BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 January, 2009, 08:42 GMT 13:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فائربندی قرارداد منظور، رات کو پچاس حملے

غزہ کی النور مسجد کا تباہ شدہ ڈھانچہ
اسرائیلی فوجی کارروائی میں لامحدود پیمانے پر تباہی ہوئی ہے

اسرائیلی جنگی جہازوں نے جمعرات کی رات کو غزہ پر بمباری جاری رکھی جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل اور حماس کے درمیان فوری فائربندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران اسرائیلی طیاروں نے کم سے کم پچاس حملے کیے۔ ایک حملے میں اطلاعات کے مطابق پانچ لوگ ہلاک ہوئے۔

سلامتی کونسل نے ایک قرارر داد کے ذریعے فائربندی، امدادی کارکنوں کو متاثرہ علاقوں میں آنے جانے کی سہولت اور تنازعہ کےدیرپا حل کامطالبہ کیا۔ تقریباً دو ہفتوں سے جاری لڑائی میں مختلف اندازوں اب تک سات سو ستر فلسطینی اور چودہ اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔


سلامتی کونسل کے 14 اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ امریکہ نے ووٹ نہیں ڈالا۔ فرانس کے وزیرِ خارجہ بیئرنار کوشنیئر نے کہا کہ کونسل کے اراکین دونوں طرف کے متاثرین کی حالتِ زار دیکھ کر پریشان ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ تسیپی لیونی نے کہا کہ اسرائیل اپنے شہریوں کی سلامتی کو سامنے رکھتے ہوئے اقدام کرتا رہے گا۔

’بچے اور ہلاکشدہ مائیں‘
 ایک گھر میں بارہ لاشیں پڑی تھیں جبکہ چار بمشکل زندہ بچے اپنی مردہ ماؤں کے پاس پڑے تھے۔ یہ گھر ایک اسرائیلی فوجی چوکی سے محض اسی میٹر کی دوری پر تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں موجود اسرائیلی فوجیوں کو واضع طور پر علم تھا کہ اِن گھروں میں کیا ہو رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کی ریڈ کراس آئی سی آر سی کو اِس علاقے میں جانے کی درخواست رد کر کے زخمی ہونے والوں کی مدد کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی
آئی سی آر سی

غزہ اسرائیل سرحد پر موجود بی بی سی کی ایک نامہ نگار نے بتایا کہ جمعہ کی صبح بھی دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی تھیں اور غزہ کی پٹی کے اوپر دھواں نظر آ رہا تھا۔

قرارداد میں غزہ میں روک ٹوک کے بغیر امدادی سامان کی ترسیل یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں ممبر ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کریں کہ فائربندی کو مستقل بنایا جا سکے۔ ان میں، قرارداد کے مطابق، غزہ میں غیر قانونی طریقے سے اسلحے کی سپلائی کو روکنا بھی شامل ہے۔

امریکہ کی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ووٹ اس لیے نہیں ڈالا کہ وہ پہلے مصر کی طرف سے کی گئی مصالحت کی کوششوں کا نتیجہ دیکھنا چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ووٹ ڈالے بغیر بھی امریکہ قرارداد کے متن کی حمایت کرتا ہے۔

دریں اثناء ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ غزہ میں فوجی کارروائی سے زخمی ہونے والوں کو وہاں سے نکالنے اور ان کا علاج کرنے کے بین الاقوامی قوانین کے تحت ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔

امریکہ کی کونڈولیزا رائس، فرانس کے برنارڈ کوشنر، اور لبنان کے فوزی سلوکھ
مغربی اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ تمام دن مذاکرات کرتے رہے

جینیوا کنوینش کی پاسداری کی ذمہ دار تنظیم آئی سی آر سی نے جینیوا میں اپنے صدر دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ اُن کی امدادی جماعتیں کئی دن تک غزہ میں داخل نہیں ہوسکیں اور جب آخر کار وہ وہاں گئیں تو انہوں نے وہاں بڑی تعداد میں لاشیں، زخمی اور صدمے کا شکار افراد دیکھے جن میں بچے بھی شامل تھے۔

بی بی سی کی ایموگن فولکس لکھتی ہیں کہ روائیتی طور پر غیر جانبدار بین الاقوامی ریڈ کراس کی طبی ٹیموں نے جو غزہ میں دیکھا اسے انہوں نے دل دہلا دینے والے مناظر قرار دیا۔ چار دن کی تاخیر کے بعد اسرائیلی فوج نے ریڈ کراس کو غزہ کے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجاز ت بدھ کے روز دی۔

آئی سی آر سی کے ڈپٹی ڈائیریکٹر آپریشنز ڈومینک سٹل ہارٹ نے یہ مناظر بیان کرتے ہوئے کہا: ’ایک گھر میں بارہ لاشیں پڑی تھیں جبکہ چار بمشکل زندہ بچے اپنی مردہ ماؤں کے پاس پڑے تھے۔ یہ گھر ایک اسرائیلی فوجی چوکی سے محض اسی میٹر کی دوری پر تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں موجود اسرائیلی فوجیوں کو واضع طور پر علم تھا کہ اِن گھروں میں کیا ہو رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کی ریڈ کراس آئی سی آر سی کو اِس علاقے میں جانے کی درخواست رد کر کے زخمی ہونے والوں کی مدد کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔

اسرائیلی فوجی
اسرائیلی کارروائی میں اب تک 765 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں

عام طور پر غیر جانبدار رہنے والی ایک تنظیم کی جانب سے یہ خاصے سخت الفاظ ہیں۔ شاید ریڈ کراس نے اس سے پہلے کبھی بھی اتنا قریب ترین اور واضع اشارہ نہیں دیا کہ اسرائیل غزہ میں جینیوا کنوینشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت حالت جنگ میں مخالفین کی ذمہ داری ہے کہ وہ زخمیوں کا علاج کریں یا ان کا آزاد طبی ٹیموں کے ذریعے علاقے سے انخلاء ممکن بنائیں۔ آئی آر سی کا کہنا ہے کہ یہ واضع ہے کہ اسرائیل اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنے میں کم از کم ایک موقع پر ناکام رہا ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ نے غزہ میں امداد کی فراہمی کا کام روکنے کا اعلان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس کے ایک قافلے پر اسرائیلی ٹینک سے گولہ داغا گیا جس سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔ ایک ترجمان نے کہا کہ یو این کی نتصیبات پر کئی حملے کیے گئے ہیں اور اب امداد کی فراہمی اس وقت تک معطل رہے گی جب تک عملے کی حفاظت کی یقین دہانی نہیں مل جاتی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تفتیش کر رہی ہے۔

غزہحملوں کا تیرہواں دن
غزہ،حملوں کا تیرہواں دن، تصاویر
باراک اوبامااوباما کی خاموشی
غزہ: لڑائی پر خاموشی ،افسوس کا اظہار
یو اینیو این ڈائری
غزہ سفارتکاری میں آئندہ چوبیس گھنٹے اہم
حماس کی تباہی؟
حماس کی تباہی میں عربوں کی دلچسپی کیوں؟
غزہحملوں کا بارہواں دن
غزہ پر حملوں کا بارہواں دن، تصاویر
اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد