمی ہونے والوں کی مدد کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔
عام طور پر غیر جانبدار رہنے والی ایک تنظیم کی جانب سے یہ خاصے سخت الفاظ ہیں۔ شاید ریڈ کراس نے اس سے پہلے کبھی بھی اتنا قریب ترین اور واضع اشارہ نہیں دیا کہ اسرائیل غزہ میں جینیوا کنوینشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت حالت جنگ میں مخالفین کی ذمہ داری ہے کہ وہ زخمیوں کا علاج کریں یا ان کا آزاد طبی ٹیموں کے ذریعے علاقے سے انخلاء ممکن بنائیں۔ آئی آر سی کا کہنا ہے کہ یہ واضع ہے کہ اسرائیل اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنے میں کم از کم ایک موقع پر ناکام رہا ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ نے غزہ میں امداد کی فراہمی کا کام روکنے کا اعلان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس کے ایک قافلے پر اسرائیلی ٹینک سے گولہ داغا گیا جس سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔ ایک ترجمان نے کہا کہ یو این کی نتصیبات پر کئی حملے کیے گئے ہیں اور اب امداد کی فراہمی اس وقت تک معطل رہے گی جب تک عملے کی حفاظت کی یقین دہانی نہیں مل جاتی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تفتیش کر رہی ہے۔
|
اسی بارے میں غزہ میں امدادی کام بند کرنے کا اعلان08 January, 2009 | آس پاس ’زمینی کارروائی، اکیس بچے ہلاک‘05 January, 2009 | آس پاس حماس اور اسرائیل کے لیے کامیابی کامطلب کیا04 January, 2009 | آس پاس غزہ کارروائی، اسرائیل چاہتا کیا ہے؟05 January, 2009 | آس پاس سرکوزی مشرق وسطی کے دورے پر05 January, 2009 | آس پاس مقاصد کے حصول تک جنگ رہے گی: اسرائیل05 January, 2009 | آس پاس غزہ سے: ’ہم خوف کے سائے میں ہیں‘04 January, 2009 | آس پاس نیویارک:اسرائیل مخالف مظاہرہ04 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||