اقوامِ متحدہ کے سکول پر حملہ، بچوں سمیت کئی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں اقوامِ متحدہ کے ایک سکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم تیس افراد ہلاک اور پچپن زخمی ہوگئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی توپ خانے کی طرف سے داغے جانے والے گولے غزہ میں اس کے زیرِ انتظام ایک سکول کے باہر گرے۔ جبالیہ کے پناہ گزیں کیمپ میں واقع الفالوج سکول میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔ اقوامِ متحدہ نے اس واقعہ کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ قریبی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ یہ سکول اسرائیلی حملے میں ’ڈائریکٹ ہِٹ‘ کا شکار ہوا۔ فلسطین کے میڈیکل حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے زمینی حملے کے شروع ہونے کے بعد سے ابتک ایک سو دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
فلسطینی میڈیکل ذرائع نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جس سکول پر اسرائیلی فضائی حملہ ہوا ہے اسے اقوامِ متحدہ کا ادارہ چلاتا ہے۔ اس سکول کے اندر وہ لوگ پناہ لیے ہوئے تھے جو اسرائیلی زمینی حملے سے بچنے کے لیے یہاں آئے تھے۔ فلسطینی میڈیکل ذرائع کا کہنا ہے کہ جب سے حملوں کا آغاز ہوا ہے چھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ منگل کو ستر فلسطینی اور پانچ اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے۔ اس سے قبل ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی آئی سی آر سی نے کہا تھا کہ غزہ کو سنگین ترین انسان بحران کا سامنا ہے۔غزہ میں تنظیم کی سرگرمیوں کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دس روز کی کشمکش کے بعد غزہ میں زندگی ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیلی فوج اور مسلح فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور اسرائیل اس کوشش میں ہے کہ شدت پسندوں کی طرف سے راکٹ باری کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ فلسطینی میڈیکل حکام کہتے ہیں کہ جب سے اسرائیل نے غزہ میں زمینی حملہ شروع کیا ہے تب سے ابتک ایک سو دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی افواج نےغزہ کی پٹی میں فوجی آپریشن کو بند کرنے کی عالمی کوششوں کو رد کرتے ہوئے آپریشن کو خان یونس تک پھیلا دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ میں گیارہ روز سے جاری آپریشن رکھتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حماس کے 130 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اسرائیل فوج کے فضائی اور زمینی حملوں میں ابتک پانچ سو ساٹھ فلسطینی باشندے ہلاک ہو چکے ہیں۔امدادی اداروں نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری سے حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے عالمی بالخصوص یورپ کی طرف سے جنگ بندی کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقاصد کے حصول تک آپریشن جاری رہےگا۔ادھر اسرائیل کے تین فوجی اپنے ٹینکوں کی فائرنگ کی زد میں آگئے۔ اسرائیل فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ تین اسرائیلی فوجی اس وقت ہلاک ہو گئے جب ایک اسرائیلی ٹینک نے اس عمارت پر گولہ داغ دیا ہے جس میں اس وقت اسرائیلی فوجی آپریشن میں مصروف تھے۔ توپ کے گولے سے تین اسرائیلی ہلاک، چار شدید زخمی جبکہ بیس معمولی زخمی ہو گئے ہیں۔اس طرح زمینی کارروائی کے بعد ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد آٹھ ہو گئی جن میں چار فوجی تھے۔ غزہ میں سرگرم حماس اور اسلامک جہاد نے کہا کہ ان کے جنگجو اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہیں۔ اسرائیلی اخبار ہرٹز نے اپنے ذرائع سے خبر دی ہے کہ فلسطینی جنگجوؤں نے اسرائیلی فوجیوں پرمارٹر گولوں سے حملہ کیا ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ غزہ میں وسائل کی شدید کمی سے دوچار ہسپتالوں میں لائے جانے والے زخمیوں اور ہلاکشدگان کا رش لگا ہوا ہے جبکہ اسرائیلی فوج کی فلسطینی جنگجو تنظیموں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ فلسطینی طبی شعبے کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں زمینی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے
عام شہریوں اور بچوں سمیت کم سے کم نوے لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد چھبیس ہے۔ غزہ کے لوگوں کے لیے صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے۔ انہیں پانی، ایندھن، خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ خوراک کی فوری ضرورت ہے اور لوگوں کو شدید بھوک کا سامنا ہے۔ غزہ کے لوگوں کے لیے صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے۔ انہیں پانی، ایندھن، خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ خوراک کی فوری ضرورت ہے اور لوگوں کو شدید بھوک کا سامنا ہے۔ غزہ شہر کے شمال کے نواحی علاقوں میں فریقین کے درمیان شدید چھڑپیں جاری ہیں۔ دریں اثناء لڑائی رکوانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن اسرائیل نے فائربندی کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ فرانس کے صدر نکولا سرکوزی نے جو خطے کے دورے پر ہیں غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے لڑائی روکنے کی اپیل کی ہے۔
غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال الشفاء میں کام کرنے والے دو غیرملکیوں میں سے ایک ناروے کے ڈاکٹر گلبرٹ نے کہا کہ پیر کو ہسپتال میں بڑی تعداد میں انتہائی زخمی حالت میں لوگ لائے گئے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان میں سے بہت سے ایسے مریض ہیں جن کے اعضاء کٹنے ہیں، سر کی چوٹیں ہیں۔۔۔۔۔اور ظاہر ہے کہ کسی بھی ہسپتال کے لیے یہ ایک انتہائی مشکل صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طبی سامان کی فراہمی بحال نہ ہوئی تو مزید آپریشن کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ’لوگ طبی سامان کی کمی کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ آپریشن کرنے والےتمام کمرے بھر چکے ہیں۔ کل تک ہم ایک کمرے میں دو مریضوں کے آپریشن کر رہے تھے۔’یہ مکمل بربادی ہے‘۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنا رہا اور وہ حماس پر الزام لگاتا ہے کہ وہ گنجان آباد علاقوں میں کارروائی کر کے شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
| اسی بارے میں ’زمینی کارروائی، اکیس بچے ہلاک‘05 January, 2009 | آس پاس حماس اور اسرائیل کے لیے کامیابی کامطلب کیا04 January, 2009 | آس پاس غزہ کارروائی، اسرائیل چاہتا کیا ہے؟05 January, 2009 | آس پاس سرکوزی مشرق وسطی کے دورے پر05 January, 2009 | آس پاس مقاصد کے حصول تک جنگ رہے گی: اسرائیل05 January, 2009 | آس پاس غزہ سے: ’ہم خوف کے سائے میں ہیں‘04 January, 2009 | آس پاس نیویارک:اسرائیل مخالف مظاہرہ04 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||