صدر عباس کی کشمکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہزاروں فلسطینی پرچموں کے درمیان صرف ایک لمحے کے لیے حماس کا لمبا ہرا بینر نظر آتا ہے۔ پلک جھپکتے ہی سکیورٹی فورسز اس شخص کو گرفتار کر لیتی ہیں۔ اور تھوڑی ہی دیر کے بعد ایک اور کو پکڑا جاتا ہے۔ یہ نظارہ ہے رام اللہ کا جہاں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں کے خلاف فلسطینی جمہہ کی نماز کے بعد احتجاج کر رہے ہیں۔ احتجاج کے سبب فلسطینی اتھارٹی نے سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے ہیں۔ جب دو ہفتے قبل اسرائیل نے غزہ پر ہوائی حملے شروع کیے تو اس وقت خطے کے لوگ نو جنوری کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ کیونکہ بقول حماس اس دن فلسطین کے صدر محمود عباس کے عہدے کی مدت ختم ہونی تھی۔ حماس کا کہنا تھا کہ نو جنوری کے بعد وہ محمود عباس کو صدر تسلیم نہیں کریں گے۔ لیکن غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد تصویر کا رخ بدل گیا۔ حماس کی جانب سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ لبنان میں ایک ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ اس دن کے بعد سے وہ عباس کو صدر تسلیم نہيں کریں گے لیکن غزہ میں بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے یہ مناسب وقت نہیں ہے۔ ادھر کئی لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ صدر عباس کے تئيں غصے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ جنگ کے بعد صدر عباس کی جانب سے دیے گئے پہلے بیان سے لوگ کافی ناراض ہوئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حماس چھ مہینے سے جاری جنگ بندی کو آگے بڑھا دیتا اور جنوبی اسرائیل ميں احمقانہ راکٹ حملے نہ کرتا تو اسرائیلی کارروائی سے بچا جاسکتا تھا۔ اس کے علاوہ کئی لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ گزشتہ برس میں جس طرح صدر عباس نے بین الاقوامی رہنماؤں سے بات چیت کی ہے، اس کا کوئی ٹھوس اثر نہيں ہوا ہے۔ برزٹ یونیورسٹی کے سیاسی تجزیہ کار جارج گیاسمین کے مطابق’اسرائیل کی جانب سے ان حملوں نے فلسطینی اتھارٹی پر مزید سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت حماس اور غزہ کی آبادی کو متاثرہ قرار دیا جا رہا ہے اور فلسطین اتھارٹی نقصان میں ہے۔ دکاندار طارق نخلی دور سے ہی احتجاج کو دیکھتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب وہ صدر عباس کی حمایت کرتے تھے لیکن اب وہ حماس کی حمایت کرتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ انہیں اب صدر نہیں رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے’ فلسطین اتھارٹی کو لوگوں کو مارنا نہیں چاہیے، انہیں غزہ کے لوگوں کے ساتھ ہونا چاہیے نہ کہ ان کی مخالفت کرنی چاہیے۔‘
انجینئیر ساری سعادی کا کہنا تھا’پہلے میں حماس کے خلاف تھا میں ان کے سیاسی اور مذہبی موقف کے خلاف تھا لیکن جو کچھ ہوا اس کے بعد اب میں ان کی حمایت کرتا ہوں۔‘ حالانکہ احتجاج میں شامل کئی افراد صدر عباس کی حمایت بھی کر رہے تھے۔ چالیس سالہ رانیا ابراگٹ کے مطابق’ میں صدر عباس پر یقین کرتی ہوں ہاں کچھ نکات پر ان کی مخالفت بھی کرتی ہوں لیکن مجھے یقین ہے وہ نہیں چاہتے کہ ان کے لوگ مارے جائيں۔‘ صدر عباس کے عہدے کو لیکر جو بحث جاری ہے اس میں حماس اس بات پر اڑی ہوئی ہے کہ صدر عباس چار برس کے لیے منتخت ہوئے تھے جو نو جنوری کو پورے ہوگئے۔ جبکہ صدر عباس 2010 ميں ہونے والے فلسطینی قانون ساز کونسل کے انتخابات تک اپنے عہدے پر فائذ رہنا چاہتے ہیں۔ صدر عباس کے چیف آف سٹاف رفیق حسینی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ عوام صدر عباس کے خلاف ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے غرب اردن بالکل غزہ میں اپنے لوگوں کی حمایت کرتا ہے لیکن ساتھ ہی وہ حماس کو یہ بھی کہنا چاہتا ہے کہ وہ اسرائیل کو (راکٹ حملے کر کے) موقع فراہم نہ کرے۔ دو ہزار چھ ميں حماس کے ٹکٹ پر رکن پارلیمان منتخب کیے گئے محمود محسن کہتے ہیں کہ حماس نے دو ہزار چھ کا انتخاب جیتا ہے اور انہیں جتنی اتھارٹی ملنی چاہیے اتنی دی جانی جاہیے۔ انہيں اس بات کا یقین ہے کہ حماس کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے کئی گرفتاریوں کے باوجود حماس کو عوام کی حمایت حاصل ہے۔ ’لوگ کھل کر یہ کہہ نہیں سکتے کیونکہ انہيں گرفتار کیے جانے کا ڈر ہے۔‘ پروفیسر گیاسمین کے مطابق حماس کا نرم رویہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس اب یہ احساس ہوگیا ہے کہ اسرائیل سے جب جنگ بندی ہوگی تو اس کی ایک شرط یہ بھی ہوگی کہ رفع کراسنگ پر کنٹرول میں فلسطینی اتھارٹی بھی شامل ہو۔ بھلے ہی سبھی کو امید صرف انتخابات سے ہے لیکن غزہ پر ہو رہی مسلسل بمباری کو دیکھتے ہوئے انتخابات کے دور دور تک آّثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ’میری بیوی، بیٹوں کی لاشیں گھر میں‘09 January, 2009 | آس پاس سکیورٹی کونسل کی قرارداد کا متن09 January, 2009 | آس پاس اقوامِ متحدہ کی قراداد مسترد09 January, 2009 | آس پاس غزہ فائربندی کی قرار داد منظور09 January, 2009 | آس پاس تین ملین ڈالر تاوان: جہاز ’رہا‘09 January, 2009 | آس پاس اسرائیل اور امریکہ پر شدید تنقید10 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||