غزہ میں بمباری، مصر میں مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں لڑائی کا تیسرا ہفتہ شروع ہوتے ہی اسرائیل نے اپنی بمباری جاری رکھی ہے۔ جمعہ کی شب اسرائیل نے چار فضائی حملے کیے جبکہ حماس کے شدت پسندوں نے دو میزائلوں سے اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل اور حماس دونوں نے ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے فائربندی کی اپیل مسترد کردی ہے۔ تاہم سینیئر فلسطینی اہلکار مصر میں ہیں جہاں کو لڑائی کے خاتمے کے بارے میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ غزہ میں طبی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دو ہفتے کی بمباری میں لگ بھگ آٹھ سو فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ تیرہ اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
لیکن یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیک سرجنٹ کے مطابق غزہ سے ملنے والی اطلاعات سے لگتا ہے کہ اسرائیلی افواج ابھی گنجان آبادی والے علاقوں میں داخل نہیں ہورہی ہیں۔ اسرائیل نے غیرملکی صحافیوں کو غزہ کی پٹی میں جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ غزہ کے باشندوں کے مطابق سنیچر کی صبح اسرائیلی جنگی طیاروں نے خان یونس، بیت لاہیہ اور غزہ شہر کے اطراف میں عمارتوں اور مقامات پر حملے کیے جو استعمال میں نہیں تھے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق سنیچر کو حماس نے چند راکٹ اسرائیل پر داغے لیکن کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ جمعہ کو غزہ سے تیس سے زائد راکٹ اسرائیل میں داغے گئے۔ دریں اثناء اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی ہائی کمشنر ناوی پلے نے کہا ہے کہ اسرائیل کا ایک عمل ہی جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ ہائی کمشنر نےیہ بات اس واقعہ کے تناظر میں کہی جس میں غزہ کے اندر زخمی فلسطینوں کو تحفظ دینے میں اسرائیلی فوج کی ناکامی ایک رپورٹ میں اجاگر کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ریڈ کراس کی طرف سے سامنے لائی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارے کے عملے کو زیتون کے قرب و جوار میں ایک گھر سے ایک ماں کی لاش کے پاس چار لاغر بچے ملے جو انتہائی سہمے ہوئے تھے۔
فائربندی سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد کے بارے میں اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایہود اولمرٹ نے کہا کہ اسرائیل پر ہونے والے راکٹ حملوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرارداد ’ناقابلِ عمل‘ ہے۔ حماس نے پہلے ہی اس قرارداد کو مسترد کر دیا تھا کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ اس کو تیار کرنے کے عمل میں حماس کو شامل نہیں کیا گیا۔ غزہ میں حماس کے ترجمان سمعی ابو ظُہری کا کہنا تھا: ’حماس کا موقف یہ ہے کہ ہمیں اس قرارداد کی پروا نہیں کیونکہ حماس سے اس سلسلے میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی حالانکہ وہ اس مسئلہ کا ایک اہم کردار ہے۔ اس کے علاوہ، قرارداد تیار کرتے وقت اس میں فلسطینی عوام کے مفادات پر غور نہیں کیا گیا، خاص کر وہ لوگ جو غزہ میں رہتے ہیں۔‘ دریں اثناء غزہ میں اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے سلامتی اور تحفظ کی یقین دہانی کے بعد ادارہ اپنے امدادی آپریشنز دوبارہ بحال کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ترجمان مشیل مونٹاس نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجی نے انہیں معتبر یقین دہانی کرائی کہ اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کی سلامتی، اس کی تنصیبات اور امدادی کاموں کا احترام کیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں اقوامِ متحدہ کے سکول پر حملہ، بچوں سمیت کئی ہلاک06 January, 2009 | آس پاس غزہ: امدادی کارروائی بحال، حملے جاری10 January, 2009 | آس پاس غزہ فائربندی کی قرار داد منظور09 January, 2009 | آس پاس اسرائیل’فائربندی اصولوں‘پر راضی07 January, 2009 | آس پاس غزہ سفارتکاری، آئندہ چوبیس گھنٹے اہم07 January, 2009 | آس پاس فائربندی کے اصول قبول، جنگ جاری08 January, 2009 | آس پاس غزہ میں امدادی کام بند کرنے کا اعلان08 January, 2009 | آس پاس فائربندی قرارداد منظور، رات کو پچاس حملے09 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||