’بیالیس فیصد مرنے والے بچےاورعورتیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے رابطہ کار برائے ہنگامی امداد جان ہومز کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے چالیس فیصد سے زائد بچے اور عورتیں ہیں اور علاقے میں جس بڑے پیمانے پر تشدد ہو رہا ہے اسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ نیویارک میں ایک بریفنگ کے دوران جان ہومز کا کہنا تھا کہ غزہ میں اس وقت تشدد کی جو قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے اس کا خیال ہی روح فرسا ہے۔ بی بی سی اردو کے نامہ نگار حسن مجتبٰی کے مطابق نیویارک میں ذرائع ابلاغ کو مشترکہ بریفنگ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی انسانی امدادی ایجنسی کے انڈر سیکرٹری جنرل جان ہومز اور اقوام متحدہ کی ہی انسانی امدادی ایجنسی’انرا‘ کے سربراہ جان گینک نے بتایا کہ اس وقت غزہ میں پانچ لاکھ لوگ پانی سے محروم ہیں اور انہیں پانی کی فوری فراہمی کا کوئي ذریعہ نہیں کیونکہ پانی کے تمام کنویں ان مقامات پر ہیں جہاں اس وقت جھڑپیں جاری ہیں۔ غزہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے جان گینک نے کہا کہ غزہ کا الشفا ہسپتال اس وقت انسانی مصائب کی صحیح تصویر کشی کر رہا ہے جہاں شدید زخمی اور انتہائي جھلسے ہوئے بچے اور حاملہ عورتیں داخل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد بچے اور عورتیں اپنے اعضا سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اسرائيلی دعوؤں کے برعکس انہوں نے الشفا ہسپتال میں حماس کا کوئی بھی رہنما یا ان کی طرف سے چھپایا ہوا اسلحہ نہیں دیکھا اور نہ ہی انہیں ہسپتال میں حماس کی کمین گاہ ہونے کے کوئي شواہد ملے۔جان گینک نے بتایا کہ الشفاء ہسپتال میں اب غیر ملکی رضاکار اور طبی عملہ بھی فلسطینی طبی عملے کے شانہ بشانہ زخمیوں کی دیکھ بھال میں حصہ لے رہا ہے۔ اسی بریفنگ کے دوران جان ہومز کا کہنا تھا کہ فلسطینی وزارتِ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق اب تک ہلاک ہونے والے افراد میں سے دو سو ستّر بچے اور ترانوے عورتیں ہیں اور یہ اعدادوشمار مرنے والوں کی کل تعداد کا بیالیس فیصد کے قریب بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کے پاس ان اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق کے ذرائع موجود نہیں تاہم ان کے خیال میں ان اعدادوشمار پر یقین کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس جنگ میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ میڈیا میں غزہ میں زخمی ہونے والوں کے شدید جھلسے اور خون رستے جسموں کو اسرائیلی حملے فاسفورس بموں کا نشانہ بتایا گيا ہے لیکن وہ اپنے ذرائع سے تاحال اس کی تصدیق نہیں کر سکے کہ اسرائیل نے غزہ میں فاسفورس بم استعمال کیے ہیں۔ |
اسی بارے میں نو سو کے قریب ہلاکتیں، ریزرو فوج بھی میدان میں12 January, 2009 | آس پاس غزہ میں فاسفورس بموں کا استعمال:طبی عملہ11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں کارروائی کے خلاف مظاہرے11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں بمباری، مصر میں مذاکرات10 January, 2009 | آس پاس اسرائیل اور امریکہ پر شدید تنقید10 January, 2009 | آس پاس غزہ: امدادی کارروائی بحال، حملے جاری10 January, 2009 | آس پاس غزہ فائربندی کی قرار داد منظور09 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||