غزہ: امدادی کارروائی بحال، حملے جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے سلامتی اور تحفظ کی یقین دہانی کے بعد ادارہ اپنے امدادی آپریشنز دوبارہ بحال کر رہا ہے۔ یہ بحالی اس واقعے کے ایک دن بعد کی گئی جب انروا (یونائیڈ نیشنز ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی) نے ایک دن پہلے غزہ میں اپنے عملے پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد امدادی کارروائی معطل کر دی تھی۔ اقوامِ متحدہ کی ترجمان مشیل مونٹاس نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجی نے انہیں معتبر یقین دہانی کرائی کہ اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کی سلامتی، اس کی تنصیبات اور امدادی کاموں کا احترام کیا جائے گا۔ اسرائیل اور فلسطینی شدت پسند گروہ حماس دونوں نے ابھی تک اقوامِ متحدہ کی فائربندی کی قرارداد کو نہیں مانا ہے۔ اسرائیل کی حکومت نے کہا ہے کہ فوری فائربندی پر اقوام متحدہ کی قرارداد کے باوجود وہ غزہ میں فوجی کارروائی جاری رکھے گی۔ اس سے پہلے حماس نے بھی اقوام متحدہ کی قرارداد کو مسترد کر دیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فوجی کارروائی غزہ سے فائر کیے جانے والے راکٹوں کو روکنے کے لیے ہے۔ جمعہ کو بھی غزہ سے کئی راکٹ فائر کیے گئے جو جنوبی اسرائیل میں گرے لیکن ان سے کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایہود اولمرٹ نے کہا کہ اسرائیل پر ہونے والے راکٹ حملوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرارداد ’ناقابلِ عمل‘ ہے۔ اسرائیلی حکام کہہ رہے ہیں کہ اسرائیلی فوج اسرائیلی شہریوں کا تحفظ کرتی رہے گی اور اپنے مشن جاری رکھے گی۔ تقریباً دو ہفتوں سے جاری لڑائی میں مختلف اندازوں کے مطابق اب تک آٹھ سو کے قریب فلسطینی اور چودہ اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔ حماس نے پہلے ہی اس قرارداد کو مسترد کر دیا تھا کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ اس کو تیار کرنے کے عمل میں حماس کو شامل نہیں کیا گیا۔ غزہ میں حماس کے ترجمان سمعی ابو ظُہری کا کہنا تھا۔ ’حماس کا موقف یہ ہے کہ ہمیں اس قرارداد کی پروا نہیں کیونکہ حماس سے اس سلسلے میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی حالانکہ وہ اس مسئلہ کا ایک اہم کردار ہے۔ اس کے علاوہ، قرارداد تیار کرتے وقت اس میں فلسطینی عوام کے مفادات پر غور نہیں کیا گیا، خاص کر وہ لوگ جو غزہ میں رہتے ہیں‘۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے شعبے کے سربراہ جون ہولمز نے کہاہے کہ یہ بڑی مایوس کن بات ہے کہ ابھی تک دونوں فریق قرارداد کو فراموش کر رہے ہیں۔ ادھر اقوامِ متحدہ کی ایک اعلٰی اہلکار ناوی پلے نے کہا ہے کہ اسرائیل کا ایک عمل ہی جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی ہائی کمشنر نےیہ بات اس واقعہ کے تناظر میں کہی جس میں غزہ کے اندر زخمی فلسطینوں کو تحفظ دینے میں اسرائیلی فوج کی ناکامی ایک رپورٹ میں اجاگر کی گئی ہے۔ یہ رپوٹ ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی کی طرف سے سامنے لائی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارے کے عملے کو زیتون کے قرب و جوار میں ایک گھر سے ایک ماں کی لاش کے پاس چار لاغر بچے ملے جو انتہائی سہمے ہوئے تھے۔ مِز پلے نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ واقعہ بہت کرب انگیز ہے کیونکہ اس میں وہ تمام عناصر پائے جاتے ہیں جن کو اگر یکجا کردیں تو یہ ایک جنگی جرم کہلائے گا۔ زخمیوں کا تفحظ ، بیماروں کا علاج اور انہیں محفوظ جگہ منتقل کرنا ایک ذمہ داری ہے لیکن ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی وہاں کھڑے دیکھتے رہے اور ان چار بچوں اور ایک بالغ کے لیے جو حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے، انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ ‘ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارر داد کے ذریعے فائربندی، امدادی کارکنوں کو متاثرہ علاقوں میں آنے جانے کی سہولت اور اس تنازعہ کےدیرپا حل کا مطالبہ کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے پندرہ میں سے چودہ اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ امریکہ نے ووٹ نہیں ڈالا۔ جمعہ کو بھی اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ لڑائی کو تین گھنٹوں کے لیے روک دیا جائے گا تاکہ غزہ میں لوگوں تک امداد پہنچائی جا سکے۔ تاہم بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اس وقفے کے دوران بھی غزہ سے مستقل دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ سلامتی کونسل کے 14 اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ امریکہ نے ووٹ نہیں ڈالا۔ فرانس کے وزیرِ خارجہ بیئرنار کوشنیئر نے کہا کہ کونسل کے اراکین دونوں طرف کے متاثرین کی حالتِ زار دیکھ کر پریشان ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ تسیپی لیونی نے کہا کہ اسرائیل اپنے شہریوں کی سلامتی کو سامنے رکھتے ہوئے اقدام کرتا رہے گا۔
|
اسی بارے میں غزہ فائربندی کی قرار داد منظور09 January, 2009 | آس پاس غزہ میں امدادی کام بند کرنے کا اعلان08 January, 2009 | آس پاس ’زمینی کارروائی، اکیس بچے ہلاک‘05 January, 2009 | آس پاس حماس اور اسرائیل کے لیے کامیابی کامطلب کیا04 January, 2009 | آس پاس غزہ کارروائی، اسرائیل چاہتا کیا ہے؟05 January, 2009 | آس پاس سرکوزی مشرق وسطی کے دورے پر05 January, 2009 | آس پاس مقاصد کے حصول تک جنگ رہے گی: اسرائیل05 January, 2009 | آس پاس غزہ سے: ’ہم خوف کے سائے میں ہیں‘04 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||