فائربندی قرارداد منظور، رات کو پچاس حملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی جنگی جہازوں نے جمعرات کی رات کو غزہ پر بمباری جاری رکھی جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل اور حماس کے درمیان فوری فائربندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران اسرائیلی طیاروں نے کم سے کم پچاس حملے کیے۔ ایک حملے میں اطلاعات کے مطابق پانچ لوگ ہلاک ہوئے۔ سلامتی کونسل نے ایک قرارر داد کے ذریعے فائربندی، امدادی کارکنوں کو متاثرہ علاقوں میں آنے جانے کی سہولت اور تنازعہ کےدیرپا حل کامطالبہ کیا۔ تقریباً دو ہفتوں سے جاری لڑائی میں مختلف اندازوں اب تک سات سو ستر فلسطینی اور چودہ اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔ سلامتی کونسل کے 14 اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ امریکہ نے ووٹ نہیں ڈالا۔ فرانس کے وزیرِ خارجہ بیئرنار کوشنیئر نے کہا کہ کونسل کے اراکین دونوں طرف کے متاثرین کی حالتِ زار دیکھ کر پریشان ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ تسیپی لیونی نے کہا کہ اسرائیل اپنے شہریوں کی سلامتی کو سامنے رکھتے ہوئے اقدام کرتا رہے گا۔
غزہ اسرائیل سرحد پر موجود بی بی سی کی ایک نامہ نگار نے بتایا کہ جمعہ کی صبح بھی دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی تھیں اور غزہ کی پٹی کے اوپر دھواں نظر آ رہا تھا۔ قرارداد میں غزہ میں روک ٹوک کے بغیر امدادی سامان کی ترسیل یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں ممبر ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کریں کہ فائربندی کو مستقل بنایا جا سکے۔ ان میں، قرارداد کے مطابق، غزہ میں غیر قانونی طریقے سے اسلحے کی سپلائی کو روکنا بھی شامل ہے۔ امریکہ کی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ووٹ اس لیے نہیں ڈالا کہ وہ پہلے مصر کی طرف سے کی گئی مصالحت کی کوششوں کا نتیجہ دیکھنا چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ووٹ ڈالے بغیر بھی امریکہ قرارداد کے متن کی حمایت کرتا ہے۔ دریں اثناء ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ غزہ میں فوجی کارروائی سے زخمی ہونے والوں کو وہاں سے نکالنے اور ان کا علاج کرنے کے بین الاقوامی قوانین کے تحت ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
جینیوا کنوینش کی پاسداری کی ذمہ دار تنظیم آئی سی آر سی نے جینیوا میں اپنے صدر دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ اُن کی امدادی جماعتیں کئی دن تک غزہ میں داخل نہیں ہوسکیں اور جب آخر کار وہ وہاں گئیں تو انہوں نے وہاں بڑی تعداد میں لاشیں، زخمی اور صدمے کا شکار افراد دیکھے جن میں بچے بھی شامل تھے۔ بی بی سی کی ایموگن فولکس لکھتی ہیں کہ روائیتی طور پر غیر جانبدار بین الاقوامی ریڈ کراس کی طبی ٹیموں نے جو غزہ میں دیکھا اسے انہوں نے دل دہلا دینے والے مناظر قرار دیا۔ چار دن کی تاخیر کے بعد اسرائیلی فوج نے ریڈ کراس کو غزہ کے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجاز ت بدھ کے روز دی۔ آئی سی آر سی کے ڈپٹی ڈائیریکٹر آپریشنز ڈومینک سٹل ہارٹ نے یہ مناظر بیان کرتے ہوئے کہا: ’ایک گھر میں بارہ لاشیں پڑی تھیں جبکہ چار بمشکل زندہ بچے اپنی مردہ ماؤں کے پاس پڑے تھے۔ یہ گھر ایک اسرائیلی فوجی چوکی سے محض اسی میٹر کی دوری پر تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں موجود اسرائیلی فوجیوں کو واضع طور پر علم تھا کہ اِن گھروں میں کیا ہو رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کی ریڈ کراس آئی سی آر سی کو اِس علاقے میں جانے کی درخواست رد کر کے زخمی ہونے والوں کی مدد کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔
عام طور پر غیر جانبدار رہنے والی ایک تنظیم کی جانب سے یہ خاصے سخت الفاظ ہیں۔ شاید ریڈ کراس نے اس سے پہلے کبھی بھی اتنا قریب ترین اور واضع اشارہ نہیں دیا کہ اسرائیل غزہ میں جینیوا کنوینشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت حالت جنگ میں مخالفین کی ذمہ داری ہے کہ وہ زخمیوں کا علاج کریں یا ان کا آزاد طبی ٹیموں کے ذریعے علاقے سے انخلاء ممکن بنائیں۔ آئی آر سی کا کہنا ہے کہ یہ واضع ہے کہ اسرائیل اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنے میں کم از کم ایک موقع پر ناکام رہا ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ نے غزہ میں امداد کی فراہمی کا کام روکنے کا اعلان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس کے ایک قافلے پر اسرائیلی ٹینک سے گولہ داغا گیا جس سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔ ایک ترجمان نے کہا کہ یو این کی نتصیبات پر کئی حملے کیے گئے ہیں اور اب امداد کی فراہمی اس وقت تک معطل رہے گی جب تک عملے کی حفاظت کی یقین دہانی نہیں مل جاتی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تفتیش کر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں غزہ میں امدادی کام بند کرنے کا اعلان08 January, 2009 | آس پاس ’زمینی کارروائی، اکیس بچے ہلاک‘05 January, 2009 | آس پاس حماس اور اسرائیل کے لیے کامیابی کامطلب کیا04 January, 2009 | آس پاس غزہ کارروائی، اسرائیل چاہتا کیا ہے؟05 January, 2009 | آس پاس سرکوزی مشرق وسطی کے دورے پر05 January, 2009 | آس پاس مقاصد کے حصول تک جنگ رہے گی: اسرائیل05 January, 2009 | آس پاس غزہ سے: ’ہم خوف کے سائے میں ہیں‘04 January, 2009 | آس پاس نیویارک:اسرائیل مخالف مظاہرہ04 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||