BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 January, 2009, 01:20 GMT 06:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فائربندی کے اصول قبول، جنگ جاری
اسرائیلی ٹینک
27 دسمبر سے شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک 670 افراد ہلاک ہو چکے ہیں
غزہ پر اسرائیلی حملے کو اب تیرہواں دن ہے اور اسرائیل اور حماس دونوں پر سخت دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ فائر بندی کی شرائط قبول کرلیں۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ مصر اور فرانس نے فائر بندی کا جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے بارے میں وہ اسرائیل اور عرب ملکوں سے متواتر بات کر رہی ہیں۔ حماس نے کہا ہے کہ اسے مثبت اشارے ملے ہیں اور اسرائیل منصوبے کی تفصیلات جاننے کے لیے اپنے ایک اعلیٰ افسر کو قاہرہ بھیج رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں مصر کے سفیر ماجد عبدالعزیز نے کہا ہے کہ امکان ہے کہ اسرائیل اور حماس کا تیکنیکی عملہ آج یعنی جمعرات کو قاہرہ پہنچے لیکن ضروری نہیں کہ وہ آمنے سامنے بیٹھ کے بات کریں۔

فلسطینی
اسرائیلی حملوں میں فلسطینی بچوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی ہے

تاہم نیو یارک میں سلامتی کونسل کا اجلاس ابھی تک تعطل کا شکار ہے۔ مصری سفیر نے کہا کہ عرب ممالک سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری کا انتظار نہیں کرسکتے۔

مصری سفیر ماجد عبدالعزیز نے کہا کہ ’ہم دو ہفتے اس انتظار میں نہیں گزار سکتے کہ کب عمل اور عمل کی تفصیلات طے ہوتی ہیں۔ اور اس دوران میں ڈھائی سو آدمی اور ہلاک ہو جائیں ابھی کل ہی ایک سکول میں چالیس بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ تو ہم عمل چاہتے ہیں۔ سلامتی کونسل کی اپنی ذمہ داریاں ہیں اور اسے چاہیے کہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔‘

اسرائیل نے غزہ میں تین گھنٹے کے وقفے کے بعد دوبارہ حملے شروع کردیے ہیں۔
گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے تین گھنٹے کے لیے فائر بندی کی تھی تاکہ لوگ اپنی ضروریات کی اشیاء خرید سکیں اور غزہ میں رسد پہنچائی جا سکے۔

اسرائیل نےکہا ہے کہ حملوں میں یہ وقفہ اب روز ہوا کرے گا لیکن اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یہ وقفہ کافی نہیں کیونکہ اُنہیں تقریباً ساڑھے سات لاکھ افراد تک خوراک پہنچانی ہے اور اس کے لیے مستقل فائر بندی انتہائی ضروری ہے۔

فلسطینیوں کی مدد کے لیے قائم اقوام متحدہ کی ایجنسی انروا (Unraw) کے ترجمان کرس گنیس کا کہنا ہے کہ یہ تماشا کافی نہیں ہے۔

کونڈولیزا رائس
امریکہ مصر اور فرانس نے فائر بندی کے منصوبے کی حمایت کرتا ہے

’تین گھنٹے کا یہ تماشا کافی نہیں ہے جس میں لوگ بم زدہ گھروں سے نکل کے دوڑے دوڑے پھر رہے ہیں کہ جو ہاتھ لگے جلدی سے بھر لو۔ ہمیں وہ بات چاہیے جسے دنیا کا ہر سمجھدار آدمی قابل قبول بات کہے گا کہ یہ تصادم بند کیا جائے اور ہم لوگوں کو، جنہیں بین الاقوامی ادارے نے ساڑھے سات لاکھ انسانوں کی مدد کا کام سونپا ہے،اپنا کام کرنے کا موقع دیا جائے۔‘

فلسطینیوں اور اقوام متحدہ کی جانب سے آنے والے اعداد کے مطابق بارہ دن کے اسرائیلی حملوں میں چھ سو ستر افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اور بی بی سی کے نامہ نگار کی اطلاع ہے کہ اسرائیلی کمانڈر حملوں کی کارروائی کو ایک نیا رخ دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس سے قبل بدھ کو اسرائیل نے غزہ میں فائر بندی کے اصولوں پر راضامندی ظاہر کی تھی لیکن فائر بندی کی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک ریگیو نےکہا ہے کہ ’طے شدہ اصولوں‘ کے مطابق جنگ بندی کی تفصیلات طے کرنا سب سے بڑا چیلنج ہیں۔

دریں اثناء ویٹیکن کے وزیر انصاف کارڈینل مارٹینو نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کی سخت الفاظ میں تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ غزہ concentration camp یا جبری نظر بندی کا کیمپ بن چکا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ویٹیکن نے پہلے کبھی ایسے سخت الفاظ استعمال نہیں کیے۔ کارڈینل مارٹینو نے دونوں فریقوں پر تنقید کی ہے کہ دونوں اپنے اپنے مفاد کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور عام آدمی اپنی جان دے کر اس کی قیمت ادا کر رہا ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد